غالب نے بھی اپنے شعر میں تسلیم کیا ہے کہ
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
غالب نے میر کو اپنا استاد مانا ہے۔ آپ کچھ بھی کہیں غالب کے بارے میں جتنی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ غالب کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود لوگ میر کو بھول نہیں سکے ہیں۔ یعنی اتنی پذیرائی کے باوجود غالب ابھی تک میر کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکے ہیں۔
میرے خیال میں میر کو ابھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اوریجنل خیالات کو بیان کیا ہے ۔وہ کسی سے مرعوب نظر نہیں آتے۔میر صاحب کا انتقال ستمبر کی بیس تاریخ سن اٹھارہ سو دس 1810 کو لکھنؤ میں ہوا تھا۔
میر کے والد بڑے صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے ہی میر کوعشق کرنے کی تاکید کی تھی اور دیکھا جائے تو میر کے اشعار صرف دردو غم کے نہیں ہیں بلکہ ان کی شاعری عشق کے گرد گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
والد کے انتقال کے بعد میر نے جوان مردی سے حالات کا مقابلہ کیا۔ کم عمری میں ملازمت کی تلاش شروع کردی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی سنبھالا۔
سوتیلے بھائی نے بہت برا سلوک کیا۔اسی سوتیلے بھائی کے ماموں فارسی اور اردو کے بڑے شاعر سراج الدین خان آرزو سے اکتساب فیض کیا۔
میر کبھی کبھی دو چار شعر جو خان آرزو کی خدمت میں پڑھتے کو پسند کیے جاتے۔ایکدن خان آرزو نے ان سے کہا کہ آج مرزا رفیع آئے اور مطلع پڑھا
چمن میں صبح جو اس جنگجو کا نام لیا
صبا نے تیغ کا آب رواں سے کام لیا
میر نےفرمایا
ہمارے آگے ترا جب کسی نے ان کیا
دل ستم زدہ کو اپنے تھان تھام لیں
سراج الدین اچھل پڑے اور انھوں نے میر کو شاباشی دی۔ میرزندگی میں مشکلوں سے گھبرائے نہیں بلکہ انھوں نے تو ناکامیوں کو اپنی طاقت بنایا۔
میرے سلیقے سے مری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
سنا ہے میر ایک لڑکی کی محبت میں اپنا سدھ بدھ کھو بیٹھے تھے۔ پھر جب ان کی شکایت سراج الدین خان آرزو سے کی گئی تو انھوں نے اپنے گھر سے میر کو نکال دیا۔
نازکی اسکے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر نے اس دور میں آنکھ کھولی جو انتشار اور فسادات کا دور تھا۔ تنہائی، غربت، دنیا کا برا سلوک، حساس طبیعت اور محبت میں ناکامی ان تمام باتوں اور ماحول نے میر کو چڑچڑا بنادیا مگر صرف یہ کہنا کہ وہ درودوغم کے شاعر تھے غلط ہے۔ میر کو سمجھنے کے لیے ان کے اشعار کا باریک بینی سے مطالعہ ضروری ہے۔ میر صاحب فرماتے ہیں کہ
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
بیخودی کے گی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
میر کی قسمت میں ہجرتیں لکھی تھیں۔ وہ اکبر آباد آگرہ میں پیدا ہوئے پھر دہلی آگئے اور اس شہر کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔ نادر شاہ کے حملے کی وجہ سے لکھنؤ جانا پڑا اور اپنی زندگی کے تقریباً 28 برس لکھنؤ میں گزارے مگر دلی کو یاد کرتے رہے۔
دلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
میر کی شاعری مشہور ہونے لگی اور وہ مغرور
ہونے لگے۔ کسی کو لفٹ نہ کراتے مثنوی اجگر نامہ میں انھوں نے خود کو اژدھا اور باقی شعرا کو کیڑے مکوڑے ظاہر کیا ہے۔
میر کی شاعری عام آدمی کی شاعری تھی۔ جو لوگوں کے دلوں میں اتر گئی۔ سیدھے سادے بھولے بھالے انداز میں کہے جانے والے اشعار میں دریا کی سی روانی تھی۔
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللّٰہ اللّٰہ رے طبیعیت کی روانی اس کی
لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے تو تحفے میں میر کی غزلیں ایکدوسرے کو دیا کرتے۔
لکھنؤ کے نواب آصف الدولہ میر کے چاہنے والے تھے اور انہوں نے میر کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ ایک دن نواب آصف الدولہ مرغوں کی لڑائی دیکھ رہے تھے اور ساتھ ہی میر سے ان کا نیا کلام سنانے کی فرمائش بھی کررہے تھے۔میر صاحب ٹھہرے حساس آدمی۔
ان کو بہت غصہ آیا کہ نواب کی توجہ شاعری کے بجائے مرغوں کی لڑائی پر ہے۔ انہوں نے فوراً اپنی غزل جیب میں رکھی اور مشاعرے سے اٹھ کر چلے گئے۔ وظیفہ بھی ٹھکرا دیا اور دوبارہ کبھی محل نہیں گئے۔
دیکھ تو جی کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
اردو کی خوش قسمتی دیکھیے کہ اسے سو سال کے اندر دو عظیم شعراء نصیب ہوگئے اور وہ بھی ایسے شعراء کہ جن کا نعم البدل آج تک نہیں مل سکا میر اور غالب کی عمروں میں تقریباً 74 برس کا فرق ہے۔ یعنی میر کا سورج ڈھلنے کو تھا جبکہ غالب آنے والے دنوں میں مہر نیم روز بن کر دنیائے اردو ادب پر چھانے کے لیے تیار ہورہے تھے۔
ایک مرتبہ ایک صاحب میر کے پاس آئے اور غالب کی غزل دکھائی میر جیسے خود پرست نے غالب کی غزل کو پسند کیا اور کہا کہ
اگر اسے اچھا استاد مل گیا تو کامیاب ہوگا ورنہ مہمل بکے گا۔
وقت نے میر کی غالب کے بارے میں پیشن گوئی کو درست ثابت کیا۔
مجھے تو سوچ کر ہی بہت اچھا لگتا ہے کہ دو لیجنڈ جو کبھی آپس میں مل نہیں سکے مگر وہ ایک زمانے میں برصغیر ہی میں رہتے تھے۔کسے معلوم تھا کہ آگے چل کر اردو میر اور غالب کے نام سے پہچانی جائے گی۔ اس موضوع پر بحث ہوتی رہی گے۔ہونی بھی چاہیے۔ شمس الرحمان فاروقی اور احمد جاوید میر کے طرف دار ہیں ۔غالب پر بھی سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔
مگر یہ تو آپ کو ماننا ہی پڑےگا کہ غالب نے میر کو اپنا استاد مانا ہے اور جب غالب میر کو اپنا استاد مان رہے ہیں تو ہم اور آپ کون ہوتے ہیں جو اس سے انکار کریں۔