ہر باشعور عمر کا ہے

جب کسی قیدی کو کاغذ کے نقشے پر آزادی کی چابیاں بناتے دیکھتا ہوں تو حضرت عمر یاد آتے ہیں، جنہوں نے فرمایا تھا ،تم نے لوگوں کو غلام سمجھنا کب سے شروع کر دیا ہے انکی ماوں نے تو انہیں آزاد جنا تھا-

جب قاری اسلم کے بچوں پر بارش سے چھت گری تو حضرت عمر کی فراست پر ایمان پختہ ہو گیا کہ انہوں نے قاری نظر آنے والے قرآن کو سوسائٹی کے حوالے کیوں نہیں کیا ؟ آج سمجھ آئی کہ قراء کی تنخواہیں بیت المال سے کیوں مقرر ہوئی تھیں؟-

جب اقلیتوں کو ملک سے ہجرت کرتے دیکھتا ہوں تو انکا یہودی بزرگ سے حسن سلوک یاد آ جاتا ہے جس کو وظیفہ جاری کر کے فرمایا تھا کہ اللہ کی قسم یہ انصاف نہیں کہ ان لوگوں سے ہم جوانی میں جزیہ لیں اور بڑھاپے میں انہیں تنہا چھوڑ دیں، غیر مسلم بوڑھوں کا وظیفہ سرکار دیا کرے گی-

جب سلیم پور کچہ کے رہائشی فیاض احمد، اسکی بیوی اور تین بیٹیوں کو بھوک کی وجہ سے نہر میں چھلانگ لگاتے دیکھتا ہوں تو احساس عمر یاد آتا ہے کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر کو جواب دینا پڑے گا-

جب کھجوروں کے باغ میں حیات بلوچ کو ماں باپ کے سامنے قتل ہوتے دیکھتا ہوں تو عدل فاروقی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے، اپنے عدل پر کتنا اعتماد تھا! کانپتی زمین پر کوڑا مارا اور کہا کانپتی کیوں ہو؟ کیا عمر نے عدل نہیں کیا؟ ساہیوال کے بچوں، نقیب اللہ محسود ،دیوانے صلاح الدین اور حیات بلوچ پر ہونے والے مظالم ہر روز عمر کی یاد دلاتے ہیں-

جب کسی طاقت ور جرنیل کو سول حکمران کی گردن دبوچتے دیکھتا ہوں تو حضرت عمر کا حضرت خالد بن ولید کو جرنیل سے سپاہی بنانا یاد آتا ہے کہ کتنی جرات سے انہوں نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا اور جرنیل نے بھی سر تسلیم خم کیا، جرنیل کو معلوم تھا سامنے عمر ہے کوئی کمزور حکمران نہیں-

محرم آتے ہی اہل بیت و صحابہ کو جب دو حصوں میں بٹتا دیکھتا ہوں تو حضرت عمر کی اہل بیت سے محبت یاد آ جاتی ہے اور خصوصا وہ جملہ جو اہل بیت کے ایک بچے نے حضرت عمر کے بچے سے کہا تھا کہ آپ کے ابو میرے نانا کے غلام ہیں، یہ جملہ حضرت عمر کی اہل بیت سے محبت جگا دیتا ہے اور کہتے ہیں بیٹا جاو جا کر لکھواو ہم اہل بیت کے غلام ہیں، یہ جملہ میری بخشش کے لیے سند ہے، بروز حشر حضور سے کہوں گا میری غلامی پر آپ کے نواسے کی مہر ہے-

لڑنے والی قوم کے لیے حضرت عمر کا یہ جملہ تریاق ہے کہ صحابہ بھی ہمارے ہیں اور اہل بیت بھی ہمارے،

جب لوگوں کو حاکم وقت کے سامنے خاموش دیکھتا ہوں تو حضرت عمر کی رعایا یاد آ جاتی ہے جنہوں نے بھری مجلس میں عمر سے پوچھا تھا دوسرا کرتا کہاں سے لائے ہو؟ اور حضرت عمر چیں بجبیں ہونے کی بجائے وضاحت کرتے ہیں کہ دوسرا کرتا کیسے ملا!!

ہر دور عمر کا ہے ہر باشعور عمر کا ہے

حضرت عمر مسلمانوں کے لیے ہی آئیڈیل نہیں غیر مسلموں کے لیے بھی آئیڈیل ہیں ، انکے کاموں سے انسانوں کو فائدہ ہوا، حکمرانی کا جو مثالی باب وہ رقم کر کے گئے بعد والا کوئی نہ کر سکا، ہر دور عمر کی یاد دلاتا رہے گا، ہر نا انصافی کے بعد حضرت عمر اور انکا عدل یاد آتا رہے گا –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے