کوو ڈ19 ویکسین: تمام بنی نوع انسان کی فکر بمقابلہ امریکہ فرسٹ

دنیا بھر میں کووڈ 19 کے بیس ملین سے زیادہ تصدیق شدہ کیسوں کے ساتھ ، لوگ ایک کامیاب ویکسین کی خبروں کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور جلدازجلد ویکسین لگا نےکی امید کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ، 6 اگست تک ، ویکسین کے چھ امیدواروں نے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز شروع کردیئے ہیں ، جن میں سے تین چین تیار کررہا ہے۔ یہ پیش رفت دنیا کو امید کا پیغام دے رہی ہے۔ چین ویکسین تیار کرنے کی عالمی کوششوں میں پیش پیش رہا ہے۔اوراس سلسلے میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے ۔ چین کی ویکسین کو عالمی سطح پر عوامی پروڈکٹ کے طور پر پیش کرنے کی پیشکش کو عالمی برادری نے خوب سراہا ہے ۔ دوسری طرف ویکسین تیار کرنے والا ایک اورملک امریکہ اس موقع پر بھی امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگا رہا ہے ۔

چین عالمی تعاون میں پیش پیش رہتا ہے ، جبکہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دیکھا گیاہے کہ امریکہ بین الاقوامی معاہدوں اور تنظیموں سے علیحدگی اختیار کررہاہے۔ چین نے ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے سلسلے میں بین الاقوامی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ 12 جنوری کو ، چین نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ نوول کورونا وائرس کے جینوم سیکونس سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا ، جس نے بین الاقوامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلئے بنیاد فراہم کی۔ مارچ میں چین نے اپنے پانچوں ویکسین کی تیاری کے تکنیکی طریقہ کارکو بین الاقوامی تعاون کے لئے کھلا کردیا۔ مئی میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ ایچ اے) کے دوران ، چین نے 140 سے زائد ممالک کے ساتھ مل کر و با کیخلاف عالمی تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے ایک قرار داد منظور کی ۔ ویکسین تیار کرنے کے عمل میں ، چین نے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے ہیں اور جرمنی ، کینیڈا ، برازیل ، انڈونیشیا ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کیا ہے۔

اس کے برعکس ، امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے کنارہ کشی اختیار کی ، عالمی ویکسین سمٹ میں شرکت سے انکار کیا ، بین الاقوامی سطح پر ویکسین کی تحقیق میں حصہ لینے سے انکار کیا ، یہاں تک کہ ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں بین الاقوامی تعاون میں مداخلت کرنے کی کوشش کی۔

چین دنیا کی مشترکہ بھلائی کا خواہاں ہے ، جبکہ امریکہ امریکہ فرسٹ کے نظریے سے چپکا ہے۔ جب ویکسین کی فراہمی کی بات آتی ہے، تو اس پراپنا استحقاق جتانے کے بجائے کیوں نہ لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے استعمال کیا جائے ۔ وائرس کی کوئی سرحد نہیں ہے، ویکسین کی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ مئی میں چینی صدر شی جن پھنگ نے تہترویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا عہد کیا کہ چین کووڈ19 کی ویکسین تیار کرنے کے بعد دنیاکو پبلک پروڈکٹ کے طور پر پیش کرے گا۔ تاکہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کے عوام کو اس کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے چین کے بڑے پن اورفراخدلی کا اظہار ہے۔

اس کے برعکس ، امریکہ نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں ویکسین کی تیاری سے متعلق نتائج بانٹنے سے انکار کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ بار بار اظہار کرچکی ہے کہ وہ ویکسین کی تحقیق میں "امریکہ پہلے” کے طریقہ کار کی پیروی کرتی ہے۔ امریکی سیکریٹری برائے صحت اور انسانی خدمات الیکس آذر نے تائیوان کا دورہ کیا لیکن اس کے ساتھ ویکسین بانٹنے سے انکار کیا۔اس کے علاوہ امریکہ نے جرمن کمپنیوں سے ویکسین کے پیٹنٹ خریدنے کی کوشش کی۔ جرمن میڈیا نے اس کی سخت مذمت کی ۔ ویکسین ذخیرہ کرنے اور صرف امریکی مفادات کو ترجیح دیتے وقت امریکہ بین الاقوامی اخلاقی اقدارکا احترام نہیں کررہا ۔

چین ہم نصیب معاشرے کے قیام کے خواب کے تحت دنیا کے تمام انسانوں تک ویکسین کی فراہمی اور وائرس کے خاتمے تک عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے