میں پاکستان کی ہوں اور پاکستان میرا ہے

میرا نام روخانہ رحیم وزیر ہے اور میرا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈہ دربہ خیل سے ہے اور میں نسل در نسل پاکستان کی شہری ہوں۔ اس وقت میں اسلام آباد میں نوے ژوند تنظیم کی پریس سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہوں۔

ہمارے شناختی کارڈ کچھ وجوہات کی بنا پر بلاک ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں ہمیں چار ماہ تک اسلام آباد کے افغان ڈیپورٹیشن سینٹر میں قید اور ذہنی اذیت کے عالم میں رہنا پڑا۔ وہ وقت ہمارے لیے انتہائی کٹھن تھا ہر دن ایک آزمائش اور ہر لمحہ صبر کا امتحان۔ تاہم، ان تمام مشکلات کے باوجود ہمارے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

پاکستان ہماری جان ہے، ہماری پہچان ہے اور ہماری مٹی ہے۔ اگرچہ اپنے گھر سے دوری اور قید کی ذہنی تکالیف شدید تھیں، مگر اپنے ملک کی خاطر یہ سب ہمارے لیے ایک قربانی کی صورت اختیار کر گئیں۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں ہم نے آنکھ کھولی، یہی وہ مٹی ہے جس میں ہماری جڑیں پیوست ہیں اور اسی میں ایک دن ہمیں لوٹ جانا ہے۔ یہ میرا وطن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

میں اپنی صحافی برادری، دوستوں، سماجی اور سیاسی کارکنوں کی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ہماری گرفتاری کے دوران ہمارے حق میں آواز بلند کی۔

خصوصی طور پر سینیئر صحافی سبوخ سید اور ان کی اہلیہ رابعہ سید کی شکر گزار ہوں، جنہوں نے بارہا ہمارے لیے لکھا اور اپنے ادارے آئی بی سی اردو کے ذریعے ہر وقت میرے حق میں آواز اٹھائی۔

اسی طرح نوے ژوند کے چیئرمین اور پختون جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر نسیم مندوخیل، کابینہ ممبران، سینئر وائس چیئرمین راج خان مروت، سینئر جنرل سیکرٹری صحافی خانزیب محسود، وائس چیئرمین بخت بیدار ایڈووکیٹ اور جائنٹ سیکرٹری نور نائب خٹک نے بھرپور تعاون کیا۔

مزید برآں، پختون ایکشن آرگنائزیشن اسلام آباد کے چیئرمین ملک ریاض خان بنگش نے اپنی تنظیم کی جانب سے ایک وفد کی صورت میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے ملاقات کی اور اس معاملے کو وفاقی سطح پر اٹھایا۔

میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کی ممبر فوزیہ خان، وزیرستان کے ان صحافیوں اور سوشل ورکرز کی بھی مشکور ہوں، جنہوں نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھرپور حمایت کی۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے بھی اس معاملے میں تعاون کیا، جس پر میں ان کی بھی شکر گزار ہوں۔

ان سب کی مشترکہ کوششوں اور تعاون کے نتیجے میں مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو رات گئے عدالتی حکم پر باعزت رہا کیا گیا۔

آخر میں، میں حکومتِ پاکستان سے درخواست کرتی ہوں کہ ایسے دیگر افراد جو بے گناہ ہیں، انہیں بھی انصاف اور صفائی کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ خود کو پاکستانی شہری ثابت کر سکیں اور اپنے ملک میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

بہت شکریہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے