ہسپتال کے مرکزی دروازے پر پہنچتے ہی میرے قدم اچانک رک گئے۔ ایک انجانی سی کیفیت نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں ایک مریض کی عیادت کے لیے ہسپتال آیا تھا، مگر گیٹ کے قریب پہنچتے ہی جیسے میرے وجود کو سکوت نے جکڑ لیا۔
"سر! آپ ہسپتال میں؟”
اچانک آنے والی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک اجنبی سی عورت اپنی گود میں ایک چھوٹی بچی لیے کھڑی تھی۔ وہ شدید پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے چہرے پر وقت کی بے رحم لکیریں نمایاں تھیں۔ جسم پر پرانے اور میلے کپڑے تھے، اور اس کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی اس کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکی ہو۔ میں نے حیرت سے پوچھا، "معاف کیجیے، میں آپ کو پہچان نہیں سکا۔”
وہ تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولی، "سر، یاد رکھیں… آپ مجھے پہچان ہی نہیں سکتے۔”
میں ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگا۔ ایک ایک چہرہ یاد کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں کو بھی جن سے کبھی محبت رہی اور ان کو بھی جن سے اختلاف رہا، مگر اس چہرے کی پہچان میری یادداشت سے اوجھل تھی۔
آخرکار میں نے کہا، "معذرت، میری یادداشت شاید کمزور ہو گئی ہے۔ براہِ کرم بتائیں، آپ کون ہیں؟ اور اس حال تک کیسے پہنچیں؟”
اس نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور آہستہ سے بولی، "سر… میں شانتل ہوں۔ وہی شانتل، جس کی ایک ادا پر اس شہر کی محفلیں سجا کرتی تھیں۔ وہی شانتل، جس کی مسکراہٹ سے فضا میں بہار اتر آتی تھی۔ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ بے اختیار میرے منہ پر آ گئے۔ یقین کرنا مشکل تھا کہ میرے سامنے کھڑی یہ شکستہ حال عورت وہی شانتل تھی۔
شانتل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کی گود میں موجود بچی بھی زور زور سے رونے لگی۔ مجھے وہ دن یاد آنے لگے جب شانتل کی ہنسی پھولوں کی خوشبو جیسی محسوس ہوتی تھی اور اس کی چال میں زندگی کی تازگی جھلکتی تھی۔ مگر آج وہ یوں لگ رہی تھی جیسے وقت نے اس کی تمام خوشیاں چھین لی ہوں۔
میری سوچوں کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب وہ بولی، "سر، میری بربادی کی ذمہ دار ہماری یہی فرسودہ معاشرتی سوچ ہے۔ میری شادی کم عمری میں ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جو عمر میں مجھ سے بہت بڑا تھا۔ وہ کام کرنے کے بجائے ہر روز مجھ پر وحشیانہ تشدد کرتا تھا۔ میری زندگی تو شروع ہوتے ہی اجڑ گئی، مگر آپ سے ایک درخواست ہے… میری کہانی ضرور لکھ دیجیے، تاکہ شاید کسی اور شانتل کی زندگی بچ جائے۔ میں خاموش رہا۔ میرے پاس اس کے دکھوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔
میں نے شانتل سے اجازت لی، کیونکہ مجھے ارلی میرج (کم عمری کی شادی) کے موضوع پر ایک سیمینار میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد میرے قدم پھر رک گئے۔ میں نے سیمینار جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور واپس اپنی جھونپڑی کی طرف لوٹنے لگا۔
راستے بھر ایک ہی خیال میرے ذہن میں گردش کرتا رہا:
ارلی میرج کے اثرات تو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ چکا ہوں۔ اب سیمینار میں بیٹھ کر ان پر تقریریں سننے کا کیا فائدہ؟