سلسلہ دلداری کا!

2فروری 2017 کی سہ پہر کا قصہ بھی اس لائق ہے کہ بیان کر دیا جائے. یعنی کہ اس روز پھر، گھر ہمارے "انجمن خوب خیالاں” سج کر رہی. کچھ احباب تو ٹھیک وہی تھے جن سے تعارف ہوئے چند دن گزر چکے. یعنی وہی سر نعمان و جناب عاقب و حضرت یاسرواپنا قلندر. اب کی بار احباب مگر کچھ ان کے سوا بھی تھے. یعنی کہ سر رضوان، جناب اشفاق، قبلہ جابر صاحب و محترمی محسن رضا. سر رضوان کو جو جو نہیں جانتے وہ اب جان ہی لیں کہ خوش ذوقیوں میں گندهی طبیعت کا مالک یہ نفیس انسان اس قابل ہے کہ اس سے رفاقت کا رشتہ استوار رکھا جائے. تجسس، تدبر، ذوق مطالعہ اور پهر طبیعت کا حسن بقول غالب کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ نشست ہو چلے تو بس کهنچتی چلی جاتی ہے. اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مگن مگر کرکٹ سے یاری آشنائی بھی. شعر و سخن سے محبت تو تصوف سے لگاو بھی. گو وہ تسبیح گھمائے رکهتے ہیں مگر چہرہ ہنسائے رکھتے ہیں. تصوف سے عشق و گداز قبول فرمایا اور تقشف اہل تصوف کے رحم و کرم پر چھوڑ رکها. صفہ والوں کو اسباق پڑھانے پر بهی مامور ہیں. طلبہ ان سے خوش اور ہم ان سے راضی ہیں. آتے سمے تحفے میں اک خوب شکل ڈائری مع قلم بھی دے چلے. جی چاہا ربا ان کا یوں آنا باربار ہوتا رہے. چل پڑی باتوں میں فکر اس پہ بھی کی گئی کہ دیش کے لوگوں کو دماغ چلائے رکھنے پر کیسے آمادہ کیا جاتا رہا؟ ان کا کہا یہ تھا کہ اپنی ذات کی عمدہ تعمیر فطری عمل سے ہی لوگوں کو بھی اس سمت متوجہ کر کے رہے گی کہ وہ بھی اپنی تعمیر کریں. ذات کی تعمیر میں سنجیدگی، دماغ کو سوچنے پر مجبور کرتی رہے گی.

جناب جابر سے احباب کی بے خبری کا بھی کوئی معنی نہیں. ان سے رفاقت کا عرصہ دیکھتے ہی دیکھتے برسوں میں بدلتا چلا گیا. لطف یہ کے طول کے تناسب سے ہی رفاقت کا یہ سلسلہ گہرائی اور مضبوطی بهی پکڑتا چلا گیا. ان نے عرب و عجم کا پانی پی کر حلال یوں کیا کہ رب کا عطا کردہ دماغ مسلسل کھپائے رکھا. دماغ کی مخلصانہ کھپت نے نتیجہ یہ نکالا کہ ارد گرد کے تعصبات کے جال کٹ کر رہے اور انسان بصورت انسان دکھنے لگ گیا. فکر ان کی اپنی عمر کے اس حصے میں ہے کہ دماغ پر کسی نیلی پیلی پٹی کا کوئی اثر تک موجود نہیں. منظر اور نظر کے درمیان کوئی کالا، پیلا چشمہ حائل نہیں. سو صورت انہیں ٹھیک ویسی ہی دکھ کر رہتی ہے جیسی کہ وہ حقیقت میں ہے. طبیعت کے حسن کا مظہر خوش ذوقیوں کے ہمراہ تمہارے روبرو ہو کر رہتا ہے. بات لطف سے خالی نہیں کہ مجلس سے گھر پلٹ کر میسج پهینکا کہ آج کھلایا گیا پلاو بہت کمال کی ادا کا تھا. سمجھیے اس سے یہ کہ ان کی خوش ذوقیوں کی زد سے طعام تک بھی نہ بچ پایا. ہم باتوں باتوں میں پلاو کا لطف لینے میں وہ مقام نہ پا سکے جو خوش ذوقیوں کے طفیل یہ پا کر رہے. بزرگوں کا کہا یاد آیا کہ ایں سعادت بزور بازو نیست. چل پڑی باتوں میں ان کی یہ بات نقل کیے دیتا ہوں کہ بھئی اس قسم کی مجالس اہتمام سے جمتی رہنی چاہیں. تنہا سوچنے کے عادی اک دن زحمت یہ کر لیا کریں کے اپنی سوچ کے حاصلات کسی جگہ مل بیٹھ کر شئیر کر لیا کریں. یوں انفرادی عمل خلوت کدے سے نکل کر جلوت کدے تک بھی پہنچے گا. یوں ہی انفرادیت بآسانی اجتماعیت کا روپ دھار کر زیادہ بار آوار ہو پائے گی.

حضرت محسن رضا کے احسان کو ملاحظہ کیجیے کہ سرراہ ملے تو انہیں خبر کی کہ چند احباب جمع ہونے کو ہیں چلیے آپ بھی مجلس آرائی خوب طرح سے ہو پائے گی. بلاتردد ہو لیے ساتھ، یوں ان کا آنا تھا کہ فکر کے دریچے کھل گئے. گو میدان ان کا سائنس ہے جہاں یہ ایم ایس سی کر کے رہے. ٹهاں بیٹھے ہیں کہ ایم فل کی راہ نکل آئے تو وہ بهی نمٹا لی جائے. ذوق مگر ان نے ادبی و علمی بهی پایا ہے. شعر و سخن سے محبت نے کئی اشعار ان کے حافظے میں محفوظ کروا ڈالے. مطالعاتی ذوق نے فکر کو وسعت آشنا کر ڈالا. یہ وہاں کھڑے ہیں جہاں سے انسان صرف انسان دکھتا ہے. مولانا آزاد سے لگاو کا نقد صلہ، فکری افق کی وسعت کی صورت میں انہیں مل کر رہا. دوران گفتگو برمحل اشعار و اقوال نے مجلس کی رونق بڑھا کر رکھ دی. اقوال کا نور جواں ہوا تو آفتاب مارے حیا کے لگا چھپنے، سو موقع پا کر تاریکی چها کر رہی یوں رات کی آمد نے سلسلہ کو طول پکڑنے سے باز رکھا. آزاد کا یہ فرمان زور دے کر سنایا جناب محسن نے کہ "اپنے دلوں کومضبوط بناو اور دماغوں کو سوچنے پر آمادہ کرو” ابوالکلام کے اس کہے میں کلام ہو بهی تو کیا ہو سکتا ہے؟

سر اشفاق کا وجود گو نحیف مگر عزم توانا ہے. صفہ سکول میں منصب معلمی پر فائز ہیں. خود کو جتنی دور سے یہ چلا کر ہمارے گھر تک لائے سوچتا ہوں تو رحم آتا ہے. آنا ہی ہوتا تو معاملہ سہل تھا، مگر مغرب کے وقت واپس جانے پر کامیاب اصرار سچ یہ ہے کہ بہت احسان آمیز ہمت کا کام ہے. قناعت پسند طبیعت کا مالک یہ انسان بھی ہم نے انسان دوست پایا. ان کی حیاء آمیز بڑائی ، عاجزی میں سر چھپائے بیٹهی ہے. طبیعت محض بے ضرر نہیں بلکہ نافع ملی ہے ان کو. قدرت کا یہ فضل عام نہیں کہ ہر انسان سے چپکتا پهرے. قدرت چن کر انہیں یہ خصلت بخشتی ہے جو انسانی اطوار کے عین مطابق جینا دل و جان سے قبول کر لیتے ہیں.

ان کا فرمان سنتے جائیے کہ فکر و نظر کی مجالس اہتمام سے ہوتی رہنی چاہیں. اس میں بهی ایثار کی حد یہ کہ اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیے رکھتے ہیں. مدعا یہ کہ اپنی سیٹ واسطے دوسروں کے وقف رکھتے ہیں. قناعت پسند طبیعت کی وسعت تقاصہ کرتی ہے کہ علم کی لالچ سے بھی من آلودہ نہ ہو. بھلے علم کی کی کیوں نہ ہو بس لالچ بری بلا ہے. سرنعمان کی آنکھوں پہ صدقے کہ کہنے لگے شعور کی شمع جلتی دیکھ رہا ہوں مل کر کوشش کریں گے اسے بجهنے نہ دیا جائے. ذیشان قلندر بول پڑا کہ صاحبو اس طرح کی نشستوں کا اہتمام بھی ہونا چاہیے اور پھیلاو بھی.

حبیبی یاسر کے کہے پہ بات ختم کرتے ہیں کہ
ان نشستوں کو میں نے مفید پایا ، جی چاہتا ہے کہ نوجوان دماغوں کو اس سمت توجہ دلا کر یہ سلسلہ مزید بڑھا دیا جائے.

احباب یہ سب سن کر اب میرے کہے میں دهرا کیا ہے کہ وہ بھی سنا دیا جائے. زیادہ سے زیادہ یہی کہا ہو گا کہ "سوچ کے عادی مجرموں پر آگہی کا یہ قرض ہے کہ پوری قوم کو جرم آگہی میں مبتلا کر چھوڑیں. جو جہاں جائے شعور کا بیج بوتا چلا جائے”.
سو آج کی مجلس تمام ہوئی، حدیث دل ہے کہ ہمیشہ کی طرح ناتمام ہی رہ گئی.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے