پاکستان میں ایچ آئی وی کا بڑھتا چیلنج اور حکومتی امتحان

پاکستان میں صحتِ عامہ کا شعبہ بظاہر ایک منظم ڈھانچے کا حامل نظر آتا ہے، مگر جب اعداد و شمار کی تہہ میں جھانکا جائے تو کئی سنگین حقائق سامنے آتے ہیں جو نہ صرف حکومتی کارکردگی بلکہ سماجی رویّوں اور پالیسی سازی کی سمت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ حالیہ پارلیمانی پیش رفت میں ملک میں ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی تعداد سے متعلق جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس مسئلے کو محض طبی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی سماجی چیلنج کے طور پر دیکھا جائے۔

84 ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ یہ مرض اب کسی مخصوص طبقے یا محدود جغرافیے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس کی زیادہ شرح اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ زیادہ آبادی والے اور شہری دباؤ کے شکار علاقوں میں بیماریوں کا پھیلاؤ نسبتاً تیز ہوتا ہے۔ تاہم اس کے بعد خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کا نمبر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ حکومت کی جانب سے 98 علاج مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کی فراہمی ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سہولیات واقعی ضرورت کے مطابق اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا رہی ہیں؟ علاج کی دستیابی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم بیماری کی بروقت تشخیص، عوامی آگاہی، اور معاشرتی بدنامی کا خاتمہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایچ آئی وی/ایڈز کو اب بھی ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث مریض نہ صرف علاج میں تاخیر کرتے ہیں بلکہ اکثر اپنی بیماری کو چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پارلیمان میں اراکین کی جانب سے اس صورتحال پر اظہارِ تشویش دراصل ایک دیرینہ غفلت کی نشاندہی ہے۔ یہ تشویش اس وقت مزید معنی خیز ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ وزارت صحت سے متعلق سوالات کے بروقت جوابات بھی فراہم نہیں کیے گئے، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس لینا پڑا۔ یہ واقعہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ اس بات کا عکاس ہے کہ صحت جیسے اہم شعبے کو اب بھی وہ ترجیح حاصل نہیں جو اسے ملنی چاہیے۔

ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو کئی عوامل سامنے آتے ہیں، جن میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار، ناقص بلڈ اسکریننگ، منشیات کا انجیکشن کے ذریعے استعمال، اور عوامی شعور کی کمی شامل ہیں۔ ان تمام عوامل کا تعلق نہ صرف صحت کے نظام سے ہے بلکہ سماجی رویّوں اور حکومتی نگرانی سے بھی ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ مسئلہ صرف ڈاکٹروں یا اسپتالوں کا نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکومتی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

مزید برآں، اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت بھی ہے۔ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اگرچہ ایک اہم اشاریہ ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ اصل تعداد کی مکمل عکاسی کرتی ہو۔ بہت سے کیسز ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے یا جن کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے ایک جامع اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تشکیل دیا جائے تاکہ پالیسی سازی مؤثر بنیادوں پر کی جا سکے۔

پارلیمانی سطح پر اس مسئلے کا زیرِ بحث آنا ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر اس کا اصل فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب اسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ محض بیانات اور اعداد و شمار پیش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی درکار ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی، نجی شعبے کی شمولیت، اور سول سوسائٹی کا کردار بھی شامل ہو۔

دوسری جانب، پارلیمان میں دیگر امور جیسے کہ پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کی بندش اور ملازمین کے حقوق سے متعلق وضاحتیں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومتی نظام ایک عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ادارہ جاتی اصلاحات کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم ان اصلاحات کا اصل مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں کو اولین ترجیح دی جائے۔

ایچ آئی وی/ایڈز جیسے حساس مسئلے پر سنجیدہ، مسلسل اور غیر جانبدارانہ توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف حکومتی سطح پر اقدامات کیے جائیں بلکہ معاشرے میں بھی شعور بیدار کیا جائے تاکہ اس بیماری سے جڑے خوف اور بدنامی کو ختم کیا جا سکے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مذہبی و سماجی رہنما اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آخرکار، یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صحتِ عامہ کا کوئی بھی مسئلہ محض طبی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے سماجی، معاشی اور انتظامی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ایک صحت مند اور مستحکم معاشرہ بنانا ہے تو اسے ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ بصورتِ دیگر، اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم محض تشویش کا اظہار کرتے رہ جائیں گے، بغیر کسی حقیقی تبدیلی کے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے