عالمی سفارت کاری کا نیا محور اور پاک-امریکہ-ایران سہ فریقی مذاکرات

حالیہ عالمی سیاسی منظر نامے میں پاکستان کا دارالحکومت، اسلام آباد، محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک عالمی سفارتی مرکزبن کر ابھرا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبداری اور ایران و امریکہ دونوں کے ساتھ اس کے منفرد تعلقات نے اسلام آباد کو اس وقت دنیا کا سب سے معتبر "امن مرکز” بنا دیا ہے اس وقت اسلام آباد عالمی سیاست کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے دنیا کے امن یا ایک بڑی تباہی کا فیصلہ ہونا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا کلیدی کردار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خطے میں امن کا راستہ اب اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان ایک غیر اعلانیہ لیکن انتہائی اہم ملاقات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ "توازن” کی پالیسی اپنائی ہے، اور اب وہ ایک Proxy میدان کے بجائے (ثالث) کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات میں ایران کے جنگ بندی سے متعلق دس نکات میں بنیادی طور پر اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور جوہری پروگرام کے حوالے سے جوہری افزودگی کے حقوق کا اعتراف (فارسی ورژن میں اس کا ذکر ہے)،اور سلامتی سے متعلق ضمانتیں شامل ہیں جبکہ امریکہ کے پندرہ نکات میں واشنگٹن کا اصرار بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی، علاقائی گروہوں کی معاونت کی بندش اور آبنائے ہرمز سمیت دیگربحری راستوں کی حفاظت پر ہے۔ موجودہ صورتحال میں کامیابی کی امید 50/50 ہے۔

جہاں دونوں ممالک جنگ کی بھاری معاشی قیمت سے بچنا چاہتے ہیں، وہاں کچھ قوتیں ان مذاکرات کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں ان میں ہند اور یہود گٹھ جوڑ شامل ہے کیونکہ بھارت اور اسرائیل خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی قد اور ایران کی تنہائی ختم ہونے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلحہ ساز کمپنیاں اورعالمی سطح پر جنگی جنون سے فائدہ اٹھانے والی طاقتیں امن کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو دنیا ایک بھیانک منظر نامے کا سامنا کر سکتی ہےعالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی ہے تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین مفلوج ہو جائے گی اور افراطِ زر کا ایک ایسا طوفان آئے گا جسے سنبھالنا ناممکن ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع پیمانے کی جنگ چھڑ سکتی ہے جو بلاک بندی کو جنم دے گی۔ دنیا واضح طور پر دو حصوں (ایسٹ ورسز ویسٹ) میں تقسیم ہو جائے گی، جس میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ادھر پاکستان نے اس جنگ بندی کی کوششوں سے عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کی ہے پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اب "امن کا داعی” ہے اورخطے میں امن کا مطلب سی پیک اور دیگر تجارت کے طور پر کام کر رہا ہے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک اس وقت ایک انتہائی مشکل صورتحال میں ہیں فروری اور مارچ 2026 میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے وہ ہر صورت میں جنگ بندی چاہتے ہیں۔ سعودی عرب، مصر اور ترکی نے پاکستان کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں ایک نیا گروپ بنایا ہے۔

یہ ممالک چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں صرف امریکہ اور ایران کی مرضی نہ چلے بلکہ ان کے سیکیورٹی تحفظات (جیسے ایرانی میزائل پروگرام) کو بھی شامل کیا جائے خلیجی ممالک ایک طرف تو چاہتے ہیں کہ ایران کی طاقت کم ہو، لیکن دوسری طرف وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر امریکہ نے جنگ ادھوری چھوڑ دی تو ایران کا غصہ ان پر نکلے گا۔ اس لیے وہ "پاکستان میڈی ایشن” کو سب سے محفوظ راستہ سمجھتے ہیں۔مجموعی منظر نامہ میں اس وقت ایک نیا عالمی اتحاد بنتا دکھائی دے رہا ہے جس میں پاکستان، چین، روس اور ترکی ایک طرف ہیں، جو تہران کو ضمانتیں دے رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جنہیں اسرائیل کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات چین اور روس کی ضمانت اور خلیجی ممالک کی تائید کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ دنیا میں امریکی اجارہ داری کے خاتمے اور ایک نئے "ایشین بلاک” کے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں۔ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان کی 21 ویں صدی کی سب سے بڑی سفارتی جیت ہوگی بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے بھی ایک بڑی نوید ثابت ہوگی اسلام آباد کی سڑکوں پر ہونے والی یہ سفارتی جنبش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب عالمی سیاست میں صرف ایک کھلاڑی نہیں، بلکہ "امپائر” کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے