استاد: قوم کے مستقبل کا معمار

جس قوم نے معلم کو معمار مان لیا
اُس قوم نے روشن مستقبل سنوار لیا

کسی بھی قوم کی ترقی میں استاد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے عروج کی ایک بڑی وجہ علم، تعلیم اور اہلِ علم سے ان کی وابستگی تھی۔ اس دور میں اساتذہ کو معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل تھاکیونکہ یہ حقیقت تسلیم کی جاتی تھی کہ ایک معلم محض کتابیں پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور علمی تعمیر کرنے والا فرد ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرہ اپنے معلم کے کردار کو سمجھتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے اور اسے ضروری سہولیات فراہم کرتا ہے وہ اپنے مستقبل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ استاد دراصل ان معماروں کی تربیت کرتا ہے جو کل ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہمارے معاشرے میں تعلیمی مسائل کا تمام تر بوجھ اکثر استاد کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر بچوں کی کارکردگی توقع کے مطابق نہ ہو تو سب سے پہلے انگلی استاد کی طرف اٹھائی جاتی ہے مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ایک استاد کن حالات، مشکلات اور محدود وسائل میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہوتا ہے۔

ایک استاد کا کام صرف کتاب کا مواد طلبہ تک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ وہ نصابی کتاب میں موجود کمی، پیچیدگی یا خامی کو بھی اپنی تدریسی صلاحیت سے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ طلبہ کی ذہنی سطح، فہم اور استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے مشکل موضوعات کو آسان بناتا ہے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر تعلیم کو مؤثر اور بامقصد بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

بعض اوقات نصاب کی ترتیب بھی استاد کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔خاص طور پر جب موضوعات کی ترتیب تدریسی اصولوں سے مطابقت نہ رکھتی ہو یا کتابوں میں طباعتی غلطیاں اور ابہام موجود ہوں تو استاد کو نہ صرف ان کی وضاحت کرنی پڑتی ہے بلکہ طلبہ کے سامنے ان کی اصلاح بھی کرنا پڑتی ہے۔

مسائل اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب ایک ہی استاد کو کئی مضامین پڑھانے ہوں مسلسل پیریڈز لینے ہوں اور ہر مضمون کے الگ تقاضوں کو پورا کرنا ہو۔ ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ استاد بھی ایک انسان ہے۔ مسلسل ذہنی محنت کے بعد اسے بھی آرام، ذہنی سکون اور ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔

تعلیمی نظام کی کامیابی صرف نیا نصاب متعارف کرانے سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اصل کامیابی مؤثر منصوبہ بندی اور اس پر بروقت عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔ اگر تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود کئی ماہ تک طلبہ کو کتابیں نہ مل سکیں نصاب کی تکمیل کے لیے وقت کم رہ جائے اور دیگر انتظامی رکاوٹیں بھی موجود ہوں تو ایسے حالات میں استاد سے مثالی نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ رویہ نہیں۔

ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ استاد نے ہر حال میں کورس مکمل کرنا ہے چاہے طلبہ سمجھیں یا نہ سمجھیں۔… حالانکہ تعلیم کا مقصد صرف نصاب ختم کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں فہم، شعور، تنقیدی سوچ اور عملی زندگی کے لیے ضروری صلاحیتیں پیدا کرنا بھی ہے۔

اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی کورسز یقیناً خوش آئند ہیں لیکن ان میں بھی زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اکثر تربیت ایک مثالی کلاس روم کو سامنے رکھ کر دی جاتی ہےجبکہ حقیقت میں اساتذہ کو بڑی جماعتوں، محدود وسائل اور مختلف ذہنی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے تربیتی پروگرام بھی انہی حقائق کی روشنی میں ترتیب دیے جانے چاہییں۔

تعلیمی نظام کا ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اساتذہ کو وہ مضامین پڑھانے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے جن میں ان کی تخصص محدود ہوتی ہے۔ جدید تعلیمی اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر مضمون کو اس شعبے کے ماہر استاد کے سپرد کیا جائے کیونکہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کے مستقبل کو تجربات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مضمون کے لیے ایسے استاد کا انتخاب کیا جائے جو اس مضمون میں مہارت، دلچسپی اور مکمل فہم رکھتا ہو۔ ایک ماہر استاد صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ طلبہ میں تحقیق، تخلیقی سوچ اور مسائل کے حل کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔اسی طرح اسکولوں کے منتظمین اور سربراہان کی تربیت بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ اساتذہ کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کر سکیں۔

ایک مضبوط تعلیمی نظام اسی وقت وجود میں آتا ہے جب استاد اور انتظامیہ ایک دوسرے کو مسائل کا سبب نہیں بلکہ ان کے حل کا شریک سمجھیں ۔ ترقی یافتہ معاشرے صرف اساتذہ سے نتائج کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ ان کے مسائل کو سمجھتے، ان کی عزت کرتے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں کیونکہ جو قوم اپنے اساتذہ کو مضبوط بناتی ہےوہ درحقیقت اپنے مستقبل کو مضبوط بناتی ہے۔

ایک اچھا استاد صرف ایک طالب علم کی زندگی نہیں سنوارتا بلکہ پوری نسل کی فکری، اخلاقی اور علمی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی اپنے بچوں کا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں استاد کے مقام، کردار اور مسائل کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہوگی جتنی ہم نصاب، کتابوں اور تعلیمی اداروں کو دیتے ہیں۔

استاد سے صرف نتائج کا مطالبہ نہ کیا جائے بلکہ اسے نتائج پیدا کرنے کے لیے اعتماد، وسائل، تربیت اور سازگار ماحول بھی فراہم کیا جائے کیونکہ استاد کو مضبوط کیے بغیر قوم کے مستقبل کومضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے