ڈیجیٹل ہجوم اور ایک معصوم بچی: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

یہ واقعہ محض ایک بچی کی وائرل ویڈیوز یا سوشل میڈیا ٹرینڈ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ہمارے معاشرے کے ایک گہرے مسئلے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ (زرتاشہ کاشف (تشو))، جو محض چھ سال کی ایک کم عمر بچی ہے، اچانک قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک ایسی بحث کا مرکز بن گئی جس میں تعریف کم اور تنقید و تضحیک زیادہ نظر آئی۔ حیرت کی بات یہ نہیں کہ ایک بچی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس وائرل لمحے کو کس طرح ایک اجتماعی رویے میں بدل دیا۔

زرتاشہ کی ویڈیوز بنیادی طور پر حب الوطنی، مثبت سوچ اور پاکستان سے محبت کے جذبات پر مبنی تھیں۔ ایک معصوم بچی کا اپنے ملک کے لیے محبت کا اظہار بظاہر ایک فطری اور خوبصورت عمل ہونا چاہیے تھا، مگر سوشل میڈیا کے مخصوص مزاج نے اسے ایک متنازع بیانیے میں تبدیل کر دیا۔ کچھ حلقوں نے اس کے انداز کو “اوور ایکٹنگ” قرار دیا، کچھ نے اسے “سکرپٹڈ” کہا، اور کچھ نے اس کے والدین پر سوالات اٹھائے۔ یہاں سے بات محض رائے کے اظہار سے نکل کر ایک بچے کی ذات تک پہنچ گئی، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

اس تمام صورتحال میں زرتاشہ کے والدین کا ردعمل ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اپنے باضابطہ پریس بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بیٹی کو ایک منظم انداز میں تنقید اور تنازع کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اس کا مواد صرف حب الوطنی اور مثبت پیغام پر مبنی تھا۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایک معصوم بچے کے اظہار کو مسخ کر کے اسے سیاسی رنگ دیا گیا، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ بچوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

والدین نے اس موقع پر حکومتِ پنجاب، بالخصوص صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں مدعو کیا اور ان کے مؤقف کو سنا۔ انہوں نے یہ بھی سراہا کہ عظمیٰ بخاری نے ایک ماں کے طور پر اس معاملے کی حساسیت کو سمجھا اور ہمدردی کے ساتھ ساتھ واضح مؤقف اختیار کیا۔ مزید برآں، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے زرتاشہ کو “پاکستان کا فخر” قرار دینا ایک علامتی مگر اہم پیغام تھا، جس نے اس بحث کو ایک نئی سمت دی۔ اس موقع پر یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ بچوں کے خلاف نفرت، ہراسانی یا استحصال کے معاملے میں “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

زرتاشہ کے والدین نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی بیٹی کے حب الوطنی کے جذبے کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کسی فرد یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، یعنی بچوں کے حق میں ایک مؤقف ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بچوں کو پاکستان سے محبت، آئین کی پاسداری اور قومی اداروں کے احترام کے ساتھ پروان چڑھائیں گے، اور کسی بھی منفی یا گمراہ کن بیانیے کو ان پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ سوشل میڈیا محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک طاقتور سماجی ہتھیار بن چکا ہے، جس کا استعمال مثبت بھی ہو سکتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ جب ایک معصوم بچی کو تنقید، طنز اور کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ یہ پورے معاشرے کی اخلاقی سمت پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنی آزادیِ اظہار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔

آخر میں یہ بات واضح ہے کہ حب الوطنی جرم نہیں ہے۔ ایک بچے کا اپنے ملک سے محبت کا اظہار قابلِ تحسین ہونا چاہیے، نہ کہ تنقید کا نشانہ۔ زرتاشہ کاشف کا معاملہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنے ڈیجیٹل رویوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ کیونکہ آج اگر ایک بچی کو نشانہ بنایا گیا ہے، تو کل یہ کسی بھی بچے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اور اگر ہم نے اب بھی سیکھنے سے انکار کیا، تو مسئلہ صرف سوشل میڈیا کا نہیں رہے گا، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقیات کا بن جائے گا۔

آج کا پیغام بالکل واضح ہے: ایک معصوم بچی کو نشانہ بنایا گیا، مگر اس کی آواز اب پاکستان کے لاکھوں بچوں کی آواز بن چکی ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے