ہائبرڈ وار فیئر کے محاذ پر پاکستان

اکیسویں صدی کی جنگیں اب صرف سرحدوں پر ٹینکوں، توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں۔ جدید دنیا میں دشمن کسی ملک کو شکست دینے کے لیے اس کے شہروں پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کے ذہنوں، معیشت، سیاست، اطلاعاتی نظام اور قومی اعتماد کو نشانہ بناتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کو آج ہائبرڈ وار فیئر (Hybrid warfare) کہا جاتا ہے، اور پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے اسی نوعیت کے ایک پیچیدہ چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

ہائبرڈ وار فیئر روایتی جنگ، دہشت گردی، سائبر حملوں، اطلاعاتی جنگ، معاشی دباؤ، سفارتی محاذ آرائی اور نفسیاتی پروپیگنڈے کا ایسا امتزاج ہے جس میں دشمن کوشش کرتا ہے کہ ریاست کو اندر سے کمزور کر دیا جائے۔ مقصد صرف فوج کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو متزلزل کرنا، سیاسی تقسیم کو گہرا کرنا اور قومی اداروں پر شکوک پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات، سرحدی سلامتی سے متعلق خدشات، آزاد جموں و کشمیر میں کشیدگی، اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن اطلاعات ایسے عوامل ہیں جنہیں قومی سلامتی کے تناظر میں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریاستِ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی سہولت کاری اور محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ پہنچتا ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے علاقائی تعاون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔

کشمیر کا محاذ آج صرف پہاڑوں اور سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ موبائل فون کی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل چکا ہے۔ کسی بھی واقعے کے چند منٹ بعد مختلف بیانیے، ویڈیوز، تصاویر اور تبصرے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض مستند ہو سکتے ہیں جبکہ بعض غیر مصدقہ یا گمراہ کن بھی ہو سکتے ہیں۔ اس اطلاعاتی جنگ کا مقصد عوامی رائے کو متاثر کرنا، جذبات کو بھڑکانا اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے ذمہ دار صحافت، حقائق کی تصدیق اور ڈیجیٹل شعور پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی بھی ہائبرڈ وار کا ایک اہم ہتھیار ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں صرف جانیں نہیں لیتیں بلکہ خوف پیدا کرتی ہیں، سرمایہ کاری متاثر کرتی ہیں، ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی صرف عسکری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، میڈیا اور عوام سب کا کردار اہم ہے۔

اسی طرح سائبر وار آج کے دور کی خاموش مگر مؤثر جنگ ہے۔ جعلی اکاؤنٹس، بوٹس، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، جھوٹی خبریں، جعلی ویڈیوز اور منظم سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی کو مضبوط بنائے تاکہ غلط معلومات اور نفسیاتی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

اس پورے منظرنامے میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی غیر معمولی ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے، مگر قومی سلامتی، دہشت گردی اور ریاستی استحکام جیسے معاملات پر سیاسی قوتوں کے درمیان کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ سیاسی مقابلہ اپنی جگہ، لیکن ریاست کی مضبوطی ہر جماعت، ہر ادارے اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عوامی تعاون اور قومی عزم ملک کے دفاع کے اہم ستون ہیں۔ تاہم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دفاع صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور اطلاعاتی نظام کا بھی ہونا چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مضبوط ریاستیں صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، آزاد مگر ذمہ دار میڈیا، قانون کی حکمرانی اور قومی اعتماد سے بنتی ہیں۔ اگر ہم داخلی استحکام کو فروغ دیں، نوجوانوں کو ڈیجیٹل شعور سے آراستہ کریں، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں، اور ہر شہری کو قومی تعمیر میں شریک کریں تو ہائبرڈ وار کے تمام محاذوں پر پاکستان کی قوت میں اضافہ ہوگا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاست کے گرداب سے نکل کر ریاست کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھیں۔ اختلاف ضرور ہو، مگر انتشار نہیں؛ تنقید ضرور ہو، مگر حقائق کی بنیاد پر؛ اور قومی سلامتی کے معاملات میں ذمہ داری، اتحاد اور آئینی اصولوں کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جائے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز حقیقی ہیں، مگر اس کی صلاحیتیں بھی کم نہیں۔ ایک متحد قوم، مضبوط ریاستی ادارے، مؤثر سفارت کاری، جدید سائبر دفاع، فعال معیشت اور باخبر عوام ہی وہ طاقت ہیں جو کسی بھی ہائبرڈ جنگ کا مؤثر جواب بن سکتی ہیں۔

پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے عوام کا اتحاد، اس کے آئین کی بالادستی، اس کے اداروں کی مضبوطی اور اس کے نوجوانوں کا شعور ہے۔ اگر ہم ان ستونوں کو مضبوط رکھیں تو کوئی بھی ہائبرڈ وار، کوئی بھی دہشت گردی اور کوئی بھی منفی پروپیگنڈا پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا. اب سیاست کے گرداب سے نکل کر ریاست تک آنا ہر پاکستانی کا فرض اور وقت کی اولین ترجیح ہے مطلب ہر پاکستانی کے ذہین میں واضح ہو "سب سے پہلے پاکستان”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے