میں تمھیں تھانے میں ذلیل کرواؤں گا اور عدالتوں میں گھسیٹوں گا

پولیس کے نظام میں اصلاحات کی باتیں ایک عرصے سے کی جا رہی ہیں تاہم ابھی تک کوئی نمایاں اور بڑی بہتری سامنے نہیں آئی . عوام اور پولیس کے درمیان تعاون نہیں بلکہ خوف کا تعلق ہے . عوام پولیس کو مددگار نہیں بلکہ دشمن سمجھتی ہے . کراچی ، بہاولپور اور ساہیوال سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پولیس کے جانب سے ماوارئے آئین قتل اور بعد از قتل رویے کی وجہ سے لوگوں میں پولیس کے بارے میں اعتماد میں مزید کمی آئی ہے .اسی وجہ سے پولیس کا محکمہ اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہے .

[pullquote]پولیس کے نظام میں اصلاحات [/pullquote]

پولیس کے نظام میں اصلاحات 1860 میں انگریز دورِ حکومت کے دوران کی گئیں جس کے تحت صوبے کی پولیس کا انتظام آئی جی اور ضلع میں پولیس ڈسٹرکٹ سپرینٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت مجسٹریٹ کے کنٹرول میں ہوتی تھی۔ان اصلاحات پر 1861 میں عمل درآمد شروع ہو گیا . 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی انہی اصلاحات پر عمل جاری رہا.2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں پولیس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے قانون سازی ہوئی . ان اصلاحات میں ضلعی مجسٹریٹ کی طاقت کو ختم کر دیا گیا اور پولیس کو غیر سیاسی اور آزاد محکمہ بنانے کی جانب قدم اٹھائے گئے . اس کے بعد تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ پولیس کے لیے 2017 میں اصلاحات کیں . ان تمام اصلاحات کے باوجود تھانہ کلچر میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آ سکی .

[pullquote]تھانہ کلچر میں تبدیلی کیسے ہو گی ؟[/pullquote]

یہ ایک ننگی حقیقت ہے کہ پاکستانی تھانوں میں روزانہ ہزاروں جھوٹی ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں .جونہی ایف آئی آر تفتیشی افسر کے ہاتھ میں آتی ہے وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے نکل پڑتا ہے۔ ملزم کی گرفتار کرنا ہی تفتیش کی بنیاد سمجھا جاتا ہے . تفتیشی افسر یہ نہیں دیکھتا کہ جس پر الزام لگایا جا رہا ہے وہ واقعی خطا کار ہے یا نہیں . مدعی کا الزام سچا ہے یا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

یہ گرفتاریاں پولیس اور نظام انصاف پر ایک بڑا بوجھ ہیں ،اسی طرح لوگ پولیس کی گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کرواتے ہیں جو عدالتوں پر مزید بوجھ ہے .اس کھیل کی وجہ سے اہم مقدمات ضمانت اور گرفتاری تک محدود ہو چکے ہیں . پولیس یہ سمجھتی ہے کہ ایف آئی آر کے بعد گرفتاری پولیس کا حق ہے . پولیس کلچر میں تبدیلی لانی ہے تو سب سے پہلے گرفتاری کے اختیار کو محدود کرناہوگا .

[pullquote]ایف آئی آر اور ضمانت قبل از گرفتاری [/pullquote]

مدعی کی جانب سے ایف آئی آر کا واحد مقصد ملزم کی گرفتاری ہے۔ جب کہ ملزم کے نزدیک بھی ایف آئی آر سے نمٹنے کا واحد مقصد گرفتاری سے بچنا ہے۔ ٹرائل کی اب کوئی اہمیت ہے اور نا ہی کسی کو ٹرائل پر یقین ہے . ضمانت کے ساتھ ہی ایف آئی آر، کیس اور تفتیش ختم سمجھی جاتی ہے. تفتیشی کسی ایسے شخص سے تفتیش ہی نہیں کرتا جس کے پاس ضمانت موجود ہو کیونکہ پولیس سمجھتی ہے کہ ضمانت کے بعد تفتیش ممکن نہیں . پولیس کے مطابق تفتیش کے لیے ملزم کا زیر حراست ہونا اور اس کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے .

[pullquote]گرفتاری کب ہونی چاہیے ؟[/pullquote]

تفتیش میں جب تک ملزم کے خلاف ناقابل تردید ثبوت نہ آجائیں یا مدعی مقدمہ نا قابل تردیدثبو ت فراہم نہ کردے ، تب تک گرفتاری نہیں ہو نی چاہیے . راتوں کو گھروں میں چھاپے مار کر لوگوں کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے. گرفتاری سے پہلے ورانٹ جاری کیے جائیں . دوسری جانب جب کوئی شخص تفتیش میں معاونت کی یقین دہانی کروا دیے تو اسے گرفتار کرنے یا عدالت سے ضمانت لینے کے بجائے پولیس افسر سے ہی ضمانت ملنی چاہیے .

[pullquote]پولیس کا نظام تفتیش اور عدالت کا نظام انصاف [/pullquote]

پولیس کے نظام تفتیش اور عدالت کے نظام انصاف میں زمین آسمان کا فرق ہے . پولیس کی ساری تفتیش ملزم سے ہوتی ہے ، وہ مدعی سے کچھ پوچھتی ہی نہیں اور سارا دباؤ ملزم پر ہوتا ہے . اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہے اور بے گناہی کے لیے ثبوت فراہم کرنا بھی ملزم کی ذمہ داری ہے . دوسری طرف عدالت میں مدعی کو اپنا الزام ثابت کرنا ہوتا ہے. پولیس اور نظام انصاف کے کام میں یہ اختلاف ہی وہ تضاد ہے جس کی وجہ سے کام نہیں ہو رہا۔

[pullquote]پولیس کی جانب سے تھرڈ ڈگری کا استعمال[/pullquote]

تھانوں میں ملزم کے ساتھ محض الزام کی بنیاد پر جو بھیانک سلوک کیا جاتا ہے ، اس کا تصور ہی معاشرے میں پولیس کے ساتھ کسی خیر خواہی کے جذبے کو شکست دے دیتا ہے . تھانوں میں ملزموں کو با اثر مدعیوں کے کہنے پر ٹارچر کیا جاتاہے . تھانوں میں کئی اموات ہوئیں . کیا پولیس میں تھرڈ ڈگری کے استعمال کے بغیر تفتیش ممکن نہیں ہو سکتی . کیا تفتیش کے نئے اسلوب اور فرانزک سائنس کے تحت آپ تشدد کے بغیر حقائق تک نہیں پہنچ سکتے .

[pullquote]پولیس میں بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت [/pullquote]

پولیس کو جب تک قانون سازی کے ذریعے مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے تب تک پولیس اصلاحات محض ایک پر فریب نعرے کے سوا کچھ نہیں . اس وقت تھانوں اور پولیس افسران پر بیوروکریسی ، حساس اداروں اور سیاسی و مذہبی عناصر کا شدید دباؤ موجود ہے اور اس دباؤ کی موجودگی میں پولیس اپنے فرائض درست طریقے سے ادا نہیں کر سکتی . سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں جو مستقبل میں مسائل کا سبب بنتی ہیں .

[pullquote]افسران کا نفسیاتی جائزہ [/pullquote]

اہم ذمہ داریاں دینے سے قبل افسران کا نفسیاتی جائزہ بھی نہیں لیا جاتا کہ ان کے مسائل کیا ہیں اور اس عہدے پر بیٹھنے کی وجہ سے کیا کیا مسائل جنم لے سکتے ہیں . اسی طرح افسران کو بے تحاشا مراعات جبکہ اہلکاروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ بھی پولیس کو عوام دوست بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے .

[pullquote]پولیس اور ٹارچر سیل [/pullquote]

ہمارے معاشرے میں تشدد اتنا عام ہے کہ ہمیں ہر مسئلے کا حل صرف تشدد میں نظر آتا ہے. آئین اور پینل کوڈ کے مطابق پولیس کے پاس ملزم کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے تاہم پنجاب سمیت پورے ملک میں پولیس نے اپنے ٹارچر سیل قائم کر رکھے ہیں . صرف یہی نہیں پولیس ماوائے آئین قتل بھی کرتی ہے اور جعلی پولیس مقابلوں میں بھی ملزموں کا مارا جاتا ہے . یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس طرز کے واقعات کی پوری ایک سیریز ہے. پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے کیمونٹی پولیسنگ کا تصور ہمیں اپنے ملک میں رائج کرنا ہوگا . سول سوسائٹی کو پولیس تشدد کیخلاف آواز اٹھانا اور اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا. تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس ساری صورتحال میں ہمارے قانون ساز ادارے کیا کر رہے ہیں ؟

[pullquote]دھمکی کیسے دی جاتی ہے [/pullquote]

صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ محاورہ بن چکا ہے کہ میں تمھیں تھانے میں ذلیل کرواؤں گا اور عدالتوں میں گھسیٹوں گا . کوئی بھی بااثر مرد یا عورت اپنے تعلقات کی بنیاد پر یا پیسے اور منصب کے بل بوتے پر کسی شخص کو تھانے یا عدالت میں گھسیٹ سکتا ہے . لوگ اسی لیے تھانے اور عدالتوں سے پناہ مانگتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ اب سماج میں انصاف فراہم کرنے کے ادارے نہیں رہے . میرے ذاتی علم ، تجربے اور مشاہدے میں ایسے واقعات ہیں جن میں یہ سب کچھ ہو چکا ہے بلکہ آئے روز ہم سب یہ ہوتا دیکھتے رہتے ہیں .

[pullquote]پولیس عوام ساتھ ساتھ [/pullquote]

پولیس کو بطور محکمہ یہ سوچ اپنے اندر لانی ہوگی ان کا بنیادی کام امن و امان قائم رکھنا ہے .معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی کرنا ہے. سماج دشمن عناصر کو قانون کی گرفت میں لانا ہے . وہ کسی کے آلہ کار نہ بنیں . انہیں عوام کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہے . صرف اسی صورت میں وہ عوام میں اپنا اعتماد اور وقار بحال کر سکتے ہیں . جھوٹی ایف آرز ، جعلی چالان ، حقائق کو مسخ کرنا ، تھانوں میں تشدد کرنا اور محض الزام کی بنیاد پر راتوں کو لوگوں کے گھروں میں چھاپے مارنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں . پولیس عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلتی ہے اور اس کا بنیادی ذمہ داری عوام کا تحفظ کرنا ہے . جب عوام کو تھانے سے عزت پامال ہونے کے تاثر کے بجائے حفاظت کا تاثر ملے گا ، اس وقت عوام اور پولیس ایک ساتھ معاشرتی ترقی کی بنیادیں رکھ سکیں گے .

اگر آپ چاہتے ہیں کہ پولیس ریفارم ہوں تو اس لائن پر کلک کر کے لنک کو اوپن کریں اور پیٹیشن پر دستخط کر یں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے