جب ریاست دروازے پر آئی۔ ۔ ۔ !!

رات گہری ہو چکی تھی۔ کچے صحن میں رکھی پرانی چارپائی پر بیٹھی وہ عورت کیلکولیٹر کے بٹن دبا رہی تھی۔ سامنے ایک کاپی کھلی پڑی تھی جس پر چند اعداد درج تھے: "100 ڈالر”، "5 فیصد”، "بچے کی فیس”، "راشن”۔

اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر کاپی کے صفحات پر گر رہے تھے۔ وہ بار بار حساب لگاتی، پھر مٹا دیتی، پھر دوبارہ لگانے لگتی۔ شاید مسئلہ اعداد و شمار کا نہیں تھا، مسئلہ اس خوف کا تھا جو ایک بار پھر اس کی زندگی میں داخل ہو رہا تھا۔

لیکن اس کہانی کا آغاز آج سے نہیں، چودہ برس پہلے ہوا تھا۔

شادی کے ابتدائی چند ماہ ایسے گزرے تھے جیسے ہر نئی دلہن اپنے خوابوں میں دیکھتی ہے۔ اسے یقین تھا کہ اب زندگی سنور جائے گی، اپنا گھر ہوگا، اپنا خاندان ہوگا اور دکھ سکھ بانٹنے والا ایک ساتھی بھی۔

مگر وقت کے ساتھ خوابوں کے رنگ پھیکے پڑنے لگے۔

شوہر نے آہستہ آہستہ اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ گھر کے اخراجات دینا اس کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ اگر کبھی عورت کے مائکے سے چند روپے آ جاتے تو وہ بھی کسی نہ کسی بہانے اس کے ہاتھ سے نکل جاتے۔ گھر کی فکر، پریشانی اور ذمہ داری آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کے حصے میں آ گئی تھی۔

پھر ایک بچہ پیدا ہوا۔

بچے کی پیدائش سے لے کر اس کے سکول جانے تک، اور سکول کی ابتدائی جماعتوں تک، تقریباً تمام اخراجات اس کے نانا نے اٹھائے۔ فیس، کتابیں، یونیفارم، دوائیں، کبھی جیب خرچ اور کبھی راشن۔ ایک بوڑھا شخص اپنی بیٹی اور نواسے کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن کر کھڑا تھا۔

مگر زندگی ہر سہارا ہمیشہ قائم نہیں رہنے دیتی۔

جب بچہ تیسری جماعت میں تھا تو نانا دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس دن صرف ایک بزرگ کا انتقال نہیں ہوا تھا، ایک گھر کا آخری ستون بھی گر گیا تھا۔

اب گھر میں ایک عورت تھی، ایک بچہ تھا اور ایک ایسی غربت تھی جو ہر دروازے، ہر کھڑکی اور ہر سانس میں بسی ہوئی تھی۔

کئی دن ایسے گزرتے جب چولہا جلانے سے پہلے یہ سوچنا پڑتا کہ پکایا کیا جائے۔ کبھی فیس کی تاریخ قریب آ جاتی تو راتوں کی نیند اڑ جاتی۔ کبھی بچہ سکول کی کسی ضرورت کا ذکر کرتا تو ماں نظریں چرا لیتی تاکہ آنکھوں میں چھپی بے بسی وہ نہ پڑھ لے۔

غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی، یہ انسان کے اندر بھی ایک خاموش ٹوٹ پھوٹ شروع کر دیتی ہے۔

وہ عورت بھی آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھی۔

پھر ایک دن اسے کسی سے معلوم ہوا کہ یوٹیوب پر ویڈیوز بنا کر بھی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ پڑھی لکھی تھی۔

شوہر سے اخلاقی تعاون کی امید نہیں تھی، مالی تعاون تو بہت دور کی بات تھی۔ سسرال والوں کی طرف سے بھی کسی مدد کی توقع باقی نہیں رہی تھی۔

اس نے فیصلہ کیا کہ کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔

مگر اس کٹھن سفر کی ایک اور مشکل بھی تھی جس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتی تھی۔

یہ ویڈیوز وہ اپنے شوہر سے چھپ کر بناتی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ اگر شوہر کو اس بات کا پتہ چل گیا تو شاید وہ سب سے پہلے وہی پرانا موبائل توڑ دے گا جس کے سہارے وہ اپنے خوابوں کی یہ ننھی سی عمارت تعمیر کر رہی تھی۔

اور اگر اسے یہ معلوم ہو جاتا کہ ان ویڈیوز سے آمدن بھی حاصل ہو سکتی ہے تو ممکن ہے وہ آمدن بھی اس کے ہاتھ میں نہ رہنے دیتا۔

چنانچہ وہ گھر کے کام، بچے کی دیکھ بھال اور روزمرہ کی مشقت کے درمیان ایسے لمحے تلاش کرتی جب کوئی اسے نہ دیکھ رہا ہو۔ کبھی بچہ سو جاتا تو وہ ریکارڈنگ شروع کر دیتی، کبھی شوہر گھر سے باہر نکلتا تو وہ جلدی جلدی چند منٹ کی ویڈیو بنا لیتی۔ کئی بار قدموں کی آہٹ سن کر ریکارڈنگ بند کر دیتی، موبائل چھپا دیتی اور ایسے مصروف ہو جاتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

یہ صرف ویڈیوز نہیں تھیں، یہ اس کی خاموش مزاحمت تھی۔

یہ صرف ایک یوٹیوب چینل نہیں تھا، یہ ایک ماں کی اپنے بچے کو بھوک، محرومی اور بے بسی سے بچانے کی آخری کوشش تھی۔

اس نے برسوں تک اپنی محنت، اپنی امید اور اپنے خوابوں کو اسی طرح چھپا کر رکھا جیسے لوگ طوفان میں چراغ کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر بچاتے ہیں۔

ایک پرانا سا موبائل تھا۔ مناسب مائیک نہیں تھا۔ ایڈیٹنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ کبھی روشنی کا مسئلہ، کبھی انٹرنیٹ کا مسئلہ، کبھی ریکارڈنگ خراب ہو جاتی اور کبھی ویڈیو اپ لوڈ نہ ہو پاتی۔

مگر اس نے ہار نہیں مانی۔

وہ چھوٹے بچوں کو پڑھانے کے مختصر لیکچر تیار کرتی اور یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیتی۔

دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے گئے۔

یوٹیوب کی شرائط پوری کرنا آسان نہیں تھا۔ فالورز بڑھانے تھے، واچ ٹائم مکمل کرنا تھا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔ کئی بار ایسا لگا کہ شاید یہ سفر کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا۔

لیکن بعض لوگ کامیاب اس لیے نہیں ہوتے کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ہار ماننے کی گنجائش نہیں ہوتی۔

آخرکار کئی سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد وہ دن آ گیا۔

یوٹیوب کی تمام شرائط پوری ہو گئیں۔

پہلی مرتبہ سو ڈالر موصول ہوئے۔

اس نے اسکرین پر رقم دیکھی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شاید دنیا کے کسی ارب پتی کو اپنی پہلی کمائی پر اتنی خوشی نہ ہوئی ہو جتنی اسے ہوئی تھی۔

یہ صرف سو ڈالر نہیں تھے۔

یہ چودہ برس کی بھوک، محرومی، جدوجہد اور امید کا صلہ تھے۔

پھر دوسری مرتبہ بھی سو ڈالر آئے۔ پھر تیسری مرتبہ۔

گھر میں راشن آنے لگا۔ بچے کی فیس وقت پر جمع ہونے لگی۔ کبھی وہ اپنے بچے کے لیے پھل بھی لے آتی۔ زندگی شاہانہ نہیں ہوئی تھی، مگر کم از کم اب زندگی، زندگی محسوس ہونے لگی تھی۔

اور پھر ایک دن اسے خبر ملی کہ اس آمدن پر بھی ٹیکس لگنے والا ہے۔

وہ کیلکولیٹر لے کر بیٹھ گئی۔

سو ڈالر میں سے کتنا بچے گا؟

فیس نکلے گی یا نہیں؟

راشن پورا ہوگا یا نہیں؟

دوائی آ سکے گی یا نہیں؟

وہ خاموش بیٹھی حساب لگا رہی تھی اور آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔

اسی دوران اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔

چودہ برسوں میں کبھی کوئی سرکاری اہلکار اس کے دروازے پر نہیں آیا تھا۔

کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ گھر میں راشن ہے یا نہیں۔

کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ رات کا کھانا کھایا یا فاقہ کیا۔

کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ شوہر نے آج مارا تو نہیں۔

کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ بچے کی فیس جمع ہوئی یا نہیں۔

کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کیا بیچا اور کیا گروی رکھا۔

مگر جب قسمت نے برسوں بعد ایک ننھا سا روزن کھولا، جب اندھیرے کمرے میں پہلی بار روشنی کی ایک باریک لکیر داخل ہوئی، جب اس کے ہاتھ میں پہلی مرتبہ اپنی محنت کی کمائی آئی، تو ریاست کو اس کا پتہ چل گیا۔

یہ کالم نہ ٹیکس کے حق ہے نہ مخالفت میں۔

یہ صرف ایک سوال ہے۔

کیا ریاست صرف اسی لمحے بیدار ہوتی ہے جب برسوں کے فاقوں کے بعد کسی کے ہاتھ میں چند نوٹ آتے ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے