واشنگٹن( محمد نعمان خان): مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اے آئی کمپنی اینتھروپک نے کہا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل ’’کلاڈ‘‘ کا کمپنی کی نئی اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری میں کردار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران کمپنی کے 90 فیصد سے زائد تحقیقی کام میں انسان اور مصنوعی ذہانت نے مشترکہ طور پر حصہ لیا، جبکہ کمپنی کے نئے اے آئی ماڈلز کی تیاری سے متعلق کام میں کلاڈ کا حصہ بڑھ کر 26 فیصد ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ میں کمپنی کے اے آئی ماڈلز کی تیاری کے عمل میں کلاڈ کا حصہ تقریباً ایک فیصد تھا، تاہم چند ماہ کے دوران اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اینتھروپک کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف معلومات فراہم کرنے کے بجائے پیچیدہ تحقیقی اور تکنیکی کاموں میں بھی معاونت کر رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کی مدد سے تحقیق، نئے ماڈلز کی تیاری اور تکنیکی مسائل کے حل کے عمل میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، تاہم ان نظاموں کی نگرانی اور محفوظ استعمال بھی اہم رہے گا۔