مدینہ منورہ میں بیٹھا تھا، درود شریف کا ذکر چل رہا تھا کہ اچانک پچھلے دنوں ایک دوست کا گھر یاد آ گیا، جہاں قرآنِ کریم کی آیات جگہ جگہ آویزاں تھیں۔ وہاں قیام کے دوران ایک آیت کی تصویر لی تھی اور دل میں طے کیا تھا کہ کسی فرصت کے وقت اس کا ترجمہ اور پسِ منظر جاننے کی کوشش کروں گا۔ اللہ کی ذاتِ کریم کا احسان ہوا کہ آج تصویریں دیکھتے دیکھتے اچانک اُسی آیت پہ نظر جا ٹھہری۔
میں بیٹھا بھی خاص روضۂ رسول ﷺ کے عقبی حصے کی طرف ہوں۔ حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھرِ مبارک کا وہ حصہ نظروں کے سامنے ہے جہاں اللہ کے نبی ﷺ تہجد فرمایا کرتے تھے۔ آج کل وہاں ایک سفید پردہ لگا دیا گیا ہے تاکہ ریاض الجنہ آنے والے وہ زائرین، جو نُسُک ایپ سے نمبر لیتے ہیں، عام لوگوں کے ساتھ مکس نہ ہو جائیں۔ عشاق آگے پیچھے جالیوں پہ نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں، اور ہم گنہگار بھی چند لمحوں کے لیے اُن میں شامل ہو جاتے ہیں۔ آج جمعرات ہے، سبیلوں پہ سبیلیں بٹ رہی ہیں۔
اب اُس آیت کی طرف آتا ہوں
آیتِ کریمہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ۙ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اُس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اُسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اُس کا گمان بھی نہ ہو۔ اور جو اللہ پر بھروسا کرے، اللہ اُس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (سورۃ الطلاق، آیت ۲ اور ۳)
سببِ نزول: ایک باپ، ایک قیدی بیٹا
یہ عظیم الشان آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ تفاسیر میں اس کے سببِ نزول کے بارے میں ایک ایمان افروز واقعہ ملتا ہے، جو حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا ہے۔
بیٹے کی قید اور گھر کا فاقہ۔ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے جوان بیٹے کو، جن کا نام روایات میں سالم آیا ہے، جنگ کے دوران مشرکین نے قید کر لیا۔ وہ غریب صحابی تھے۔ گھر میں شدید تنگی اور فاقہ تھا، اور اوپر سے جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ۔ بیٹے کی ماں کی بے تابی الگ دیکھی نہیں جاتی تھی۔
بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضری
حضرت عوف رضی اللہ عنہ انتہائی پریشانی کے عالم میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا بیٹا دشمن کی قید میں ہے اور گھر میں بھوک اور تنگی کا راج ہے، میں کیا کروں؟
نبوی ﷺ نسخہ
آپ ﷺ نے اُنہیں تسلی دی، صبر کی تلقین فرمائی، اور ایک نسخہ عطا فرمایا: اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو، اور تم اور تمہاری بیوی دونوں کثرت کے ساتھ پڑھا کرو:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
یعنی نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت مگر اللہ کی مدد سے۔
ماں باپ کا توکل
حضرت عوف رضی اللہ عنہ گھر لوٹے اور اپنی زوجہ کو آپ ﷺ کا فرمان سنایا۔ اُن کی زوجہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتنی اچھی بات کا حکم دیا ہے۔ حالات کی سنگینی کے باوجود دونوں میاں بیوی نے اللہ پر پورا بھروسا کیا اور دن رات یہ کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ نہ کوئی تدبیر ہاتھ میں تھی، نہ کوئی وسیلہ، بس ایک کلمہ اور ایک یقین تھا۔
نجات اور رزق کی بارش
ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اچانک اُن کے گھر کا دروازہ کھٹکا۔ باہر دیکھا تو بیٹا صحیح سلامت کھڑا تھا۔ ہوا یہ کہ دشمن کی قید میں ایک رات نگہبان غافل ہو گئے، بیٹے کی رسی کھلی، اور وہ وہاں سے نکل بھاگے۔ صرف یہی نہیں راستے میں دشمن کے مویشیوں کا پورا ریوڑ بھی ہانک کر ساتھ لے آئے۔ (تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔)
آیت کا نزول
حضرت عوف رضی اللہ عنہ دوبارہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بیٹا بھی آ گیا اور یہ مال بھی ساتھ لایا ہے، کیا یہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو چاہو کرو، یہ تمہارے بیٹے کا ہو چکا، میں اس میں کوئی مداخلت نہیں کروں گا۔ یہ اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا رزق ہے۔ اسی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔
اس آیت سے کیا سبق ملتا ہے
پہلی بات یہ کہ تقویٰ اور توکل دونوں شرط ہیں۔ جب بندہ ہر حال میں اللہ کے احکام پر قائم رہتا ہے، اور پھر اُسی پر بھروسا رکھتا ہے، تو اللہ پاک اُس کے وہم و گمان سے باہر جا کر اُس کی مدد فرماتا ہے۔ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس نہ فوج تھی، نہ مال، نہ سفارش۔ بس ایک کلمہ تھا جو نبی کریم ﷺ نے عطا فرمایا، اور اللہ نے راستہ وہاں سے کھول دیا جہاں سے کسی کو گمان تک نہ تھا۔
دوسری بات یہ کہ مشکل کا حل شریعت ہی میں رکھا گیا ہے۔ غور کیجیے، یہ آیت سورۃ الطلاق میں ہے یعنی طلاق اور گھریلو ٹوٹ پھوٹ کے احکام کے درمیان۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ زندگی کے تلخ ترین موڑ پر بھی اگر انسان حد سے تجاوز نہ کرے اور تقویٰ کا دامن نہ چھوڑے، تو اللہ پاک اُسے بربادی سے بچا کر ایک نیا اور بہتر راستہ عطا فرما دیتا ہے۔
اور تیسری بات، جو آیت کے آخر میں ہے: إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ ہماری بے چینی، ہماری جلد بازی، ہمارا حساب کتاب یہ سب اپنی جگہ، مگر ہر چیز کا ایک وقت اور ایک اندازہ مقرر ہے۔
اور وہ دوست
جس دوست کے گھر یہ آیت آویزاں تھی، اُن کا نام فاروق احمد مرزا خیل ہے۔ سیاہ فریم میں سنہری خطاطی، ایک طرف اللہ اور دوسری طرف محمد ﷺ لکھا ہوا، اور درمیان میں یہی آیت۔ اللہ نے اُنہیں مال کی فراوانی دی ہے، مگر اِس سے بڑی بات یہ کہ اِس آیت کی سمجھ بھی عطا کی ہے۔
مجھ سے کہتے تھے: جب صبح فجر کے وقت اٹھتا ہوں اور اونچی منزل سے نیچے شہر کو دیکھتا ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اللہ ویسے کسی کو نہیں نوازتا۔
یہ جملہ اُس آدمی کا ہے جس کے پاس سب کچھ ہے۔ اور یہی اس آیت کا اصل مطلب ہے کہ دینے والا مال دے کر بھی آزماتا ہے اور روک کر بھی۔ جسے یہ سمجھ آ جائے، وہ تنگی میں بھی مطمئن رہتا ہے اور فراخی میں بھی سر جھکائے رکھتا ہے۔
مدینے میں بیٹھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے دل نے کہا: جس در پہ اِس وقت بیٹھا ہوں، یہاں تو ہر سائل کو کچھ نہ کچھ ملتا ہی ہے۔ حضرت عوف رضی اللہ عنہ بھی اِسی در پہ آئے تھے خالی ہاتھ، ٹوٹے دل کے ساتھ اور ایک کلمہ لے کر لوٹے تھے۔ ہم بھی اِسی امید پہ آتے ہیں۔ نہ ہمارے پاس اعمال ہیں، نہ کوئی وسیلہ۔ بس ایک بھروسا ہے، اور یہ یقین کہ فہو حسبہ وہ کافی ہے۔
اے اللہ! ہمیں تقویٰ عطا فرما، توکل عطا فرما، اور وہاں سے نواز جہاں ہمارا گمان بھی نہ ہو۔ آمین۔