بحیرۂ عرب سے ابھرتی معاشی امید

پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے سے توانائی کے بحران، درآمدی ایندھن پر انحصار، زرمبادلہ کے دباؤ اور صنعتی سست روی جیسے پیچیدہ مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں بحیرۂ عرب کی گہرائیوں میں تیل و گیس کی تلاش کے نئے مرحلے کا آغاز محض ایک تکنیکی یا انتظامی پیشرفت نہیں بلکہ قومی اقتصادی حکمتِ عملی کے ایک نئے باب کی علامت ہے۔ تقریباً اٹھارہ برس بعد پاکستان کی جانب سے آف شور توانائی تلاش کے منصوبوں کو دوبارہ متحرک کرنا اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ریاست اب روایتی زمینی ذخائر سے آگے بڑھتے ہوئے سمندری وسائل کو قومی بقا، معاشی استحکام اور توانائی خود کفالت کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

بحیرۂ عرب میں تئیس گہرے سمندری بلاکس کے معاہدوں پر دستخط ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں توانائی کی سیاست نئی تشکیل سے گزر رہی ہے۔ یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی سپلائی چین کی بے یقینی اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو متبادل اور مقامی ذخائر کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ ممالک بھی سمندری حدود کی جانب متوجہ ہیں جو ماضی میں ان شعبوں میں محتاط رویہ رکھتے تھے۔ پاکستان کا حالیہ اقدام اسی عالمی رجحان کی توسیع معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ملک کو اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ اب بھی درآمدات کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔

یہ حقیقت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان کے پاس دو لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر سے زائد سمندری حدود موجود ہیں، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک وہاں محض اٹھارہ کنویں کھودے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے دہائیوں تک اپنے سمندری وسائل کو سنجیدگی سے دریافت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی آف شور دریافتوں کے ذریعے معاشی انقلابات برپا کیے، جبکہ پاکستان بیوروکریٹک سست روی، سرمایہ کاری کے فقدان، تکنیکی کمزوریوں اور پالیسی عدم تسلسل کے باعث اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ اب جبکہ حکومت نے ایک بار پھر اس سمت قدم بڑھایا ہے تو یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کیا اس بار ریاست ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ پائے گی یا نہیں۔

ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ جیسے قومی اداروں کی وسیع شمولیت اس منصوبے کے لیے اعتماد کا اہم مظہر ہے۔ خاص طور پر ماری انرجیز کا اٹھارہ بلاکس میں بطور آپریٹر کردار اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ملکی کمپنیاں اب پیچیدہ اور گہرے سمندری منصوبوں میں تکنیکی و انتظامی صلاحیت کا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔ اسی طرح ابتدائی طور پر بیاسی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور مستقبل میں ایک ارب ڈالر تک امکانات اس شعبے میں غیر معمولی معاشی سرگرمی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اگر ابتدائی سروے واقعی امید افزا ثابت ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بندرگاہی معیشت، شپنگ، انجینئرنگ، لاجسٹکس، روزگار، ساحلی ترقی اور برآمدی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوں گے۔

سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے یہ پیشرفت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ مکران اور انڈس بیسنز میں جاری سرگرمیاں ان خطوں میں معاشی امکانات کی نئی راہیں کھول سکتی ہیں جہاں دہائیوں سے محرومی، بے روزگاری اور ترقیاتی فقدان کے مسائل موجود ہیں۔ اگر حکومت شفاف پالیسی، مقامی آبادی کی شمولیت اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنائے تو یہ منصوبے ساحلی علاقوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اگر ماضی کی طرح مقامی آبادی کو نظر انداز کیا گیا تو اقتصادی مواقع بھی سیاسی تنازعات اور احساسِ محرومی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس تمام پیشرفت کا ایک نہایت حساس پہلو ماحولیاتی تحفظ بھی ہے۔ گہرے سمندری ذخائر کی تلاش ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک عمل سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں کئی بڑے آف شور حادثات سمندری حیات، ماہی گیری اور ساحلی ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان چونکہ ماحولیاتی نظم و نسق کے میدان میں ابھی تک مطلوبہ ادارہ جاتی قوت حاصل نہیں کر سکا، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مرحلے پر بین الاقوامی حفاظتی معیارات، ماحولیاتی جائزوں اور جدید نگرانی کے نظام کو لازمی بنایا جائے۔ معاشی مفادات کی دوڑ میں سمندری ماحول کو نقصان پہنچانا مستقبل کے لیے ناقابلِ تلافی بحران پیدا کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشرفت سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، لیکن سرمایہ کاری کا تسلسل صرف بیانات سے ممکن نہیں ہوتا۔ توانائی کے شعبے میں پالیسی استحکام، قانونی تحفظ، سیاسی ہم آہنگی اور شفاف معاہدے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں حکومتی پالیسیاں تبدیل ہونے سے منصوبے غیر یقینی کا شکار نہ ہوں۔ پاکستان اگر واقعی اپنی سمندری دولت کو قومی طاقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے محض معاہدوں سے آگے بڑھ کر ایک طویل المدتی اور مربوط توانائی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ سمندر کی تہوں میں پوشیدہ وسائل ہمیشہ فوری معجزہ ثابت نہیں ہوتے۔ دنیا میں کئی ممالک نے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود خاطر خواہ ذخائر دریافت نہیں کیے، جبکہ بعض ریاستوں نے غیر متوقع دریافتوں کے ذریعے اپنی معیشت کا رخ بدل دیا۔ پاکستان اس وقت امکانات اور خدشات کے اسی سنگم پر کھڑا ہے۔ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوتا ہے تو ملک نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے کے قابل ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں اقتصادی خود اعتمادی کی نئی مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔ تاہم کامیابی کا انحصار صرف قدرتی وسائل پر نہیں بلکہ وژن، حکمت، شفافیت اور قومی نظم و ضبط پر بھی ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے