پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج صرف معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام یا سکیورٹی خدشات نہیں؛ اصل بحران اس سے کہیں گہرا ہے۔ یہ بحران ہمارے سماجی رویوں، کمزور شہری شعور، اختلافِ رائے سے خوف، اور تنوع کو قبول نہ کرنے کی عادت میں چھپا ہوا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے، جہاں مکالمے کے بجائے الزام تراشی ہو، اور جہاں شناختوں کا فرق ایک دوسرے سے دوری پیدا کرے، وہاں قومی ہم آہنگی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

اسی پس منظر میں فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ پاکستان اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کا مشترکہ منصوبہ “Unity in Diversity: Nation Building through Promotion of Civics and Tolerance among Pakistan’s Youth” نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں میں شہری ذمہ داری، برداشت، تنقیدی سوچ، مکالمے کی صلاحیت اور پاکستان کے متنوع سماجی ڈھانچے کے احترام کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے کی دستاویز کے مطابق اس کا محور civic education، tolerance، critical thinking، youth engagement، roundtable discussions، policy dialogue، podcasts اور قومی سطح پر طلبہ کی شمولیت ہے۔
پاکستان ایک متنوع ملک ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، مذاہب، مسالک، صوبائی شناختیں اور سماجی تجربات موجود ہیں۔ یہ تنوع پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے؛ مگر یہ طاقت اسی وقت بن سکتی ہے جب اسے سمجھا جائے، قبول کیا جائے اور تعلیمی و سماجی سطح پر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔ اگر نوجوان نسل کو یہ نہ سکھایا جائے کہ مختلف رائے رکھنے والا شخص دشمن نہیں بلکہ مکالمے کا شریک ہے، تو معاشرہ آہستہ آہستہ عدم برداشت، تعصب اور تقسیم کی طرف بڑھتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں شہری تعلیم یا civics کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو ایک جمہوری اور متنوع معاشرے کے لیے ضروری تھی۔ ہمارے تعلیمی نظام میں اکثر زور امتحانات، نمبروں اور رٹّے پر رہا ہے، جبکہ سوال کرنے، دلیل دینے، اختلاف سننے اور ذمہ دار شہری بننے کی تربیت پیچھے رہ گئی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے “Unity in Diversity” جیسے منصوبے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں یہ کوشش صرف فکری بحث تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے عملی شکل دی گئی۔ نوجوانوں، اساتذہ، ماہرین، سول سوسائٹی، میڈیا اور پالیسی سازوں کو ایک ایسے مکالمے میں شامل کیا گیا جس کا مقصد پاکستان میں برداشت، تنوع اور قومی یکجہتی کے سوال کو دوبارہ مرکزی بحث بنانا تھا۔ اس مرحلے میں تعلیمی مواد، مکالماتی نشستیں، نوجوانوں کی شمولیت، قومی مقابلے، پوڈکاسٹس اور پالیسی سطح کی گفتگو جیسے عناصر شامل رہے، تاکہ موضوع صرف کلاس روم تک محدود نہ رہے بلکہ wider public discourse کا حصہ بنے۔
یہ منصوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں انتہا پسندی کا مسئلہ صرف تشدد کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔ اس کی جڑیں عدم برداشت، سماجی دوری، تعصبات، کمزور شہری شعور اور مکالمے کی کمی میں موجود ہیں۔ جب نوجوان مختلف شناختوں کے بارے میں محدود یا منفی تصورات کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، تو وہ معاشرے کو مشترکہ شہری تجربے کے طور پر نہیں بلکہ الگ الگ خانوں میں بٹی ہوئی حقیقت کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔
ایسی صورت حال میں civic education ایک اضافی مضمون نہیں بلکہ قومی ضرورت بن جاتی ہے۔ یہ نوجوانوں کو بتاتی ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کیا ہے، اختلافِ رائے کی جمہوری اہمیت کیا ہے، اجتماعی مفاد کیوں ضروری ہے، اور ایک ذمہ دار شہری اپنی رائے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رائے کا احترام کیسے کرتا ہے۔ یہی وہ شعور ہے جو معاشروں کو انتہا پسندی اور polarization سے بچاتا ہے۔
“Unity in Diversity” کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو passive audience نہیں سمجھتا۔ یہ انہیں فعال شریک بناتا ہے۔ جب طلبہ مباحثوں، مقابلوں، podcasts، roundtables اور پالیسی گفتگو میں شامل ہوتے ہیں تو وہ صرف معلومات حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی سوچ بناتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، دلیل دیتے ہیں اور دوسروں کو سننا سیکھتے ہیں۔ یہی وہ تربیت ہے جو ایک صحت مند جمہوری معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
اس منصوبے میں بین الاقوامی تجربات اور comparative perspectives کو شامل کرنا بھی ایک مثبت قدم ہے۔ civic education، inclusive teaching methods، intercultural dialogue اور youth engagement کے حوالے سے دنیا کے مختلف معاشروں نے اہم تجربات کیے ہیں۔ پاکستان کو اپنے مقامی تناظر کے مطابق حل درکار ہیں، لیکن عالمی تجربات سے سیکھنا بھی ضروری ہے۔ اس طرح منصوبہ مقامی حقیقت اور بین الاقوامی دانش کے درمیان ایک مفید پل قائم کرتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنی چاہیے: قومی یکجہتی کا مطلب یکسانیت نہیں ہے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ سب لوگ ایک جیسے سوچیں، ایک ہی زبان بولیں، ایک ہی ثقافتی اظہار رکھیں یا ہر مسئلے پر ایک جیسی رائے دیں۔ اصل قومی وحدت یہ ہے کہ مختلف شناختیں، مختلف آوازیں اور مختلف تجربات ایک مشترکہ آئینی، شہری اور جمہوری فریم ورک کے اندر عزت کے ساتھ رہ سکیں۔
یہی “وحدت میں تنوع” کا مرکزی پیغام ہے۔ یہ منصوبہ نوجوانوں کو بتاتا ہے کہ diversity کو خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اختلاف معاشرے کو کمزور نہیں کرتا، بشرطیکہ اسے دلیل، احترام اور مکالمے کے ساتھ handle کیا جائے۔ کمزور معاشرے اختلاف کو دباتے ہیں؛ مضبوط معاشرے اختلاف کو سنتے، سمجھتے اور بہتر فیصلوں میں تبدیل کرتے ہیں۔
پاکستان کی نوجوان آبادی کو اکثر ملک کا مستقبل کہا جاتا ہے، لیکن یہ جملہ اس وقت تک کھوکھلا ہے جب تک نوجوانوں کو بہتر شہری بنانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے۔ صرف ڈگریاں، ملازمتیں اور تکنیکی مہارتیں کافی نہیں۔ اگر نوجوانوں میں tolerance، empathy، civic responsibility اور critical thinking نہ ہو تو تعلیم بھی معاشرتی تقسیم کو کم نہیں کر سکتی۔
اسی لیے اس نوعیت کے منصوبوں کو وقتی سرگرمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ long-term nation building کا حصہ ہیں۔ ان کا تعلق صرف seminar، course یا competition سے نہیں بلکہ اس بڑے سوال سے ہے کہ پاکستان کی آنے والی نسل کس طرح کا معاشرہ تعمیر کرے گی۔ کیا وہ ایسا معاشرہ ہوگا جہاں اختلاف برداشت کیا جائے گا، یا ایسا جہاں مختلف سوچ رکھنے والوں کو خاموش کرایا جائے گا؟ کیا وہ ایسا معاشرہ ہوگا جہاں diversity کو قومی حسن سمجھا جائے گا، یا ایسا جہاں ہر فرق کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا؟
FES Pakistan اور BNU کا یہ مشترکہ اقدام اس سوال کا ایک سنجیدہ جواب پیش کرتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو بتاتا ہے کہ پاکستان کی طاقت اس کی رنگارنگی میں ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ civics، tolerance اور diversity کو تعلیمی اور پالیسی سطح پر مرکزی اہمیت دی جائے۔ یہ منصوبہ اس خلا کو address کرتا ہے جسے نظر انداز کرنے کی قیمت پاکستان نے سماجی کشیدگی، عدم برداشت اور کمزور قومی مکالمے کی صورت میں ادا کی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے اقدامات کو مزید وسعت دی جائے۔ جامعات، اسکولز، میڈیا، سول سوسائٹی اور پالیسی ساز ادارے اس بحث کو آگے بڑھائیں۔ نوجوانوں کو صرف career کے لیے نہیں بلکہ responsible citizenship کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ ایک shared civic promise ہے، جسے ہر نسل کو اپنے رویوں، فیصلوں اور مکالمے سے دوبارہ مضبوط بنانا ہوتا ہے۔
“Unity in Diversity” اسی promise کی یاد دہانی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صرف طاقتور اداروں، بڑی پالیسیوں یا معاشی منصوبوں سے نہیں بنے گا؛ یہ اس وقت بنے گا جب نوجوان ایک دوسرے کو سننا، سمجھنا، اختلاف کرنا اور پھر بھی ساتھ رہنا سیکھیں گے۔ یہی برداشت ہے، یہی شہری شعور ہے، اور یہی قومی یکجہتی کی اصل بنیاد ہے۔