پھر وقت آن پہنچا…

ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی وزیراعظم ہو‘ دو کام ضرور کرنے کی کوشش کرے گا اور نتیجے میں پھانسی لگے گا یا جیل و جلاوطنی بھگتے گا۔ ایک بھارت سے تعلقات نارمل کرنے کی کوشش اور دوسرا، امریکہ کو آنکھیں دکھانے کا شوق۔ اسی چکر میں وہ اپنا اور جمہوریت کا نقصان کر بیٹھتا ہے۔

پاکستانی تاریخ میں اکثر سیاسی وزیراعظم کو بانس پر چڑھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لی جاتی ہے۔ اب وزیراعظم لٹکا رہے یا سر کے بل گرپڑے اس بات سے بانس پر چڑھانے والوں کو غرض نہیں ہوتی۔سیاسی وزیراعظم کو لگتا ہے کہ بھارت سے تعلقات درست کیے بغیر معاشی اور سیاسی استحکام نہیں لاسکتے۔انہیں لگتا ہے کہ اگر بھارت سے معاملات سلجھ جائیں تو ڈویلپمنٹ بجٹ میں کٹوتی کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ بڑے پیمانے پر عوامی توقعات پر پورے اتریں گے۔ سیاسی وزیر اعظم کو لگتا ہے کہ کشمیر کے ایشو پر جاری کشمکش اور لڑائی سے جہاں اندورنی استحکام متاثر ہوتا ہے وہیں معاشی ایجنڈا بھی پورا نہیں ہوتا۔بینظیر بھٹو پہلی دفعہ وزیراعظم بنیں تو انہوں نے راجیو گاندھی کو اسلام آباد بلایا تو نواز شریف نے انہیں سیکورٹی رسک قرار دیا۔ وہی نواز شریف جب خود وزیراعظم بنے تو وہ خود واجپائی کو بس پر لاہور لے آئے۔ نتائج دونوں کیلئے برے نکلے۔بینظیر بھٹو کی بھارت پالیسی کو جنرل اسلم بیگ تو نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف برداشت نہ کرسکے۔بینظیر بھٹو سکیورٹی رسک کا ٹیگ لگوا کر ماری گئیں تو نواز شریف کو جنرل مشرف نے جیل بھیج دیا۔ تیسری دفعہ وزیراعظم بنے تو عمران خان نے نعرے لگائے کہ مودی کا جو یار ہے‘غدار ہے۔جب عمران خان خود وزیراعظم بنے تو عمران خان نے بھی بینظیر بھٹو اور نواز شریف والا روٹ لیا اور بھارتی وزیراعظم کو اچھے تعلقات کی دعوت دی۔اگرچہ عمران خان اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ آرمی چیف ان کے ساتھ اس ایشو پر ایک پیج پر تھے لیکن اب بھارت میں راجیو گاندھی یا واجپائی جی وزیراعظم نہ تھے‘ لہٰذا معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ اب بلاول بھٹو مودی کے حوالے سے عمران خان کو وہی لقب دیتے ہیں جو کبھی نواز شریف بینظیر بھٹو کو یا عمران خان نواز شریف کو دیتے تھے۔ کل کلاں بلاول وزیراعظم بن گئے تو وہ بھی اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے‘ یہ چکر کہیں نہیں رکے گا۔ نواز شریف‘ بینظیر بھٹو اور عمران خان میں ایک بات مشترک ملے گی کہ تینوں نے بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کی اور بدلے میں سکیورٹی رسک اور غداری کے طعنے سنے۔

بھارت کے بعد پاکستانی وزیراعظم کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر وہ امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا تو سمجھو بیڑا پار۔ پوری قوم کا وہ ہیرو ہو گا‘ لیکن وہ لمحہ کسی بھی وزیراعظم کیلئے خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے جب وہ جوشِ خطابت میں وہ باتیں کہہ جاتا ہے جن کے اثرات جہاں ملک اور قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں وہیں وزیراعظم خود بھی ان اثرات کی زد سے بچ نہیں پاتا۔وزیراعظم عمران خان کی پارلیمنٹ میں دھواں دھار تقریر سن کر بہت سے لوگوں کو ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی تقریریں یاد آئی ہوں گی جب ان انہوں نے امریکہ کے کڑاکے نکال دیے تھے۔

یہ الگ بات کہ بعد میں ان کے اپنے کڑاکے نکل گئے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ قائداعظم کا موازنہ کسی سے نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بعد ان چوہترسالوں میں دو ایسے وزیراعظم ہیں (بھٹو اور عمران خان) جو عوام میں مقبول تھے یا جو ہجوم اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔بھٹو اپنی کلاس کے بڑا لیڈرتھا۔ پڑھا لکھا اور عالمی سطح کا ذہن رکھنے والا بڑے آدمی تھا‘ لیکن اس کے اندر کا فیوڈل اسے مروا گیا۔ بھٹو بڑی گیم کیلئے پیدا ہوا تھا۔ چند برسوں میں اس نے پاکستان میں بہت کچھ کیا۔ بھٹو کی تقریریں بھی آگ لگا دیتی تھیں۔ بڑے بڑے برج الٹ دیے۔ پھر ذہن میں وہی بات بیٹھ گئی کہ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم بنائیں گے‘ ہزار سال بھارت سے جنگ ہوگی‘ نتیجہ وہی نکلا کہ امریکہ سے ٹکر لے بیٹھے۔ ہنری کسنجر سے مکالمہ ہوا‘ ہنری نے کہا :اگر پاکستان بم بنائے گا تو اس کے consequences ہوں گے۔ بھٹو نے اسے دھمکی سمجھا اور قومی اسمبلی میں جا کر دھواں دھارتقریر کر دی کہ امریکہ اسے مروانا چاہتا ہے۔ ہنری کسنجر نے برسوں بعد عابدہ حسین کو بتایا‘جو انہوں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ consequences سے مراد معاشی پابندیاں تھیں لیکن بھٹو کا خیال تھا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ انہیں جان سے مروا دیا جائے گا‘ لہٰذا انہوں نے بھی تقریر کرنے کا سوچا کہ پاکستانی عوام میں ان کا امیج ایک فائٹر کا ہوگا۔ ایک ایسا لیڈر جو جھکتا نہیں‘ جو ڈرتا نہیں‘ جو بکتا نہیں۔

بھٹو کو پھانسی دی گئی تو ایک بندہ باہر نہ نکلا۔ جس قوم کیلئے بھٹو نے پارلیمنٹ میں تقریر کی تھی اس قوم میں سے صرف بیس لوگوں نے لاڑکانہ میں ان کا جنازہ پڑھا۔جنرل ضیاامریکی صدر جمی کارٹر سے چار ارب ڈالر لے رہا تھا۔ جن کے سہارے بھٹو بانس پر چڑھا ہوا تھا انہوں نے ہی نیچے سے سیڑھی کھینچ لی۔نواز شریف کو بھی یہ شوق ہوا کہ وہ امریکی احکامات ماننے سے انکاری ہو جائیں۔ جب ایٹمی دھماکے کرنے کا وقت آیا تو انہیں بل کلنٹن نے فون کیا کہ چار ارب ڈالرز کی معاشی امداد لے لیں بم نہ چلائیں۔ میاں صاحب کی پارٹی نے اس فون کال کا مذاق اڑایا تاکہ عوام میں مقبولیت پا سکیں۔ بات بات پر ریفرنس دیا جانے لگا کہ عوامی ہیرو بننے کا شارٹ کٹ طریقہ یہی ہے کہ امریکہ کے خلاف لائن لے لو‘ لمبی لمبی تقریریں کرو‘ عوام سر پر بٹھائیں گے اور پھر ہم نے دیکھا کہ نواز شریف کا بھی حشر ہوا۔ اس فون کال کے کچھ عرصہ بعد اسی طرح مارشل لا لگ چکا تھا جیسے بھٹو حکومت کو ختم کر کے جنرل ضیا نے لگایا تھا۔

کوئی بھی سیاسی وزیراعظم وہ جرأت نہیں کرسکتا جیسے غیر سیاسی لوگ کر لیتے ہیں اور قوم ان کے فیصلوں کے آگے سرخم تسلیم کرتی ہے۔ امریکی بھی سمجھتے ہیں کہ کون اس ملک کی پارلیمنٹ اور جذباتی وزیراعظم کی باتیں‘ لمبی تقریریں اور انکار سنے اور سبکی اٹھائے‘ کیوں نہ کسی آمر کو تھپکی دے کر اوپر چڑھا دیا جائے۔ ایوب خان نے اپنے دور میں امریکہ کو پشاور اور چٹاگانگ میں روس اور چین کی جاسوسی کیلئے اڈے دیے اور بدلے میں اسلحہ اور امداد اور دس سال کا اقتدار لیا۔ جنرل ضیا نے افغان جنگ میں پورا ملک سی آئی آے کے حوالے کر دیا‘ بدلے میں ڈالروں کی بوریاں اور دس سال اقتدار لیا۔ جنرل مشرف نے بھی یہی ڈیل امریکیوں کے ساتھ کی اور سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز امداد اور دس سال اقتدار حاصل کیا۔مزے کی بات ہے کہ اس قوم کو ایوب‘ ضیا اور مشرف میں سے کسی ایک پر غصہ نہیں‘ ایوب خان آج بھی بڑے طبقے کا ہیرو ہے بلکہ عمران خان کا بھی ہیرو ہے کہ بار بار اس دور کی مثالیں دیتے ہیں‘ جنرل ضیاکو آج بھی ایک طبقہ ہیرو سمجھتا ہے اور مشرف کے خلاف آج بھی بات کریں تو ہزاروں چاہنے والے آپ پر برس پڑتے ہیں۔ جنہوں نے امریکیوں کو ساتھ ملا کر اس خطے میں کھیل کھیلا‘ اڈے دیے اور ڈالر لیے وہ اس قوم کے ہیرو ہیں لیکن وہ سیاسی وزیراعظم جنہوں نے امریکہ کے سامنے مزاحمت کی وہ برے انجام سے دوچار ہوئے۔

عمران خان نے بھی پارلیمنٹ میں تقریر کر کے خود کو جانے‘ انجانے میں بھٹو اور نواز شریف کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ وہی تاریخ کا جبر کہ امریکہ کو ایک دفعہ پھر پیغام چلا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی وزیراعظم سے ڈیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کو ایسی تقریریں وقتی طور پر ہیرو بنا دیتی ہیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جوانہیں بانس پر چڑھاتے ہیں وہی سیڑھی کھینچ لیتے ہیں۔ جو آپ کو ڈٹ جانے کا مشورہ دے رہے ہوتے ہیں وہ دراصل اپنی شیروانی استری کرکے اس کی سلوٹیں دور کررہے ہوتے ہیں۔تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ جو تاریخ سے نہیں سیکھتے وہ غلطیاں دہراتے ہیں ۔

بشکریہ دنیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے