عالمی سیاست کے افق پر جب جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں، طاقتور ممالک آمنے سامنے ہوں اور انسانیت ایک بڑے سانحے کے دہانے پر کھڑی ہو، تو ایسے میں کسی ایک ملک کا مثبت اور مؤثر کردار تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا، جس وجہ سے تمام ممالک شدید تشویش میں مبتلا تھے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کیا بلکہ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کر کے معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت اور غیر معمولی بیان کہ "ایک تہذیب ختم ہو سکتی ہے” عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حالات قابو میں نہ آئے تو بات ایٹمی تصادم تک جا سکتی ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہ رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے۔ دنیا کی نظریں ایران پر مرکوز تھیں اور 8 اپریل کی صبح 5 بجے (پاکستانی وقت) وہ ڈیڈ لائن ختم ہونا تھی جس کے بعد کسی بھی انتہائی قدم کا اندیشہ موجود تھا۔
ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان نے جس بصیرت، حکمت اور متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مثال بھی بن چکا ہے۔
پاکستان، جو ماضی قریب میں معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور عالمی سطح پر محدود اثر و رسوخ جیسے مسائل کا شکار رہا، آج ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے موجودہ قیادت کا کلیدی کردار ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی دانشمندانہ قیادت کے ذریعے نہایت اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔
یہ سفارتکاری محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئی۔ پاکستان نے نہایت تیز رفتار اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ عالمی سفارتی حلقوں میں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ پاکستان نے بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ مزید برآں، یہ بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ اسلام آباد کو ایک بار پھر مذاکرات کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز اسی رواں ہفتے جمعہ کے روز ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان نے امن عمل، اور مسلم دنیا کے مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اس بار صورتحال زیادہ نازک تھی، کیونکہ اس میں عالمی طاقتیں براہِ راست شامل تھیں۔
اگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو یہی پاکستان چند سال قبل شدید معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا۔ نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار تھا اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے تھے۔ لیکن آج وہی پاکستان ایک نئی امید، ایک نئی شناخت اور ایک نئے اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔
یہ کامیابی دراصل ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے، زبوں حالی سے استحکام تک، مایوسی سے امید تک، اور غیر یقینی سے اعتماد تک۔ آج پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی قوت کے طور پر بلکہ ایک ذمہ دار سفارتی طاقت کے طور پر بھی اپنی پہچان بنا رہا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ قیادت نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ ملک کو درست سمت میں لے جانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے۔ اس کامیابی پر وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے خراجِ تحسین پیش کرنا بجا ہے، جنہوں نے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں "Evolving Globe Order” کے موضوع پر ایک شاندار سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں جنرل (ر) زبیر محمود حیات، مشاہد حسین سید اور اعزاز احمد چوہدری نے شرکت کی اور عالمی حالات پر نہایت مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ اس اہم نشست میں پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کرییٹرز کے وفد نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس سمپوزیم کی تفصیلی روداد ان شاء اللہ اگلے کالم میں پیش کی جائے گی۔
آج کا دن پاکستان کے لیے فخر کا دن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قوم کو مایوسی سے نکل کر اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب قیادت مخلص ہو، حکمت عملی واضح ہو اور نیت مضبوط ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔