قومی اتحادِ و یکجہتی اور آپریشن بنیان المرصوص

غرور اور تکبر سے بھرپور مودی سرکار نے پھلگھم میں ہونے والے حملے کو موہرا بنا کر پاکستان کے خلاف محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج کروائی۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا، جموں و کشمیر اور اطراف کے مختلف حلقوں میں بھارتی ریاست کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ عوامی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ حملے کے وقت سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟ سی سی ٹی وی کیمرے کیوں غیر فعال تھے؟ اور حملہ آور کس طرح کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے؟

چونکہ بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا، اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پھلگھم واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت کی جانب سے مختلف عسکری اور سیاسی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس کے بعد بھارتی میڈیا پر متضاد اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی جاتی رہیں، جنہیں بعض حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس پورے تناظر میں “آپریشن سندور” کا ذکر بھی سامنے آیا، جس کے دوران رات کی تاریکی میں کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

"اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ

“اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔”

اس صورتحال کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملک پر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں “آپریشن بنیان المرصوص” کا آغاز کیا گیا، جس کا تصور اتحاد، استقامت اور مضبوطی کی علامت ہے۔ “بنیان المرصوص” کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، یعنی ایک ایسی متحد قوت جو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑی ہو۔

قرآنِ مجید میں سورۃ الصف میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس موقع پر پوری پاکستانی قوم یکجہتی کے ساتھ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ دفاعِ وطن کے جذبے نے قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

پاکستانی افواج نے جرات، حکمت اور استقامت کے ساتھ صورتحال کا سامنا کیا، جبکہ ملک میں قومی یکجہتی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔

بعد ازاں صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی طرف پیش رفت کے اشارے بھی سامنے آئے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔”

اس پورے منظرنامے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہے۔
علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

پاکستان زندہ باد۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے