خاموش کمروں کی چیخیں ؛ پاکستان میں ذہنی مسائل پر خاموشی کب ٹوٹے گی؟

پاکستان ایک ایسا معاشرہ بنتا جا رہا ہے جہاں ہر طرف شور تو بہت ہے، مگر انسان کے اندر کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ سڑکوں پر ہجوم ہے، بازاروں میں رونق ہے، موبائل فون کی اسکرینوں پر ہر وقت قہقہے اور خوشیاں نظر آتی ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک ایسی خاموشی چھپی ہوئی ہے جو آہستہ آہستہ ہزاروں زندگیاں نگل رہی ہے۔ یہ خاموشی ذہنی دباؤ، بے چینی، خوف، تنہائی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی خاموشی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ذہنی مسائل کو بیماری نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کسی شخص کے ہاتھ یا پاؤں میں درد ہو تو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے، مگر اگر کسی کے دل و دماغ پر بوجھ ہو، اگر کوئی انسان ہر وقت اداس رہتا ہو، اگر کسی کو راتوں کو نیند نہ آتی ہو، اگر کسی نوجوان کے اندر جینے کی خواہش ختم ہوتی جا رہی ہو، تو اسے صرف “کمزور ایمان”، “فضول سوچ” یا “ڈرامہ” کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک عجیب روایت ہے کہ انسان کے دکھ کو اس وقت تک دکھ نہیں مانا جاتا جب تک وہ جسم پر نظر نہ آئے۔ اندر سے ٹوٹ جانے والے انسان کو لوگ عام سمجھتے رہتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ روزانہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کا شور صرف اس کے دل کے اندر سنائی دیتا ہے۔

آج پاکستان کا نوجوان سب سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف تعلیم کا بوجھ، دوسری طرف بے روزگاری، مہنگائی، گھر کے حالات، معاشرتی دباؤ اور مستقبل کا خوف۔ ہر نوجوان کے کندھوں پر امیدوں کا اتنا وزن ڈال دیا گیا ہے کہ وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بچوں کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” مگر یہ کوئی نہیں سکھاتا کہ “تم خود کیسا محسوس کرتے ہو؟”

اسی سوچ نے ہزاروں نوجوانوں کو خاموش کر دیا ہے۔ وہ اپنی پریشانی کسی کو بتاتے ہی نہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے، کمزور سمجھیں گے یا انہیں پاگل کہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ہنستے ہوئے بھی اندر سے رو رہے ہوتے ہیں۔

آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار نظر آئے گا۔ کوئی گھر کے حالات سے پریشان ہے، کوئی رشتوں کی ناکامی سے، کوئی مستقبل کے خوف سے، تو کوئی تنہائی سے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے چہروں کو تو دیکھتے ہیں، مگر ان کے دلوں کے اندر جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے۔

سماجی رابطوں کے ذرائع نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ وہاں ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت حصہ دکھاتا ہے۔ مہنگی گاڑیاں، قیمتی کپڑے، خوشحال زندگی، سیر و تفریح، کامیابیاں اور مصنوعی مسکراہٹیں۔ یہ سب دیکھ کر عام نوجوان خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ شاید پوری دنیا خوش ہے اور صرف وہی ناکام ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکثر وہ لوگ جو سب سے زیادہ خوش نظر آتے ہیں، اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں والدین بھی اکثر انجانے میں اپنے بچوں پر اتنا دباؤ ڈال دیتے ہیں کہ بچے اپنی اصل شخصیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر نہیں بن سکتا، مگر ہمارے معاشرے میں کامیابی کے چند مخصوص پیمانے بنا دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان ان پیمانوں پر پورا نہ اترے تو اسے ناکام سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی احساسِ کمتری آہستہ آہستہ ذہنی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان اپنی ذہنی پریشانی کے بارے میں بات کرے تو اکثر لوگ اسے دین سے دوری، کمزور سوچ یا توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ ذہنی مسائل بھی اتنے ہی حقیقی ہیں جتنی جسمانی بیماریاں۔ جیسے بخار، شوگر یا دل کی بیماری کا علاج ضروری ہوتا ہے، ویسے ہی ذہنی تکلیف کا علاج بھی ضروری ہے۔

ترقی یافتہ معاشروں میں ذہنی صحت پر کھل کر بات کی جاتی ہے۔ وہاں تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی مراکز میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو دوسروں کی بات سنتے ہیں، انہیں سمجھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اگر کوئی کسی ماہر کے پاس جائے تو لوگ فوراً اس پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی خوف لوگوں کو مدد لینے سے روکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کے ساتھ ایک اور ظلم یہ ہوتا ہے کہ انہیں رونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بچپن سے انہیں کہا جاتا ہے:
“مرد روتے نہیں”
“مضبوط بنو”
“اتنی سی بات پر پریشان ہو گئے؟”

یہی جملے ایک انسان کو اندر سے پتھر بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات چھپانا سیکھ لیتا ہے، مگر یہی دبے ہوئے جذبات ایک دن اسے مکمل طور پر توڑ دیتے ہیں۔ انسان مشین نہیں ہوتا، اس کے اندر بھی احساسات ہوتے ہیں، درد ہوتا ہے، خوف ہوتا ہے۔ مگر ہمارا معاشرہ انسان کو انسان رہنے ہی نہیں دیتا۔

آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سننا سیکھیں۔ ہر شخص نصیحت نہیں چاہتا، کئی لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات بغیر فیصلہ سنائے سن لے۔ کبھی کبھی ایک نرم لہجہ، ایک سچی توجہ اور چند تسلی کے الفاظ کسی انسان کی زندگی بچا سکتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ذہنی سکون کے لیے اقدامات کریں۔ گھروں میں والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے صرف پڑھائی کے بارے میں نہیں بلکہ ان کے احساسات کے بارے میں بھی بات کریں۔ ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو کریں تاکہ لوگوں میں شعور پیدا ہو۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموش انسان ہمیشہ مضبوط نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ سب سے زیادہ تھکا ہوا انسان ہوتا ہے۔ ہر مسکراہٹ خوشی کی علامت نہیں ہوتی، اور ہر خاموشی سکون کی نشانی نہیں ہوتی۔

پاکستان میں ذہنی مسائل پر بات کرنا اب وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ اپنے دکھ بیان کرنے سے ڈریں، وہ آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سڑکیں، عمارتیں اور ترقیاتی منصوبے نہیں بنانے، بلکہ ایسے انسان بھی بنانے ہیں جو ذہنی طور پر پرسکون، مضبوط اور محفوظ ہوں۔

کیونکہ قومیں صرف معیشت سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ ان لوگوں سے مضبوط بنتی ہیں جن کے دل مطمئن اور ذہن پرسکون ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے