یہ کیسا ملک ہے؟

یہ کیسا ملک ہے، جہاں سراج الحق ایسے رہنما FATF سے متعلق قوانین کی منظوری کو گناہ قرار دیتے ہیں، بجائے ایسے اقدامات کی ستائش کے، بھلے وہ کسی دباﺅ کے تحت ہوں۔ جن کی مدد سے بینکاری قوانین و ضوابط کا غلط ، ناجائز استعمال روکا جا سکتا ہے، انہیں ”گناہ“ قرار دینے پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں دانشور ، صحافی، وکلا اور سیاسی کارکن بنیادی سوالات پوچھنے کی بجائے ان شخصیات اور اداروں کی تنقید اور مدح سرائی میں مصروف ہیں، جو پاکستان پر گزشتہ سات دہائیوں سے برسرِ اقتدار اور براہ راست یا بالواسطہ ملک کے سماجی ، اقتصادی اور سکیورٹی مسائل کے ذمہ دار ہیں۔

مسائل کا اعتراف کرتے ہیں، مگر جب مفادات پر زد پڑتی ہے، تو انہی شخصیات کا دفاع شروع کر دیا جاتا ہے، جو اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔
یہ کیسا ملک ہے، جہاں وزیراعلیٰ بننے کے بعد امیر حیدر ہوتی کا گھر کئی، ایکڑ پر محیط فصیل سے گھرے محل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جہاں وزیراعظم بننے کے بعد یوسف رضا گیلانی ذاتی گاڑیوں کی تعداد لیز والی گاڑی سے بڑھ کر ذاتی ملکیتی درجن سے زائد مہنگی ترین گاڑیوں میں بدل جاتی ہے۔ کیسا ملک ہے جس کا سابقہ سربراہ جنرل پرویز مشرف سعودی یا اماراتی شاہوں کا تحتفے میں دیا گیا محل قبول کر لیتا ہے اور اسے گیسٹ ہاﺅس میں تبدیل کر دیتا ہے۔ حمیت Self respect خودداری اور Pakistan first کا نعرہ کہاں رہ جاتا ہے۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں کے بڑے بڑے دانشور ، صاحب حیثیت امریکی حکام اور Think tanks کے سامنے اپنی بے بسی اور معاشی مجبوریوں کا رونا رو کر ان سے وظائف کی التجا کرتے ہیں!

یہ کیسا ملک ہے، جہاں حکمران اشرافیہ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کے مالک (جائیدادوں کا ذکر نہیں کریں گے) مگر انکم ٹیکس کی مد میں محض دو تین لاکھ سرکاری خزانے میں جمع کرواتے ہیں۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں خاص و عام کی اکثریت اُن اسباب کی نشاندہی اور ان کی اصلاح پر توجہ سے گریزاں ہے، جو کہ ہمارے معاشرتی اور معاشی زوال اور سست رفتار ترقی کے ذمہ دار ہیں، اس کی بجائے معاملات کو سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی نظر سے جانچا جا رہا ہے؟

یہ کیسا ملک ہے، جہاں کے وزیر ، سفیر اور جرنیل یہاں مکمل کیریئر گزارنے کے بعد واشنگٹن، لندن اور دوسرے دارالحکومتوں میں نوکریاں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
یہ کیسا ملک ہے، جہاں عوام کو حب وطنی کا درس دینے والے کئی سیاستدانوں اور جرنیلوں کے بچے اور اثاثے غیر ملکوں میں آباد اور پھل پھول رہے ہیں۔ لندن، واشنگٹن، نیویارک، کیلی فورنیا ، غرض کہ یہ جگہ کا مستقل نقشِ پا نظر آئے گا۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں عدلیہ نے اپنی بندوقوں کا رخ مسلسل انتظامی اداروں کی طرف کر رکھا ہے۔ کبھی حکومتی تعیناتیوں کیلئے حکمِ امتناعی دے دیا جاتا ہے ، کبھی صوبائی حکومتوں اور اداروں کو پبلک پارکوں پر مافیا قبضہ ختم کرنے کا کم دیا جاتا ہے۔ تازہ ترین حکم فیصل آباد میں فلاح مقاصد کیلئے …….. پلاٹس اور گرین بیلٹس پر قائم پٹرول پمپ اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق ہے (19 اگست)۔

بڑی اچھی اور خوش آئند بات مگر کیا عدلیہ اسلام آباد میں F-8 مرکز میں گاڑیوں کے پارک اور تفریحی پارک پر وکلا کے قبضے سے بھی آگاہ ہے؟ متاثرہ کاروباری حضرات اور پلازہ مالکان سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں جمع کرا چکے ہیں، غیر قانونی وکلا چیمبرز کے خلاف مگر شاید ’چراغ تلے اندھیرا ‘۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز، صفدر، اعجاز الحق اور ایسے ہی بے شمار دیگر پاکستانی رہنماﺅں کے اندرون اور بیرون ملک اثاثے معلوم ہیں، ایون فیلڈ، پارک لین فلیٹس سب کے سامنے ہیں۔ بلاول بھٹو کی اندرون اور بیرون ملک 44 جائیدادیں اور اثاثے ہیں۔ شریف گھرانے کا اربوں کا کاروبار ہے۔ ملک ریاض تحفے میں کنالوں پر پھیلی جائیدادیں ان سیاسی خانوادوں اور جرنیلوں کو تحفہ میں دے دیتے ہیں۔لاہور اور دبئی میں محل آصف زرداری کو بطور تحفہ دے دیتے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آخر یہ کیسی دوستی ہے۔ اس کے بدلے کیا سندھ میں ، کراچی میں، سرکاری زمینوں کا سودا کیا گیا؟ کون سے پرمٹ اور جائیدادیں دی گئیں۔

یہ کیسا ملک ہے، جہاں ذرائع ابلاغ کے بڑے بڑے نام دِن رات سرکاری اداروں کے خسارے، نقصانات، بد انتظامی اور لوٹ مار کا ذکر کرتے نہیں تھکتے، مگر خود اپنے لیے اپنے اداروں کیلئے حکومت سے امداد کے متقاضی ہیں۔ اپنے حقوق کا تو ذکر کرتے ہیں، مگر فرائض کی طرف کوئی رخ نہیں۔ ان میں سے کئی خواتین و حضرات وزارت اطلاعات اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے وظائف ، سپانسر شپ پر پلتے رہے ہیں ، مگر دوسروں کو ایمانداری اور اچھی حکومت کاری کا درس دیتے نہیں ….۔

دراصل یہ ایسا ملک ہے جہاں ایمانداری (Integrity) کا فقدان اور بے ضمیری کا راج ہے۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں ہر شخص اور ادارہ دوسروں کی طرف انگلی اٹھاتے نظر آ رہا ہے، یہ ایسا ملک ہے، جہاں خود بے ایمانی اور منافع خوری میں ملوث خواتین و حضرات دوسروں کو ایمانداری حب الوطنی اور اچھی حکومت کاری کا درس دینے میں کمال نہیں رکھتے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے