کشمیر میں ہزاروں قبائل جنگ لڑتے ہوئے مارے گئےجن کاآج تک پتہ نہیں چلا

1947-48 کی کشمیر جنگ میں ہزاروں قبائل نے اپنی جانوں کی قربانی دی ، جن میں سے صرف دو ہزارکے قریب میتیں واپس خیبرپختونخوا اورقبائلی اضلاع میں لاکر دفن کی گئیں۔ ان میں قبائلی اضلاع کی بجائے سب سے زیادہ تعلق سابقہ ریاست دیرکاہے ۔ ریاست دیر کے ہزاروں افرادنے اس جنگ میں شرکت کی ، لیکن ان میں سے صرف 448 افرادکی لاشیں دیرلائی گئیں، جبکہ باقی میتوں کا تعلق صوبہ کے مختلف علاقوں سے تھا۔ اس جنگ میں تقریباًایک لاکھ سے زائد افرادنے شرکت کی تھی ، جن میں سے نصف سے زائد افراد جنگ لڑتے ہوئے مارے گئے یاآج تک انکاپتہ نہیں چلا۔

 

[pullquote] کشمیر جنگ میں مرنے والوں کا تعلق کہاں سے ہے؟[/pullquote]

21 فروری 1949میں کمشنرپشاورکی جانب سے وزیراعلیٰ اور گورنرجنرل کو بھیجے گئے، ایک خصوصی مراسلہ میں کہا گیا کہ کشمیرسے تقریباً دو ہزارکے قریب میتیں واپس لائی گئیں ، جن میں کچھ میتوں کا ریکارڈحاصل نہیں کیاجاسکا، تاہم ان میں سب سے زیادہ 448افرادکاتعلق ریاست دیر سے ہے۔ ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے ایک محقق ڈاکٹرلطف الرحمن کہتے ہیں کہ دیرکے نواب نے اس جنگ میں بحیثیت ریاست حصہ لیاتھا اورباقاعدہ لشکربناکر ریاستی فورسز کیساتھ کشمیربھیجا ۔ دیر کے نواب کے صاحبزادے خسروخان ان لشکروں کی تیاری میں سب سے متحرک نظرآئے ۔ اس جنگ میں ان448افراد میں دیرفورس کے کمانڈران چیف فقیرمحمدبھی شامل ہیں، سرکاری دستاویزات کے مطابق جن افرادکی لاشیں واپس لائی گئیں، ان میں66کاتعلق سوات، 21 مہمند، 28کرم، 20بنوں،13 خیبر، 14چترال، 10مردان، 201جنوبی وزیرستان،پانچ شمالی وزیرستان اورتین کاتعلق ہزارہ سے ہے۔ تاہم بڑی تعدادمیں ایسی بھی میتیں لائی گئیں جن کا سرکاری ریکارڈحاصل نہیں کیاجاسکا ۔

[pullquote]کشمیرجنگ کیلئے لشکروں کی تیاری کس نے کی؟؟[/pullquote]

1949ء میں پاکستان میں متعین برطانوی ہائی کمشنرلارنس بارٹن گرافٹی سمتھ اپنے ایک مراسلہ میں لکھتے ہیں کہ کشمیر بھیجے جانیوالے لشکروں سے حکومت پاکستان خصوصاًقائداعظم محمدعلی جناح کاکوئی تعلق نہیں تھا، نہ ہی ریاستی سطح پر انہیں اکسایا گیا تاہم میجر(ر)محمد نواز اپنی کتاب ”دگارڈین آف دی فرنٹیئر:فرنٹیئرکور”میں لکھتے ہیں کہ اس جنگ کیلئے اگرچہ ریاستی پالیسی نہیں تھی ، لیکن مقامی حکمرانوں نے اس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ نیز لکھتے ہیں کہ صرف دیر سے 31ہزار سے زائد افرادنے اس جنگ میں شرکت کی تاہم سرکاری دستاویزات کے مطابق دیر سے 12 ہزار975 افراداس جنگ میں شریک ہوئے۔

ڈاکٹر لطف الرحمن کے مطابق ایک لاکھ کے قریب افراد نے اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبہ اور قبائلی علاقوں سے اس جنگ میں شرکت کی جن میں سب سے زیادہ کا تعلق دیر ،سوات اور یوسفزئی قبائل سے تھا، ان کے مطابق دیرکے نواب نے قائداعظم محمدعلی جناح سے ملاقات کیلئے اپناایک قاصدبھی بھیجا تھا کہ اس جنگ کو ریاستی سطح پراپنایاجائے تاہم ان کی جانب سے کوئی حوصلہ افزاجواب نہ مل سکا۔ اسوقت کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان کے علاوہ ریاست سوات کے مولوی فضل حق، پشاور کے مولوی عبدالقیوم پوپلزئی اور مولاناعبدالماجد اورمیاں محمدشاہ نے مختلف مقامات پر لوگوں کولشکرکشی کیلئے تیار کیا ۔

محقق ڈاکٹرنفیس الرحمن منہاج الحسن کی کتاب قیوم خان ان وارآف کشمیر 1947-48 سے مانچسٹرگارڈین کے اخبارکاحوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کشمیرجنگ میں 75 ہزار قبائلی افرادنے شرکت کی تھی جن میں 25 ہزار افراد معمولی یامکمل طور پر تربیت یافتہ تھے تاہم وہ مقامی قبائلی رہنما عبدالطیف کاحوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بقول سوادولاکھ افراد نے کشمیرجنگ میں حصہ لیا۔

[pullquote]کشمیر جنگ کاآغازکیوں ہوا؟؟[/pullquote]

تین جولائی1947کے تقسیم ہند کے منصوبہ کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جانا طے ہوا۔ جولائی میں باقاعدہ طور پر برطانوی دارالعوام سے اس منصوبہ کی منظوری لی گئی ، جولائی میں ریاست کشمیرکے علاقہ پونچھ میں نوٹیکس مہم کے ذریعہ مزاحمتی تحریک کاآغاز ہوا، 14 اور 15اگست کوپونچھ میں پاکستان کے پرچم بلندکرنے پر ریاستی فورس اور پاکستان کے حمایتوں کے مابین تصادم ہوا ۔ چار اکتوبر کو کشمیر کے ایک اورعلاقہ تہوارمیں جھڑپوں نے مزیدشدت اختیار کی ۔ یہ خبریں جب پاکستان پہنچیں تو 21اکتوبرکو مختلف قبائلی علاقوں میں سرکاری حمایت نہ ہونے کے باوجود غیرسرکاری طور پر لشکربنائے گئے اور22 اکتوبرکو مقامی قبائلیوں نے گڑھی حبیب اللہ کے راستہ کشمیرمیں داخل ہونے کی کوشش کی ، جس کے بعد باقاعدہ جنگ کاآغاز ہوا ۔ کشمیرکے حکمران مہاراجہ ہری سنکھ نے دباؤ میں آخر 26 اکتوبر 1947کوبھارت کیساتھ ریاستی طور پر الحاق کرنے کا معاہدہ کیا، تاہم یہ شرط رکھ دی کہ حالات معمول پرآنے کے بعد علاقہ میں رائے شماری کی جائے گی۔ 27اکتوبر کوبھارتی فوج فضائیہ کے تعاون سے کشمیرمیں داخل ہوئی اورجنگ کاآغاز ہوا ۔ یکم جنوری1948ء کو بھارت نے اقوام متحدہ سے مددمانگی اور پانچ فروری 1948 ء کو اقوام متحد ہ میں قرارداد پاس کی گئی کہ کشمیری عوام کوحق خودرادیت دیاجائے ،اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعدیکم جنوری1949ء کو کشمیرمیں مکمل طو رپرجنگ بندی کی گئی۔ 26اکتوبر1950کو بھارت نے اپنے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کااضافہ کیا اورکشمیرکوخصوصی حیثیت دی ۔

[pullquote]کشمیرمیں داخل ہونیوالے قبائلیوں کے پاس کونسااسلحہ تھا؟[/pullquote]

بی بی سی کے نامہ نگار الیاس خان اپنی رپورٹ میں تحریرکرتے ہیں کہ بیشتر قبائلیوں کے پاس کلہاڑیاں،تلواریں اورمقامی طور پر تیار کئی گئیں بندوقیں تھیں اوریہ گڑھی حبیب اللہ کے راستہ کشمیرمیں داخل ہوئے۔ مظفرآبادمیں سب سے پہلے جھڑپوں کاآغازہوا اور اس کے بعد یہ سلسلہ مزید پھیلتاگیا ۔ تاہم محقق ڈاکٹرلطف الرحمن کہتے ہیں کہ راجوڑی ،پونچھ،میرپور اورمظفرآبادمیں قبائلیوں نے لشکرکشی کی تھی ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق نومبر1948ء میں پہاڑوں پربرفباری اورموسم میں شدت آنے کے باعث جھڑپوں کاسلسلہ کم سے کم ترہوتاگیا ، بعض سرکاری دستاویزات نے وضاحت کی ہے کہ تقریباًچالیس ہزارکے قریب افراد واپس پاکستان آئے، لیکن ہزاروں افراد یا تو شہید ہوئے یاانہوں نے کشمیرمیں مستقل سکونت اختیار کی۔ لشکرمیں حصہ لینے والوں میں ملاکنڈکے یوسفزئی، خیبر ایجنسی کے آفریدی، مہمند ایجنسی کے مہمند،کرم ایجنسی کے طوری اور وزیرستان کے محسود اور وزیر قبائل کی بڑی تعدادشامل تھی ۔

[pullquote]کیاپنجاب کے مقامی افرادنے کشمیرجنگ میں حصہ لیا؟[/pullquote]

کمشنرپشاور کے مراسلہ کے مطابق پنجاب سے صرف نیازی قبیلہ کے پچاس سے زائد افرادنے محسودقبائل کیساتھ مل کر کشمیرجنگ میں حصہ لیا۔ یاد رہے کہ نیازی قبیلہ بھی نسلاً پٹھان ہے۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ پنجاب سے صرف مالی معاونت کی گئی ۔ کراچی کے مختلف تجارتی افراد نے دس ہزار سویٹرز اور جرابیں لشکرکی امدادکیلئے بھیجیں۔ جنگ میں مالی معاونت کےلئے لگائے گئے کیمپ میں ایک لاکھ روپے کا چندہ اکٹھا ہوا۔ سرگودھا سے 51 ہزار اور پشاورسے 31 ہزارروپے جمع کئے گئے ،مظفرگڑھ کی مقامی خواتین نے اپنازیوربیچ کر جیپ خریدکرلشکرکی امداد کی ،مسجدوزیرخان کے خطیب نے جمعیت علماء ہندکی جانب سے مالی معاونت کے بعد لشکرکے تعاون کیلئے بندوقیں اوردوجیپیں خرید کر دی تھیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے