قیادت کی منڈی

ہمارے عہد کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ ہے کہ اب صرف اشیا ہی بازار میں فروخت نہیں ہوتیں، خیالات بھی پیکنگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔ ایک ہی پرانی بات کو کبھی نئے تصور کا نام دیا جاتا ہے، کبھی کسی نئے نظریے کا عنوان اور کبھی انتظامی حکمتِ عملی کی ایک شاندار اصطلاح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی کردار، اخلاق اور قیادت بھی اب علم سے زیادہ تشہیر اور اصطلاح سازی کی محتاج ہو گئی ہو۔

انتظام و انصرام کے جدید علوم نے یقیناً اداروں کو منظم کرنے، انسانی وسائل کو بہتر بنانے اور فیصلہ سازی کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اس علمی پیش رفت کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صدیوں سے جن اوصاف کو دیانت، صداقت، بصیرت، تدبر، شائستگی اور کردار کی پختگی کہا جاتا تھا، انہیں اب مختلف عنوانات میں تقسیم کرکے نئی علمی مصنوعات کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

تخصص اپنی جگہ ایک قابلِ قدر علمی ضرورت ہے۔ طب میں دل، دماغ، جگر اور اعصاب کے ماہرین کی الگ الگ تربیت اس لیے ضروری ہے کہ انسانی جسم کے مختلف نظام غیر معمولی پیچیدگی رکھتے ہیں۔ مگر قیادت جسم کا کوئی عضو نہیں کہ اسے شخصیت سے الگ کرکے کسی تجربہ گاہ میں پرکھ لیا جائے۔ قیادت دراصل شخصیت کے مجموعی اخلاقی، فکری اور عملی وجود کا نام ہے۔ اس میں وژن، فیصلہ سازی، حکمتِ عملی، ابلاغ، تحمل، دیانت اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے پیوست ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ’’حقیقی قیادت‘‘ جیسی اصطلاح اپنے اندر ایک دلچسپ سوال رکھتی ہے: کیا قیادت غیر حقیقی بھی ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی شخص صداقت سے محروم ہے، اس کے قول و فعل میں تضاد ہے، وہ ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتا ہے اور اس کا کردار اعتماد پیدا نہیں کرتا تو محض اس کے منصب کو قیادت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ صداقت قیادت کی اضافی خوبی نہیں بلکہ اس کی بنیادی بنیاد ہے۔ جس وصف کے بغیر قیادت کا تصور ہی ادھورا ہو، اسے ایک الگ امتیازی عنوان بنا دینا ہمارے دور کی اصطلاحی نمود کا مظہر معلوم ہوتا ہے۔

المیہ صرف اصطلاح سازی تک محدود نہیں۔ ہمارے معاشرتی اور ادارہ جاتی ماحول میں القابات اور اعزازات کی ایسی فراوانی پیدا ہو چکی ہے کہ معمول کی ذمہ داری ادا کرنا بھی بعض اوقات غیر معمولی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی عہدے پر فائز ہونا، چند فیصلے کرنا یا منصبی فرائض انجام دینا اپنی جگہ ضروری ہے، مگر ان امور سے کسی شخص کے قائد ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اختیار انسان کو حکم دینے کی طاقت دے سکتا ہے، لیکن دلوں پر اثر انداز ہونے کا اختیار نہیں دیتا۔ عہدہ منصب عطا کر سکتا ہے، مگر اعتماد نہیں۔

یہیں ’’فکری قیادت‘‘ ایک نسبتاً سنجیدہ تصور کے طور پر سامنے آتی ہے۔ فکری قائد وہ شخص نہیں جو محض بہت کچھ بولتا ہو، بلکہ وہ ہے جو بہت کچھ سمجھتا ہو۔ وہ اپنے شعبے کے مسائل کا گہرا مطالعہ کرتا ہے، شواہد اور اعداد و شمار کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے، نئے امکانات تلاش کرتا ہے اور اپنی بصیرت کے ذریعے دوسروں کو کسی بہتر سمت میں سوچنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کا اصل سرمایہ عہدہ نہیں، علم ہے؛ اس کی طاقت اختیار نہیں، دلیل ہے؛ اور اس کا اثر تشہیر سے نہیں بلکہ فکری اعتبار سے پیدا ہوتا ہے۔

فکری قیادت کی ایک نمایاں علامت یہ بھی ہے کہ حقیقی مفکر اپنی بات منوانے سے پہلے دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور تنقید کو اپنی ذات کے خلاف حملہ تصور نہیں کرتا۔ وہ اپنی رائے کو حتمی سچ کے بجائے مسلسل تحقیق اور غور و فکر کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے ضروری نہیں کہ فکری قائد کسی ادارے کی بلند ترین کرسی پر بیٹھا ہو۔ بعض اوقات کسی تنظیم کا سب سے مؤثر ذہن وہ شخص ہوتا ہے جو کسی بڑے منصب پر فائز نہیں ہوتا، مگر جس کی رائے فیصلہ سازوں کی سمت متعین کرتی ہے۔

تاریخ کے صفحات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پائیدار قیادت کبھی مصنوعی تشہیر، اعزازی القابات یا ظاہری نمود سے پیدا نہیں ہوئی۔ بڑے قائدین کی اصل قوت ان کے کردار، علم، مقصد کی وضاحت، اصول پسندی اور مسلسل جدوجہد میں پوشیدہ رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ القابات ماند پڑ جاتے ہیں، عہدے بدل جاتے ہیں اور تشہیری شور خاموش ہو جاتا ہے، مگر کردار کی خوشبو باقی رہتی ہے۔

اس لیے شاید ہمیں قیادت کی اس اصطلاحی منڈی سے کچھ دیر کے لیے باہر نکل کر اپنے آپ سے ایک سادہ سوال کرنا چاہیے: ہمیں قائد چاہیے یا صرف عہدہ دار؟ اگر جواب قائد ہے تو پھر ہمیں القابات کے بجائے کردار، دعووں کے بجائے عمل، شہرت کے بجائے اثر اور منصب کے بجائے اعتماد کو معیار بنانا ہوگا۔

کیونکہ قیادت کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان کے سامنے ذاتی مفاد اور اجتماعی ذمہ داری میں سے کسی ایک کا انتخاب ہو۔ جو شخص اس فیصلہ کن لمحے میں بھی اصول، دیانت اور اجتماعی بھلائی کا ساتھ دے، اسے اپنے نام کے ساتھ کسی اضافی لقب کی ضرورت نہیں رہتی۔اس کا کردار ہی اس کا منصب، اس کی بصیرت ہی اس کا تعارف اور اس کا عمل ہی اس کی قیادت کی سب سے معتبر سند بن جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے