کیک، کرسی اور قبر

آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو 1789ء کا پیرس یاد آئے گا۔ پیرس کی سڑکوں پر بھوکا، ننگا ہجوم نکل آیا تھا۔ عوام کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی، اور جب یہ دہائی ملکہ میری انتونیٹ تک پہنچی تو اس نے شاہی مصلحت اور معصومیت کے ملے جلے لہجے میں پوچھا: "اگر ان کے پاس روٹی نہیں ہے تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟” ملکہ کا یہ جملہ صرف ایک تاریخی حوالہ نہیں تھا بلکہ اس اشرافیہ کی سوچ کا آئینہ تھا جو عوام کے دکھوں سے مکمل طور پر کٹ چکی تھی۔

آج پاکستان کے حالات دیکھ کر پیرس کا وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی غریب سے "قربانی” مانگتے ہوئے اسے معاشی استحکام کا "کیک” کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غریب کے لیے دو وقت کی سوکھی روٹی بھی اب عیاشی بن چکی ہے۔

پاکستان کی سیاسی بساط پر بچھے مہروں کی چالیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں "عوام” نامی مخلوق کا وجود صرف ووٹ کی پرچی تک محدود ہے۔ سیاست دانوں کے بلند بانگ دعوے، ٹی وی اسکرینوں پر ہونے والے تیکھے مباحثے اور ایک دوسرے پر غداری و چوری کے الزامات،یہ سب اس ڈرامے کے وہ سین ہیں جن کا مقصد صرف اقتدار کی کرسی تک پہنچنا ہے۔ لیکن اس سارے شور و غل میں وہ آواز دب کر رہ گئی ہے جو بھوک، پیاس اور مہنگائی کے ہاتھوں سسک رہی ہے۔

آج کا عام آدمی اس تماشائی کی مانند ہے جو ٹکٹ تو پورا دے چکا ہے مگر اسے اسٹیج پر صرف کرسی کی چھینا جھپٹی دکھائی دے رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایوانوں میں کبھی اس غریب کا ذکر ہوتا ہے جس کا چولہا بجھ چکا ہے؟ کیا بند کمروں کے اجلاسوں میں کبھی اس سفید پوش باپ کی بات ہوتی ہے جو بجلی کا بل دیکھ کر رات بھر سو نہیں پاتا؟ جواب ہے: "ہرگز نہیں”۔ یہاں ترجیحات کچھ اور ہیں۔ یہاں بحث اس پر ہوتی ہے کہ اگلی باری کس کی ہوگی، کس کا بیانیہ زیادہ بکے گا اور کس کی آڈیو لیک کس کو سیاسی فائدہ پہنچائے گی۔ پاکستان میں سیاست اب خدمت نہیں رہی بلکہ ایک ایسا "پاور گیم” بن چکی ہے جس میں کھلاڑی وہی پرانے ہیں، بس کرسیاں بدل گئی ہیں۔

وہی چہرے جو کل ایک دوسرے کو چور کہہ رہے تھے، آج ایک ہی میز پر بیٹھ کر "قومی مفاد” کا سوپ پی رہے ہوتے ہیں۔ اور وہی لوگ جو کل تک انقلاب کی باتیں کرتے تھے، آج اقتدار کی راہداریوں میں مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو رہے ہیں۔

آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، قومیں کبھی سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف، مساوات اور انسانی ترقی سے بنتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تماشہ یہ ہے کہ سڑکیں اس لیے بنائی جاتی ہیں تاکہ تختیاں لگائی جا سکیں اور فوٹو سیشن ہو سکے، جبکہ ہسپتالوں میں کینسر کی دوا میسر نہیں اور سرکاری اسکولوں میں غریب کے بچے کے لیے ٹاٹ بھی نہیں۔ ہم نے جمہوریت کے نام پر ایک ایسا "میوزیم” سجا لیا ہے جہاں موروثیت کا راج ہے اور میرٹ کا جنازہ نکل چکا ہے۔

ایک عام کارکن کی پوری زندگی نعرے لگانے میں گزر جاتی ہے جبکہ قیادت کا منصب صرف خاص خاندانوں کے لیے مخصوص ہے۔ معیشت کا حال دیکھ لیجیے،اعداد و شمار کی جادوگری دکھانے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ہم مستحکم ہو رہے ہیں، لیکن کیا یہ استحکام غریب کی پلیٹ تک پہنچا ہے؟ غریب سے کہا جاتا ہے کہ "گھبرانا نہیں ہے” اور "قومی مفاد میں قربانی دیں”، لیکن جب بجلی کا بل اس کی پوری ماہانہ آمدن کے برابر آ جائے تو وہ قربانی دے یا فاقہ کرے؟

یہ تضاد اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ جب تک ریاست کا قبلہ "عوام دوستی” کی طرف نہیں مڑے گا، تب تک استحکام محض ایک سراب رہے گا۔

سیاست دانوں کی لڑائی ملک بچانے کی نہیں بلکہ اس چابی کو حاصل کرنے کی ہے جو اقتدار کے تالے کھولتی ہے، جبکہ عوام اس تالے کے باہر کھڑے رزق کی تلاش میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔

ہماری سیاست میں "مکالمہ” مر چکا ہے اور اس کی جگہ "مباحثہ” لے چکا ہے جو صرف چیخ و پکار اور الزامات تک محدود ہے۔ جب تک سیاسی جماعتیں موروثیت کے حصار سے باہر نہیں نکلیں گی اور اپنے اندر جمہوری کلچر پیدا نہیں کریں گی، تب تک حقیقی تبدیلی محض خواب ہی رہے گی۔ بیوروکریسی اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ اس ملک کے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، اور سیاسی قیادت اس لوٹ مار میں برابر کی شریک نظر آتی ہے۔

پاکستان کی بقا اب اس میں ہے کہ ہم انا کے بت توڑ دیں۔ ہمیں "میرا لیڈر” کی سحر زدہ دنیا سے نکل کر "میرا ملک” کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو تاریخ ہمیں پچھتاووں کے سوا کچھ نہیں دے گی۔ ہمیں ایک ایسی آزاد عدلیہ، غیر جانبدار انتظامیہ اور بااختیار پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جہاں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔

سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ریاست عوام سے ہوتی ہے، زمین کے ٹکڑوں سے نہیں۔ اگر عوام ہی بھوک سے نڈھال ہو کر سڑکوں پر آ گئے تو پھر نہ یہ بیانیے بچیں گے اور نہ یہ کرسیاں محفوظ رہیں گی۔

تماشہ اب ختم ہونے کو ہے اور تماشائی بیدار ہو رہے ہیں۔ عوام اب لفاظی اور سبز باغوں سے تھک چکے ہیں۔ انہیں اب روٹی چاہیے، سستی بجلی چاہیے اور سب سے بڑھ کر انصاف چاہیے۔ اگر اب بھی قبلہ درست نہ ہوا تو پھر وہی ہوگا جو تاریخ کا جبر رہا ہے۔

یاد رکھیے! جب پیٹ خالی ہوں تو نظریات کی عمارتیں گرنے میں دیر نہیں لگتی۔ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے