دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف واقعات نہیں بلکہ موڑ ہوتے ہیں۔ اپریل 2026 کا یہ دور بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے، عالمی طاقتیں آمنے سامنے تھیں، ایٹمی تصادم کے خدشات بڑھ رہے تھے، اور دوسری طرف ایک ایسا ملک، جسے اکثر داخلی مسائل اور معاشی مشکلات کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، خاموشی سے ایک ایسا کردار ادا کر رہا تھا جو تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ملک پاکستان ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ عالمی سطح پر ایک بڑی جنگ کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، عالمی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہوئیں، اور دنیا بھر کے ممالک تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ ایسے ماحول میں جب امریکی صدر کی جانب سے انتہائی سخت بیانات سامنے آئے اور ایران کی جانب سے بھی جوابی عزم کا اظہار کیا گیا، تو صورتحال کسی بھی لمحے قابو سے باہر ہو سکتی تھی۔
لیکن یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے اپنی سفارتی مہارت، توازن اور حکمت عملی کے ذریعے ایک ایسا کردار ادا کیا جس نے نہ صرف فوری جنگ کو روکا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ایک نئی شناخت بھی قائم کی۔
پاکستان کی اس کامیابی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس پورے منظرنامے کو گہرائی سے دیکھنا ہوگا۔ یہ کامیابی کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل، مربوط اور حکمت عملی پر مبنی سفارتی کوششوں کا ثمر ہے۔ پاکستان نے اس بحران میں فریق بننے کے بجائے سہولت کار کا کردار اختیار کیا، جو کہ کسی بھی حساس تنازع میں سب سے مشکل لیکن سب سے مؤثر حکمت عملی ہوتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے عالمی فورمز پر ایک متوازن اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ ایران کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم رکھا۔ یہ وہ نازک توازن تھا جس نے پاکستان کو دونوں فریقین کے درمیان ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر پیش کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عملی سفارتکاری کے میدان میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی جانب سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے، خلیجی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت نے اس عمل کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ خاص طور پر وہ لمحہ جب انہوں نے سعودی عرب میں موجودگی کے دوران ایران کے ساتھ رابطہ کر کے ایک حساس پیغام پہنچایا، اس سفارتکاری کی باریکیوں کو واضح کرتا ہے۔
دوسری طرف عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش لیکن مؤثر حکمت عملی نے اس پورے عمل کو ایک مضبوط پشت پناہی فراہم کی۔ عسکری سطح پر موجود روابط، انٹیلی جنس تعاون، اور عالمی طاقتوں کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان نہ صرف سفارتی بلکہ سکیورٹی سطح پر بھی ایک قابلِ اعتماد کردار ادا کرے۔
یہی وہ سویلین اور ملٹری ہم آہنگی تھی جس نے پاکستان کو اس بحران میں ایک منفرد حیثیت دی۔ تاریخ میں کم ہی مواقع ملتے ہیں جب کسی ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہی ہو، اور یہی ہم آہنگی پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔
پاکستان کی سفارتکاری صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئی۔ بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بحال کیے گئے۔ مختلف ممالک، خصوصاً چین، سعودی عرب اور قطر کو اعتماد میں لیا گیا، جس سے اس عمل کو ایک علاقائی اور عالمی حمایت حاصل ہوئی۔
چین کا کردار بھی اس پورے عمل میں انتہائی اہم رہا۔ چین نے نہ صرف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی بلکہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح ایک ایسا سفارتی اتحاد تشکیل پایا جس نے اس بحران کو قابو میں رکھنے میں مدد دی۔
اسی دوران گیلپ کے سروے نے ایک اور اہم پہلو کو اجاگر کیا۔ پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت نے حکومت کی جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کی۔ 93 فیصد عوام کی جانب سے اس اقدام کی تائید اور 80 فیصد کی امن کے لیے امید ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف حکومتی پالیسی نہیں بلکہ قومی سوچ بن چکی ہے۔ یہ عوامی حمایت کسی بھی سفارتی کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس پوری سفارتی کوشش کا نقطہ عروج ہیں۔ امریکہ اور ایران کے وفود کا ایک ہی میز پر بیٹھنا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ اعتماد سازی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ان مذاکرات میں جو مسائل زیر بحث ہیں، وہ نہایت پیچیدہ اور دیرینہ نوعیت کے ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ ہے۔ امریکہ اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق کو تسلیم کروانا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا تنازع ہے جو برسوں سے عالمی سیاست کا حصہ رہا ہے اور جس کا حل آسان نہیں۔
اسی طرح اقتصادی پابندیاں ایک اور اہم مسئلہ ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، جبکہ امریکہ مرحلہ وار نرمی کا حامی ہے۔ اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے دونوں فریقین کو لچک دکھانا ہوگی۔
آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی انتہائی حساس ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ایران اس پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اسے مکمل طور پر کھلا اور محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
علاقائی اثر و رسوخ، بیلسٹک میزائل پروگرام، اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف گروہوں کی حمایت جیسے مسائل بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔ یہ تمام معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
اس تمام تر پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ جنگ بندی عارضی ہے۔ مستقل امن کی منزل ابھی دور ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بعض بیانات، لبنان کی صورتحال، اور خطے میں جاری دیگر تنازعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ اپنی سفارتی حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، اور امتحان اس لیے کہ اسے اس کردار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہوگی۔
اس پورے عمل میں ایک اور اہم پہلو پاکستان کی اندرونی صورتحال ہے۔ ماضی میں معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور عالمی سطح پر محدود اثر و رسوخ جیسے مسائل نے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کیا تھا۔ لیکن آج وہی پاکستان ایک نئی شناخت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے۔ مایوسی سے امید تک، کمزوری سے استحکام تک، اور غیر یقینی سے اعتماد تک کا یہ سفر پاکستان کی اجتماعی کوششوں کا عکاس ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی نے نہ صرف عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بہتر کیا ہے بلکہ اس کے اپنے عوام میں بھی ایک نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قوم کو اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اگر قیادت مخلص ہو، حکمت عملی واضح ہو، اور نیت مضبوط ہو تو کوئی بھی چیلنج ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔
ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک اعتراف ہے اس کردار کا جو پاکستان نے اس بحران میں ادا کیا۔
تاہم، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی سیاست میں کوئی کامیابی حتمی نہیں ہوتی۔ ہر کامیابی کے ساتھ نئی ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ پاکستان کو اب نہ صرف اس عمل کو آگے بڑھانا ہے بلکہ خطے کے دیگر مسائل، خصوصاً افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔
مستقبل کے مؤرخ جب اس دور کا جائزہ لیں گے تو شاید وہ لکھیں گے کہ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے اپنی تاریخ کا رخ بدلا۔ جب ایک ملک، جسے اکثر مسائل کا حصہ سمجھا جاتا تھا، حل کا مرکز بن گیا۔
یہ کامیابی صرف سفارتکاری کی نہیں بلکہ ایک سوچ کی کامیابی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتی ہے، تصادم کے بجائے مکالمے کو اہمیت دیتی ہے، اور طاقت کے بجائے حکمت کو اپنا ہتھیار بناتی ہے۔
آج کا دن پاکستان کے لیے فخر کا دن ہے، لیکن یہ فخر صرف ماضی کی کامیابیوں پر نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں پر بھی مبنی ہونا چاہیے۔ کیونکہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
اگر پاکستان اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے، اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھتا ہے، اور خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے، تو وہ نہ صرف ایک علاقائی بلکہ ایک عالمی سفارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک نئی بلندی تک لے جا سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں:
پاکستان زندہ باد۔