بہت سال پہلے کی بات ہے، جب میں گریجویشن کا طالب علم تھا۔ کراچی کی شاہ کالونی میں واقع ایک انگلش لینگویج سینٹر میں انگریزی سیکھنے جاتا تھا۔ ایک دن میڈم نے کلاس کو گفتگو کے لیے ایک موضوع دیا
Money: Everything or Not.
کلاس کے تقریباً تمام لڑکے اور لڑکیاں اس بات پر متفق تھے کہ واقعی Money is Everything، یعنی پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ لیکن راقم نے اختلاف کیا۔ میرا مؤقف تھا،
Money is not everything, but something.
یعنی پیسہ سب کچھ نہیں، لیکن کافی کچھ ضرور ہے۔
کافی دن تک یہ مکالمہ ہوتا رہا، میں نے اپنے دعوے کے حق میں دسیوں مثالیں دیں، صدر اوبام سے لے کر کراچی کے ناظم نعمت اللہ تک کی ہسٹری بیان کر دی۔ اور ساتھ عرض کیا کہ محبت، اخلاص، عزت، علم، کردار، صحت، سکون قلب، والدین کی دعائیں، اولاد کی محبت، مخلص دوست اور اللہ تعالیٰ کی رضا ایسی نعمتیں ہیں جو صرف دولت سے حاصل نہیں ہوتیں۔ میڈم بھی آخرکار میرے مؤقف سے متفق ہوگئیں، اور مجھے اس دن اپنی دلیل پر بڑا ناز تھا۔
مگر……..
زندگی صرف کتابوں سے نہیں سکھاتی، وہ اپنے تجربات سے بھی انسان کے نظریات کی نوک پلک درست کرتی رہتی ہے۔ وقت گزرا، لوگوں کو قریب سے دیکھا، حالات و معاملات کا جائزہ لیتا رہا، معاشرے کو سمجھا، مختلف طبقوں میں اٹھنا بیٹھنا ہوا، دولت کے کرشمے دیکھے اور زندگی نے ایسے ایسے مناظر اور حالات دکھائے کہ بعض اوقات وہی جملہ بے اختیار ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔
Yes! Money is Everything.
فکری طور پر اب بھی میں یہ نہیں کہتا کہ پیسہ واقعی سب کچھ ہے، کیونکہ موت کو نہیں خرید سکتا، صحت کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتا، سچی محبت پیدا نہیں کرسکتا، اور نہ ہی آخرت کی کامیابی اس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے. لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ دنیا کے معاملات میں پیسے کی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اکثر اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر دروازے کی کنجی اسی کے پاس ہے۔ جی ہاں آج کی زندگی کے اکثر دروازے "پیسہ” سے ہی کھلتے ہیں۔ یہ زمینی حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت سے انکار نری حماقت!
تجربات کی روشنی میں یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ پیسہ بلی کو شیر بنا دیتا ہے، اور شیر کو بلی۔ معمولی آدمی کو قابل احترام اور بڑے بڑے لوگوں کو بے بس بنا دیتا ہے۔ کئی مرتبہ قابلیت، علم و حکمت، دیانت و صداقت اور اخلاص و للہیت پیسے کے سامنے پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ دولت مند کی معمولی بات بھی حکمت سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب جیب بھری ہو تو لوگ آپ کی خاموشی کو وقار سمجھتے ہیں، اور جب جیب خالی ہو تو آپ کی بہترین گفتگو بھی اکثر بے وزن محسوس ہوتی ہے۔ رشتے، تعلقات، عزتیں، فیصلے، ترجیحات اور یہاں تک کہ بعض اوقات اصول بھی دولت کے ترازو میں تولے جانے لگتے ہیں۔
لیکن اس تلخ حقیقت کے باوجود ایک اور حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ پیسہ ایک بہترین خادم ہے، مگر بدترین آقا۔ اگر دولت انسان کے ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، اور اگر انسان دولت کے ہاتھ میں چلا جائے تو یہی نعمت آزمائش بن جاتی ہے۔ اور ہمارا پورا معاشرہ آزمائش کا شکار ہے۔ اس لیے شاید آج بھی میرے پرانے خیالات مکمل طور پر غلط نہیں ہوئے، صرف اس میں زندگی کے تجربات نے ایک نئی جہت ضرور پیدا کر دی ہے۔
Money is not everything… but in today’s world, it has become something much bigger than we often imagine.
اور شاید یہی زندگی کا سب سے کڑوا، مگر سچا سبق ہے۔ اگر آپ آج کے اس آزمائشی اور مادیت پرست دور میں باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو دولت ضرور کمائیے بلکہ خوب کمائے، مگر صرف حلال ذرائع سے۔ حلال دولت اگرچہ آہستہ آتی ہے، لیکن عزت، برکت اور سکون بھی ساتھ لاتی ہے. ہمارے محترم استاد، مینگل صاحب، ایک بڑی معنی خیز بات فرمایا کرتے تھے "غریب مولوی قرآن و حدیث کے سینکڑوں حوالے دے کر بھی بات کرے تو لوگ کہتے ہیں ” وہ کہتا ہے”، لیکن امیر مولوی اگر بے سروپا بات بھی کر دے تو لوگ کہتے ہیں”حضرت فرماتے ہیں” ۔
یہ جملہ محض ایک لطیفہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ دولت میں واقعی ایک عجیب کشش اور اثر ہوتا ہے۔ اکثر اوقات لوگوں کی نگاہ میں علم، کردار اور دلیل سے پہلے جیب کا وزن دیکھا جاتا ہے۔ یہی دولت کا کمال بھی ہے، اور یہی اس معاشرے کا المیہ بھی۔ اور کمال کرتے جائیں اور دولت کے کرشمے دیکھتے جائیں۔