مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت (3)

دوسرے روز یعنی 17 جون بروز منگل 2025ء کو دوسرے سیشن کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد سید ندیم فرحت گیلانی صاحب نے نہایت پرسوز آواز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے حاضرین پر رقت طاری ہوگئی اور بہت سی آنکھیں نم ہو گئیں۔

دوسرے سیشن کا پہلا لیکچر جناب عمیر حسن صاحب کا تھا۔ ان کے خطاب کا موضوع "ہنگامی حالات میں انسانی خدمات کا بدلتا ہوا منظرنامہ” تھا۔

انہوں نے فرمایا کہ دنیا بھر میں ہنگامی حالات اور انسانی المیوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ قحط، زراعت، معیشت اور انسانی زندگی کے مختلف شعبے اس سے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ نقل مکانی کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے 2010ء اور 2022ء کے پاکستان میں سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی امداد تو کسی حد تک پہنچ جاتی ہے، لیکن اصل مسئلہ متاثرین کی بحالی کا ہوتا ہے، جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ افغانستان، میانمار، سوڈان اور شام کی مثالیں اس بدلتی ہوئی صورتِ حال کو واضح کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں این جی اوز امدادی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتی تھیں، لیکن اب مختلف ممالک نے اپنے سرکاری ادارے قائم کر لیے ہیں۔ پاکستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہندوستان اور میانمار میں متعدد غیر ملکی این جی اوز پر پابندیاں بھی عائد ہیں، جبکہ بعض مغربی ممالک نے اپنی امداد میں کمی کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے المیے کے بعد ابتدائی دنوں میں میڈیا اور امدادی ادارے بہت متحرک ہوتے ہیں، لیکن بعد میں متاثرین کی بحالی، گھروں کی تعمیرِ نو اور روزگار کی فراہمی جیسے اہم مسائل باقی رہ جاتے ہیں۔

ان کے مطابق اب دنیا میں امدادی سرگرمیوں کا رجحان نقد امداد (Cash Assistance) کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد اپنی ضروریات کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے شفافیت یقینی بنانے میں جدید ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اب مذہبی تنظیموں اور مذہب کے سماجی کردار کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ زکوٰۃ اور صدقات جیسے اسلامی فلاحی ذرائع سے استفادہ کرنے کے لیے باقاعدہ فنڈز قائم کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں خصوصاً عرب ممالک نمایاں تعاون کر رہے ہیں۔
کے بعد شرکاء کو عملی مشق (Exercise) کے لیے وقت دیا گیا۔ منتظمین کی جانب سے مختلف موضوعات پہلے ہی فراہم کر دیے گئے تھے اور شرکاء کو گروپس میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ تمام ساتھی اپنے اپنے موضوعات پر پیشگی مطالعہ اور ہوم ورک کرکے آئے تھے، چنانچہ مقررہ وقت میں انہوں نے اپنے مضامین مکمل کیے اور جمع کرا دیے۔ بعض شرکاء نے اداریہ، بعض نے فیچر اور بعض نے کیس اسٹڈی کی صورت میں اپنی تحریریں پیش کیں۔ منتظمین نے ان کا جائزہ لیا اور شرکاء کی علمی و صحافتی کاوشوں کو خوب سراہا۔ مجموعی طور پر تمام شرکاء نے نہایت معیاری اور فکر انگیز تحریریں پیش کیں۔

اس کے بعد گروپ ڈسکشن کا مرحلہ شروع ہوا۔ اس نشست کا مرکزی موضوع یہ تھا کہ ’’کیا صحافت اور صحافی غیر جانبدار ہو سکتے ہیں؟‘‘ اس موضوع پر شرکاء نے کھل کر اظہارِ خیال کیا اور اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ بعض حضرات کا مؤقف تھا کہ مکمل غیر جانبداری ممکن نہیں، کیونکہ ہر انسان کسی نہ کسی فکری، سماجی یا ثقافتی پس منظر سے متاثر ہوتا ہے، جبکہ بعض شرکاء نے رائے دی کہ صحافی کا بنیادی فرض غیر جانبداری اور حقائق کی دیانت دارانہ ترجمانی ہے، اس لیے اسے حتی المقدور غیر جانب دار رہنا چاہیے۔

اس موقع پر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب اور سید ندیم فرحت گیلانی صاحب نے نہایت متوازن اور مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی کی اصل ذمہ داری حقائق کو امانت داری کے ساتھ پیش کرنا ہے، اس لیے اسے ذاتی تعصبات اور ترجیحات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کی گفتگو کو شرکاء نے بہت پسند کیا اور اس موضوع پر مفید علمی بحث دیکھنے میں آئی۔

بعد ازاں نماز اور طعام کے لیے وقفہ ہوا۔ شرکاء نے نماز ادا کی، کھانا کھایا اور پھر کانفرنس کی آخری نشست کا آغاز ہوا جس میں شرکاء نے اپنے تاثرات اور تجاویز پیش کیں۔

تقریباً تمام شرکاء کی رائے یہ تھی کہ یہ پروگرام اپنے موضوع، تنوع اور علمی افادیت کے اعتبار سے منفرد نوعیت کا حامل ہے۔ مسلح تصادم، ہنگامی حالات اور صحافت جیسے اہم موضوعات پر اس انداز کی تربیتی نشستیں نہ صرف صحافیوں بلکہ اہلِ علم و قلم کے لیے بھی انتہائی مفید ہیں۔

تجاویز کے ضمن میں متعدد شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر سے ہر سال اہلِ علم، محققین، علماء اور صحافیوں کا جو قیمتی علمی سرمایہ یہاں جمع ہوتا ہے، اس سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے۔ مختلف علمی و تحقیقی منصوبوں، مطالعاتی سرگرمیوں اور تحریری کاموں میں ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ روابط اور گروپس کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ یہ علمی و فکری سلسلہ سال بھر جاری رہ سکے۔

اختتامی نشست میں ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب نے الوداعی خطاب کیا۔ انہوں نے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر شرکاء کے نظم و ضبط، سنجیدگی اور علمی ذوق کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برسوں سے مختلف علمی اور تربیتی پروگراموں کا مشاہدہ کر رہا ہوں، لیکن جس توجہ، انہماک اور ذمہ داری کے ساتھ اس پروگرام کے شرکاء نے لیکچرز سنے اور تمام سرگرمیوں میں حصہ لیا، اس کی مثال کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ وہ نظم و ضبط، سنجیدگی اور علم دوستی کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔

آخر میں مولانا حبیب اللہ شاہ حقانی صاحب نے دعا کرائی اور یوں دو روزہ ورکشاپ اپنے اختتام کو پہنچی۔

جہاں تک میرے ذاتی تاثرات کا تعلق ہے یہاں ایک بات ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس میں شرکت کا مجھے دوسری مرتبہ موقع ملا۔ دونوں مرتبہ ایک چیز جو نمایاں طور پر محسوس ہوئی، وہ پروگرام کا انتہائی منظم، مربوط اور وقت کی پابندی کے ساتھ انعقاد تھا۔ ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر انجام پاتی رہی، جو واقعی قابلِ رشک امر تھا۔ اس کا بڑا کریڈٹ سید ندیم فرحت صاحب کو جاتا ہے، جنہوں نے نہایت عمدہ انداز میں نظامت کے فرائض سرانجام دیے اور پروگرام کی تمام سرگرمیوں کو بروقت جاری رکھا۔
دوسری بات یہ کہ اس نوعیت کے پروگراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علماء، محققین، صحافیوں اور اہلِ قلم کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے اور تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس باہمی تعلق اور تبادلۂ خیال سے انسان کی علمی اور فکری دنیا وسیع ہوتی ہے اور نئے زاویۂ نگاہ سامنے آتے ہیں۔

مزید یہ کہ اس پروگرام میں خطاب کرنے والے ماہرین مختلف علمی، صحافتی، قانونی اور انسانی خدمت کے شعبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے تجربات، مشاہدات اور افکار سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دو روزہ ورکشاپ نے نہ صرف مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت کے موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی بلکہ انسانی خدمت، بین الاقوامی قانونِ انسانیت اور ذمہ دار صحافت کے حوالے سے بھی نئی فکری جہتیں عطا کیں۔
ختم شد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے