ایمل ولی خان اور عابد شیر علی: ایک سوال، ایک تاریخ اور سیاست کا قد

سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کی پالیسیوں، کارکردگی اور فیصلوں پر تنقید کر سکتی ہے، سوال اٹھا سکتی ہے اور اپنے مؤقف کو بہتر ثابت کرنے کے لیے دلائل دے سکتی ہے۔ لیکن جب سیاسی اختلاف تاریخ سے ناواقفیت، شخصی تضحیک یا کسی سیاسی خاندان کی پوری جدوجہد کو ایک جملے میں نظرانداز کرنے کی کوشش بن جائے تو پھر معاملہ صرف سیاسی اختلاف نہیں رہتا۔

حالیہ دنوں مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان سے مخاطب ہوکر پوچھا گیا کہ ”آپ کون ہیں؟“ یہ سوال بظاہر سیاسی تھا، لیکن اس کے پیچھے موجود لہجے نے ایک اہم تاریخی سوال ضرور پیدا کر دیا کہ کیا ہماری سیاسی قیادت اپنے ہی ملک کی سیاسی تاریخ سے پوری طرح واقف ہے؟

ایمل ولی خان محض ایک سیاسی جماعت کے موجودہ صدر نہیں۔ وہ باچا خان کے پڑپوتے، خان عبدالولی خان کے پوتے اور اسفندیار ولی خان کے صاحبزادے ہیں۔ کسی سیاسی خاندان سے تعلق کسی شخص کو تنقید سے بالاتر نہیں بناتا، لیکن کسی سیاسی شخصیت پر سوال اٹھانے سے پہلے اس کے تاریخی پس منظر اور سیاسی ورثے کو جاننا بھی ضروری ہے۔

باچا خان برصغیر کی سیاست میں عدم تشدد، تعلیم، سماجی اصلاح اور سیاسی شعور کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے پشتون معاشرے میں تعلیم، اصلاح اور سیاسی بیداری کی بنیاد مضبوط کی۔ برطانوی دور میں طویل قید و بند برداشت کی اور 1930ء کے قصہ خوانی بازار کے سانحے سمیت پشتونوں کی سیاسی جدوجہد میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔

اسی سیاسی روایت کو خان عبدالولی خان نے آگے بڑھایا۔ خان عبدالولی خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی ایک اہم آواز تھے۔ وہ 14 اپریل 1972ء سے 10 فروری 1975ء تک قائدِ حزبِ اختلاف کے منصب پر فائز رہے۔ اسی دور میں ملک کو ایک نئے آئینی ڈھانچے کی ضرورت تھی اور 1973ء کا آئین وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بعد منظور ہوا۔ اس پورے عمل میں خان عبدالولی خان اور ان کی جماعت کا سیاسی کردار پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 1971ء کے سانحے کے بعد پاکستان شدید سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا، اختیارات کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری اہم سیاسی مطالبات تھے۔ ایسے ماحول میں مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور سمجھوتوں کے ذریعے آئینی راستہ نکالا گیا۔ خان عبدالولی خان اس سیاسی عمل کے اہم کرداروں میں شامل تھے۔

لیکن ان کا سیاسی سفر صرف پارلیمانی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ 1975ء میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی اور خان عبدالولی خان سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف حیدرآباد سازش کا کیس بنایا گیا۔ اس مقدمے کے ذریعے ان سیاسی رہنماؤں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے اور انہیں غدار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ خان عبدالولی خان تقریباً چار برس تک قید میں رہے، جبکہ یہ مقدمہ 1979ء میں ختم ہوا۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ باب ہے جس میں سیاسی اختلاف کو ریاستی مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔

اس کے بعد اسفندیار ولی خان نے اس سیاسی ورثے کو آگے بڑھایا۔ ان کے سیاسی دور کی ایک اہم کامیابی 18ویں آئینی ترمیم تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ تمام صوبوں کی خودمختاری اور اختیارات کو آئینی تحفظ اور تقویت ملی۔ صوبوں کو مزید اختیارات منتقل ہوئے اور وفاقی نظام میں صوبائی کردار کو مضبوط کیا گیا۔

اسی آئینی عمل کے نتیجے میں سابق شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے نزدیک یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ شناخت، صوبائی حقوق اور خودمختاری کے طویل سیاسی مقدمے کی تکمیل تھی۔ یوں اسفندیار ولی خان اور عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی خودمختاری کے اس مقدمے کو قومی اسمبلی میں مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، جس کے لیے تمام صوبوں کے حقوق اور اختیارات کی بات کرنے والی سیاسی قوتیں طویل عرصے سے جدوجہد کرتی رہی تھیں۔

یہ تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ایمل ولی خان کو تنقید سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ان کے بیانات، پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھانا ہر سیاسی مخالف کا حق ہے۔ لیکن تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے۔ اختلاف اور تاریخ سے انکار میں بھی فرق ہوتا ہے۔

اسی طرح عابد شیر علی بھی ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلم لیگ ن کی سیاست میں ان کا اپنا سیاسی سفر ہے۔ 2024ء کے عام انتخابات میں این اے 102 فیصل آباد سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ بھی سیاست کی ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ اقتدار، سیاسی مقبولیت اور انتخابی کامیابی کسی ایک شخص یا خاندان کے لیے مستقل نہیں ہوتی۔ آج جو کامیاب ہے، کل اسے عوام کے فیصلے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس لیے کسی بھی سیاست دان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے مخالف کی سیاسی حیثیت کو کم کرنے کے بجائے اس کے مؤقف کا جواب دلیل سے دے۔ پاکستان ایک وفاق ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، قومیتیں اور سیاسی روایات موجود ہیں۔ اس وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کی تاریخ، قربانیوں اور سیاسی جدوجہد کا احترام کرنا ہوگا۔

ایمل ولی خان اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی یہی توقع ہے کہ وہ اپنے جواب میں باچا خان کی سیاسی روایت، برداشت، عدم تشدد اور دلیل کا راستہ اختیار کریں۔ سیاست میں بلند آواز سے زیادہ بلند کردار اہم ہوتا ہے۔

آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ ”ایمل ولی خان کون ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی سیاسی تاریخ کو کتنا جانتے ہیں؟

سیاسی قد ٹی وی اسٹوڈیو میں بلند آواز سے بولنے سے نہیں بنتا۔ سیاسی قد تاریخ میں ثبت جدوجہد، عوامی خدمت، کردار، برداشت اور وقت کے امتحان سے بنتا ہے۔اور دوسروں سے یہ پوچھنے سے پہلے کہ ”آپ کون ہیں؟“ ہر سیاست دان کو کبھی نہ کبھی خود سے بھی یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:

تاریخ مجھے کس حیثیت سے یاد رکھے گی؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے