ابھرتا پاکستان اور مخصوص گروہ کا منفی بیانیہ

عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، اور ایسے میں پاکستان کا ابھرتا ہوا مثبت چہرہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی اداروں اور عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو تاثرات سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی اداروں نے پاکستان کی معاشی استحکام، اصلاحات اور پالیسی اقدامات کو سراہا ہے، جو ایک بڑی سفارتی اور اقتصادی کامیابی ہے۔

اس مثبت تبدیلی کے پیچھے جہاں ریاستی اداروں کا مضبوط کردار ہے، وہیں قیادت کی بصیرت بھی نمایاں ہے۔ فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف داخلی استحکام کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔

اسی طرح شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم معاشی بحالی، سفارتی روابط اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی۔ ان کی حکومت نے مشکل فیصلے کیے، جن کے مثبت اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی فورمز پر فعال شرکت اور علاقائی تعاون کے فروغ میں ان کا کردار قابل ذکر ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اب اگر ہم آج کے عالمی حالات، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو دیکھیں تو صورتحال مزید حساس ہو جاتی ہے۔ اس ممکنہ بڑے تصادم، جسے بعض حلقے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے تھے، نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ تاہم اس کشیدگی میں عارضی جنگ بندی اور پھر مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابل تحسین رہا۔

پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر متوازن اور ذمہ دار مؤقف اپنایا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا علمبردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مورال بلند ہوا اور اس کی حیثیت ایک سنجیدہ اور مؤثر ریاست کے طور پر مزید مستحکم ہوئی۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور پڑوسی ملک کے اعتدال پسند سیاسی رہنما بھی پاکستان کے کردار کو سراہنے پر مجبور نظر آئے، جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

اسی تناظر میں شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستان نے مسلم دنیا کو قریب لانے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب حافظ عاصم منیر اور محسن نقوی کا ایران کے دارالحکومت تہران جانا ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ جنگ زدہ حالات میں کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کا خود وہاں جانا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، مگر یہ پاکستان کے امن کے لیے سنجیدہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے آپ کو عالمی سطح پر منوایا بلکہ ایک ذمہ دار، فعال اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کی۔ یہ کامیابیاں ان ہی افراد کی قیادت میں ممکن ہوئیں، جو آج ملک کو مشکل حالات سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

تاہم، اس تمام مثبت پیش رفت کے باوجود ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ ملک کے اندر ایک ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جو ہر کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس گروہ کے نزدیک ایک خاص شخصیت کی اہمیت پاکستان سے بھی بڑھ کر ہے، اور یہی سوچ قومی بیانیے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جب بھی پاکستان عالمی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے، یہ عناصر تنقید کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس داخلی تنقید اور انڈین میڈیا کے بیانیے میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں، مگر جب ملک کے اندر سے بھی وہی آوازیں بلند ہوں تو یہ لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد یا گروہ کی۔ ہمیں شخصیات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا وژن، کون سی پالیسی اور کون سی حکمت عملی ملک کو آگے لے جا رہی ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر مثبت پہچان بنا رہا ہے، تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے متنازع بنایا جائے۔

آج دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور مغربی دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ چند مخالف آوازوں کو چھوڑ کر، عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار، پرامن اور ترقی پذیر ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر تعمیری تنقید اور منفی پروپیگنڈے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر تنقید کا مقصد صرف مخالفت برائے مخالفت ہو، تو وہ قومی مفاد کے خلاف جاتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری گفتگو، ہمارے بیانات اور ہمارا رویہ ملک کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔

پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ درست فیصلے، مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی اسے ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے، اور ہم خود اپنے بارے میں کیا تاثر قائم کر رہے ہیں۔

اگر ہم نے متحد ہو کر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا جاری رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی ایک مضبوط اور باوقار معیشت بن کر ابھرے گا۔ لیکن اگر ہم اندرونی اختلافات اور غیر ضروری تنقید میں الجھے رہے، تو یہ سفر مشکل ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان کا روشن مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اس سفر میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں یا اس کا حصہ بن کر ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے