پولیو کے خلاف قومی جنگ جاری خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں لاکھوں بچوں کو حفاظتی قطرے پشاور کے ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی ٹیمیں متحرک، ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
پشاور ؛ ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی انسدادِ پولیو مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کا آغاز 13 اپریل 2026 سے کیا گیا اور یہ مہم 19 اپریل تک جاری رہے گی۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر (این ای او سی) کے مطابق اس قومی مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بچوں کو وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ان کی قوتِ مدافعت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس اہم مہم کی کامیابی کے لیے ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 13 ہزار پولیو ورکرز اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد، خیبر پختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد، بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد اور اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد اور آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو اس مہم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں اس مہم کے تحت صوبے بھر کے تمام اضلاع میں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جہاں 5 سال سے کم عمر لاکھوں بچوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے 35 ہزار 500 سے زائد پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے 50 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مہم کو محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ پشاور اور خیبر سمیت حساس اضلاع میں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔
فیلڈ سطح پر بھی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ آج پشاور کے مختلف ٹرانسپورٹ اڈوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں پولیو ٹیمیں متحرک نظر آئیں اور مسافروں کے ہمراہ آنے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے تھے۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات عملے کے مطابق وہ روزانہ صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک تقریباً 60 سے 70 بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیمیں ہر ممکن مقام پر بچوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
اسی طرح صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی موبائل ٹیمیں، فکسڈ سائٹس اور ٹرانزٹ پوائنٹس کے ذریعے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بازاروں، یونین کونسلز اور دیہی علاقوں میں خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ اس حفاظتی عمل سے محروم نہ رہ جائے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے ٹیموں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری اور محنت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لازمی طور پر پولیو کے قطرے پلائیں، کیونکہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے جس سے بچاؤ صرف ویکسینیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس قومی فریضے میں عوام کا تعاون ہی پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔