خیبر پختونخوا: سرکاری سکولوں کو کھولنے سے متعلق حکومت شدید تذبذب کا شکار

ستمبر میں خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کو کھولنے سے متعلق حکومت شدید تذبذب کا شکار ہے، سکول کھولے جائیں تو صوبے کے 6 ہزار 458 سکولوں میں پانی کی سہولت میسر نہیں اور 4 ہزار 899 سکولوں میں سرے سے واش روم ہی نہیں تو پھر کورونا سے بچنے کیلئے طلباء ہاتھ کہا دھوئیں گے ،اسی طرح حکومت پچاس سال سے اوپر اور مختلف امراض میں مبتلا ملازمین اور اساتذہ کے متعلق بھی فکر مند ہے کہ اگر انہیں دوران تدریس کورونا کا وائرس منتقل ہوجاتا ہے تو پیش آنے والے خطرات کا ذمہ دار کون ہوگا ؟؟؟؟ حکومت سکول کے کلاس رومز کی کمی ، طلباءکی تعداد میں اضافے ، ڈراپ آﺅٹ اور اضافی لاگت کے متعلق بھی گو مگوں صورتحال سے دوچار ہے۔

[pullquote]خیبر پختونخوا میں سرکاری سکولوں کے اعداد و شمار کیا ہیں ؟؟؟؟ [/pullquote]

خیبر پختونخوا میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 33 ہزار 477 ہے، جن میں 12ہزار 563 سکولوں میں ایک یا دو کمرے ہیں، صوبے کے 19.19 فیصد یعنی 6 ہزار 458 سکولوں میں پانی کا کوئی انتظام نہیں اور وہ قریبی محلے یا علاقے سے پانی کا انتظام کرتے ہیں، اسی طرح 15فیصد یعنی 4 ہزار 899 سکولوں میں واش رومز ہی میسر نہیں، محکمہ صحت نے خیبر پختونخوا کی محکمہ تعلیم کو تجویز دی ہے کہ کورونا سے بچاﺅ کیلئے سرکاری کلاس رومز میں زیادہ سے زیادہ 25 طلباء کو بیٹھایا جاسکتا ہے، اس وقت خیبر پختونخوا میں طلباء کی تعداد 55 لاکھ سے زائد ہے ، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت طلباء کی تعداد کے مطابق ایک کلاس روم اوسطاً 38 طلباءکیلئے ہے ، جبکہ محکمہ صحت نے 25 طلباء کے ایک کلاس روم میں بیٹھنے کی سفارش کی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ میں 82 طلباء کیلئے ایک کلاس روم تعمیر کیا گیا ہے ، ضلع خیبر میں 61، اپر دیر 52، مردان 41، لوئر دیر 47، کرم 43، ملاکنڈ 39، سوات 39 اور تورغر میں 45 طلباء کیلئے ایک کلاس روم موجود ہے لیکن اورکزئی میں سب سے کم 21، ایف آر لکی 22 اور ایف آر ڈی آئی خان میں 25 طلباء کیلئے ایک کلاس روم موجود ہے ، پشاور میں 27 طلباء کیلئے ایک کلاس روم تعمیر کیا گیا ہے، محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کے 16 فیصد پرائمری طلباءاور 2 فیصد ہائی سکول طلباء کو کلاس روم کی سہولت ہی میسر نہیں اور وہ درختوں کے نیچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں اس وقت 17 ہزار سے زائد اساتذہ کی تعداد ایسی ہے، جن کی عمریں 50 سال سے زائد ہیں اور ایک یا ایک سے زائد بیماریوں میں مبتلا ہیں، ان ملازمین کی سکولوں میں دوران تدریس طلب کرنے سے متعلق بھی مختلف آرائیں ۔

[pullquote]سرکاری تعلیمی اداروں کو کھولنے کیلئے تجاویز کیا ہیں ؟؟؟؟؟؟[/pullquote]

خیبر پختونخوا حکومت کی محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں سے متعلق مختلف تجاویز دی ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر سرکاری سکولوں کے صابن اور سینٹائزرز کیلئے 50 کروڑ روپے جاری کریں یا سکولوں میں پہلے سے موجود پی ٹی سی فنڈ کے استعمال میں تخصیص ختم کی جائے اور اس فنڈ کو تعمیر و مرمت کی بجائے صابن و سینٹائزرز کی خریداری کے علاوہ پانی کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے ، موجودہ وقت میں فوری طور پر نئے کمروں کی تعمیر ممکن نہیں، اس لئے سکول کے طلباء کو جمگھٹے سے بچانے کیلئے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے، سکول کے اوقات کار دو شفٹوں میں تقسیم کئے جائیں یعنی صبح اور دوپہر یا ہفتہ وار کلاسز کا انعقاد کیا جائے ، اسی طرح پورے کے طلباء میں سے پہلے گروپ کو پیر ، منگل اور بدھ ، اور دوسرے گروپ کو جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ کو پڑھایا جائے، موجودہ کلاس رومز طلباء کیلئے ناکافی ہیں اس لئے کرائے کے مکانات یا علاقائی سطح پر پی ٹی سی کو استعمال کرتے ہوئے ، حجروں میں تدریسی عمل شروع کیا جائے، یہاں پی ٹی سی فنڈ کو کرائے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، اضافی تدریسی عمل کیلئے نئی تعیناتیوں کی بجائے، مقامی سطح پر میل اور فی میل اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں، سکولوں میں اساتذہ پر مشتمل خصوصی صحت کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ، جن کے ساتھ انفراریڈ تھرمامیٹر ہوں، جو سکول داخلے کے وقت تمام بچوں کے درجہ حرارت کو چیک کیا کریں، درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں فوری طور ان کے ٹیسٹوں کا انعقاد کیا جائے طلباءاور اساتذہ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں 14 سے 21 دن تک چھٹی کرنے کے مجاز ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے