قطرسعودی اختلاف کی اصل وجہ کیا ہے؟؟
گزشتہ کئی دن سے بعض دوست سوال کر رہے ہیں کہ سعودی عرب اورقطر کے درمیان حالیہ بحران کی اس قدر سنگینی کے پیچھے اصل وجوہات کیا ہیں؟؟
یوں تو بظاہر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک قطر کے سفارتی بائیکاٹ کی وجہ قطر کا بے لگام میڈیا اور ریڈیکل اسلامسٹ تنظیموں کی حمایت بتا رہے ہیں لیکن واقفان حال جانتے ہیں کہ اصل وجہ یہ ہے ہی نہیں۔۔خود قطری وزیرخارجہ نے کل پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ انہیں تنہاکرنے کی کوششوں کی وجہ یہ نہیں جو ظاہر کی جارہی ہے۔۔۔۔
تاہم ریڈیکل اسلامی تنظیموں کی "حمایت” کے الزام کو آسانی سے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واقعاتی طور پر یہ الزام کسی حد تک ثابت بھی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قطر ایسی تنظیموں کی سپورٹ کیوں کر رہا ہے جس سے بقول فریق مخالف کے خلیج کا علاقائی امن خطرے میں ہے؟!
دراصل قطر کی جانب سے مبینہ انتہا پسند تنظیموں کی اس حمایت کے پیچھے ایک طویل داستان ہے۔ قطر مزاحمتی تنظیموں کی حمایت کے طور پر جو کچھ کر رہاہے یہ در اصل ایک ردعمل ہے۔ قطر کے سماج پہ گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قطر میں "آل مرہ” نامی ایک طاقتور قبیلہ رہتا ہے۔ اس قبیلے کی جڑیں سعودی عرب اور عرب امارات تک پھیلی ہوئی ہیں۔۔
یہ 1971ء یعنی قطر کے قیام و استقلال سے سعودی عرب کا اتحادی بلکہ اہم آلہ کار ہے۔ قطرکے حکمران خاندان "آل ثانی” نے بر سر اقتدار آکر دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح عوام کو پسماندہ رکھنے کے بجائے انہیں خوشحال بنانے کے لئے کام کیا جس سے نہ صرف عوام کوخوشحالی میسرآئی بلکہ قطر دنیا کی ایک مضبوط معیشت بن گئی۔ آل ثانی کی یہ پالیسی خلیج کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے قطر کو زیر دست اور دست نگر رکھنے کے لئے "آل مرہ” کو استعمال کرنا شروع کیا۔۔
قطر کی حکومت سے یہ سازش مخفی نہیں رہی لیکن عربی مقولے: "ارع الجار ولو جار۔۔۔۔۔” یعنی پڑوسی کا خیال رکھو، وہ تم پہ ظلم ہی کیوں نہ کرے کے مصداق قطر اسے برداشت کر رہاہے، تاہم سعودی اور اماراتی حکمران خاندانوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں تو جواب میں وہ بھی کئی تنظیموں کودوست بنائے رکھنے پر مجبور ہوا کیونکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر ایسا کرنا قطر کی سلامتی اور استحکام کے لئے ضروری ہوگیا تھا۔
1996ء میں اس وقت معاملہ سنگین تر ہوگیا جب "آل مرہ” نے خلیجی مہربانوں کے خفیہ تعاون سے امیر قطر الشیخ حمد آل ثانی کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کی۔ اگرچہ یہ بغاوت ناکام ہوگئی مگر اس کے منفی اثرات سے قطر محفوظ نہ رہ سکا۔ حکومت نے بغاوت میں ملوث سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا جنہوں نے اعتراف جرم کیا۔ ان میں سے 19 کو بعد ازاں پھانسی دے دی گئی، باقی کو جیلوں میں رکھا گیا، تاہم ان کے ساتھ اچھا سلوک روارکھاگیا۔۔ 2004ء میں سابق امیر قطر نے ان افراد میں سے بہت سوں کو عام معافی کے تحت رہا کیا، جو جیل میں رہے انہیں بھی بعدازاں سعودی شاہ عبداللہ کی درخواست پر رہا کردیا گیا لیکن رہائی ملتے ہی یہ افراد سعودی عرب بھاگ گئے اوروہاں سے قطر کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔۔
یہ لوگ اس وقت سے سعودی عرب کے "مہمان” ہیں۔ سعودی عرب کے ایک شہزادے طلال بن عبدالعزیز ان کے خصوصی "میزبان” اور خاص مہربان ہیں۔ قطر کو سعودی عرب کے اس نرالے انداز میزبانی پر شدید اعتراض ہے تاہم وہ اچھے ہمسایہ کا کردار ادا کرتے ہوئے وہ خاموش رہنے پرمجبورہے۔
اب یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہوگی کہ قطر یمن کے حوثیوں، فلسطین کی حماس اور مصر کی الاخوان کو سپورٹ کیوں کرتاہے۔۔۔۔۔؟!
( "آل مرہ” کے عزائم اور ان کے مہربانوں سے متعلق مزید چشم کشاحقائق ان شاء اللہ کسی اورموقع پر پیش کئے جائیں گے۔)