غیر مقبول مگر تلخ حقیقت: سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی سنت

یہ ایک غیر مقبول مگر کڑوی سچائی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی بہترین اخلاقیات، نرم لہجہ اور مسکراہٹیں اجنبی لوگوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ اپنے ہی گھر والوں کے ساتھ ہمارا رویہ اکثر سخت، بے صبری اور لاپرواہی پر مبنی ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہونی چاہیے۔

ہم بازار، دفتر یا محفل میں جائیں تو بڑے خوش اخلاق، مہذب اور برداشت والے بن جاتے ہیں۔ ایک اجنبی کی معمولی سی بات پر بھی مسکرا کر جواب دیتے ہیں، اس کی غلطی کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن جب یہی انسان اپنے گھر کی دہلیز پار کرتا ہے تو اس کے لہجے میں تلخی، چہرے پر سنجیدگی اور رویے میں سختی آ جاتی ہے۔

یہ رویہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی کمی بھی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اصل امتحان ہمارے گھر کے اندر ہے، جہاں ہم سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ بیوی، بچے، والدین اور بہن بھائی ہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے رویے کے اصل حقدار ہیں۔

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ گھر والے تو ہمارے اپنے ہیں، وہ ہماری سختی کو برداشت کر لیں گے، ہماری باتوں کو نظر انداز کر دیں گے۔ لیکن یہی سوچ رشتوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔ محبت، احترام اور حسنِ سلوک وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط خاندان کھڑا ہوتا ہے، اور جب یہی بنیادیں کمزور ہو جائیں تو گھر صرف ایک عمارت رہ جاتا ہے، "گھر” نہیں رہتا۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم دین کی بڑی بڑی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس بنیادی سنت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نرمی، محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ حالانکہ یہی وہ سنت ہے جو معاشرے کی اصلاح کی جڑ ہے۔

اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہمیں اپنے رویے کا آغاز گھر سے کرنا ہوگا۔ اپنے والدین کے ساتھ نرمی، بچوں کے ساتھ شفقت، اور شریکِ حیات کے ساتھ احترام کا رویہ اپنانا ہوگا۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ باہر کی دنیا میں آپ کی اچھی شہرت اس وقت تک ادھوری ہے جب تک آپ کے اپنے گھر والے آپ کے اخلاق کی گواہی نہ دیں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کو اچھا سمجھیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے اپنے لوگ آپ کے ساتھ خوش اور مطمئن ہوں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور خود سے سوال کریں: کیا ہم واقعی اپنے گھر والوں کے ساتھ وہی حسنِ سلوک کرتے ہیں جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں؟ اگر جواب "نہیں” میں ہے، تو یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے تبدیلی کا آغاز ہونا چاہیے۔

کیونکہ سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی سنت یہی ہے . اپنے گھر والوں کے ساتھ مہربانی اور حسنِ سلوک۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے