ایک سیاسی جماعت الیکشن کے دنوں میں بہت پیسہ خرچ کرتی ہے۔ کارکنوں کا کھانا پینا، جلسے جلوس، ٹوپیاں، جھنڈے، بینر، ڈیجیٹل مہم ، اور جو پیسے دے کر ووٹ خریدتے ہیں اُس کا خرچ الگ۔
یہ ایک بڑا مہنگا کام ہے اس میں ہارنے کے لیے میں کروڑوں اربوں خرچ ہوتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ آتا کہاں سے ہے؟
یہ سیاستدان نہ اپنی زمین بیچتے ہیں، نہ اپںے کاروبار کی کمائی لگاتے ہیں۔ تو پھر یہ بے تحاشا دولت کس چشمے سے پھوٹتی ہے؟
آپ کے ذہن میں فوری خیال آئے گا "لوگ چندہ دیتے ہیں۔” لیکن ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ کوئی بھی ان سیاسی جماعتوں کو گالی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دے گا۔
دیکھیے اگر کوئی عام آدمی محلے کی مسجد میں پنکھا لگوا دے، تو وہ بھی اپنا نام بڑے حروف میں لکھواتا ہے۔ لیکن جو شخص کسی سیاسی جماعت کو کروڑوں روپے دیتا ہے، اس کا نام کبھی سامنے کیوں نہیں آتا؟
پاکستان کا قانون سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ اس لیے جائز قرار دیتا ہے تاکہ کوئی لائق سیاستدان محض پیسے کی کمی سے اپنی بات عوام تک پہنچانے میں ناکام نہ رہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی نہیں، بڑے بڑے کاروباری گھرانے اور کمپنیاں ان جماعتوں کو فنڈ کرتی ہیں۔ اور یہ کوئی خیرات نہیں ہے ایک سادہ سا فارمولہ ہے: ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو۔
کمپنی جماعت کو اس لیے پیسہ دیتی ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو کمپنی کو فائدہ پہنچائے۔
جب کوئی جماعت الیکشن جیت کر آتی ہے تو اس کا پہلا کام اپنے "سرمایہ کاروں” کا حساب چکانا ہوتا ہے۔ سوچیے اگر ایک جماعت نے کروڑوں لگائے ہیں، تو کیا وہ اپنی سرمایہ کاری پر منافع نہیں دیکھے گی؟ اور اگر نہ بھی دیکھے، تو اگلے الیکشن کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟
جس پیسے سے اچھی سڑک بن سکتی تھی، اسپتال کھل سکتا تھا، اسکول آباد ہو سکتا تھا وہی پیسہ اب سیاستدانوں کی جیب میں جاتا ہے۔ اور جو کمپنیاں فنڈنگ کرتی ہیں، وہ اپنے فائدے کے لیے قوانین میں ردوبدل کراتی ہیں۔ کمپنی کو ٹیکس میں چھوٹ مل جاتی ہے، جماعت کو فنڈنگ دونوں خوش!
جب نئی حکومت کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کرتی ہے تو ٹھیکہ بھی انہی کمپنیوں کو ملتا ہے جنہوں نے حکومت بنانے میں مدد کی تھی۔ اور آدھی سے زیادہ کرپشن تو یہیں ہو جاتی ہے۔
وزارت سے لے کر نچلے درجے کے ملازم تک جسے جتنا موقع ملتا ہے، اتنا سرکاری خزانہ لوٹتا ہے۔ یہی لوگ پہلے نظام کو خود تباہ کرتے ہیں، پھر "نظام ہی خراب ہے” کا رونا روتے ہیں۔
اگر پولیس اور ادارے واقعی ایمانداری سے کام کرنے لگیں تو ان سیاستدانوں کی جیب نہ بھرے۔ اسی لیے ہر نئی حکومت آتے ہی پولیس اور افسروں کے تبادلے شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں، سب کی ویب سائٹیں ہیں لیکن آج تک کسی نے اپنی فنڈنگ اور اخراجات کی فہرست شائع نہیں کی۔ جان بوجھ کر۔ کیونکہ اگر کسی جماعت کے جیتنے کے بعد کوئی کمپنی اچانک پھلنے پھولنے لگے تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ اندر کیا کھیل ہوا۔
الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق کوئی امیدوار چالیس لاکھ روپے سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتا لیکن چالیس لاکھ میں تو پارٹی ٹکٹ ہی نہیں ملتا۔ ایک بار میدان میں اتریں تو پھر جیتنا ہی مقصد ہوتا ہے، چاہے جتنا بھی خرچ ہو کیونکہ جیتنے کے بعد سب پورا کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن صرف قانون بناتا ہے، یہ لوگ توڑتے ہیں۔
آپ نے کبھی کسی ٹی وی چینل کو سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کا تجزیہ کرتے نہیں دیکھا ہوگا اور نہ دیکھیں گے۔ میڈیا چینلوں کو خبروں سے نہیں، TRP اور پیسے سے مطلب ہے۔ اور جماعتیں انہیں پیسہ دے کر خاموش کرا دیتی ہیں۔
پہلے کے زمانے میں اخبار چھپنے کے بعد بکتا تھا، اب بِکتا ہے پھر چھپتا ہے۔
اگر کوئی صحافی ہمت کر کے ان جماعتوں کا سچ سامنے لانے کی کوشش کرے تو اس پر ہتک عزت کا مقدمہ ٹھوک دیا جاتا ہے۔ مقصد مقدمہ جیتنا یا ہارنا نہیں مقصد اتنا تنگ کرنا ہے کہ قلم اور آواز دونوں بند ہو جائیں۔ اسی لیے ہمت کر کے بھی کوئی ان جماعتوں کے بارے میں زیادہ نہیں بول پاتا۔
پاکستان کی سیاست میں جن سیاستدانوں کے نام آپ جانتے ہیں، ان میں سے ستر سے اسی فیصد پر کوئی نہ کوئی مجرمانہ مقدمہ موجود ہے۔ الیکشن کے لیے ایماندار آدمی نہیں، اثرورسوخ والا آدمی چاہیے۔
فارمولہ سادہ ہے جہاں کسی خاص برادری کی اکثریت ہو، وہاں سے اسی برادری کے "دبدبے والے” شخص کو ٹکٹ دو۔ الیکشن کے وقت یہ خوف پھیلایا جاتا ہے کہ اگر دوسری برادری کا آدمی جیت گیا تو تمہارے لیے کچھ نہیں کرے گا۔ شہروں میں یہ جال اتنا مضبوط نہیں، لیکن دیہی علاقوں میں اس کا پورا استحصال ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے اگر دوسری برادری کا آدمی بھی جیت جائے تو آپ کو مار کر نہیں بھگایا جائے گا، نہ آپ پر ظلم ہوگا۔ یہ صرف خوف بٹھانے کی چال ہے تاکہ آپ یہ نہ سوچ سکیں کہ اصل میں کون آپ کا کام کرے گا۔ اور اگر اپنی برادری کا آدمی جیت بھی جائے تو چار پانچ لوگوں کو نلکا اور بجلی کا کھمبا ملتا ہے، باقی بے وجہ خوش رہتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ہر جماعت اپنے منشور میں انہیں لبھانے والی چیزیں رکھتی ہے کبھی لیپ ٹاپ، کبھی وظیفہ، کبھی بریانی۔ خواتین کو سب سے کم توجہ ملتی ہے کیونکہ جماعتوں کو معلوم ہے کہ جہاں اُن کے مرد ووٹ دیں گے، وہاں وہ بھی جا کر دے آئیں گی۔
پیسے لے کر ووٹ دینا سب سے گھاٹے کا سودا ہے یہ صرف وہی کر سکتا ہے جو نہیں جانتا کہ اس کا نقصان کتنا گہرا ہے۔ ہم جتنی تحقیق ایک نیا فون خریدنے میں کرتے ہیں، اگر اس کی آدھی بھی ووٹ دینے میں لگا دیں تو شاید یہ ملک واقعی بدل جائے۔
یہ تحریر ان سوالوں کا آغاز ہے جو ہر باشعور شہری کو خود سے پوچھنے چاہئیں۔