[pullquote]پولینڈ اور یورپی یونین کے مابین کشیدگی[/pullquote]
پولینڈ کی آئینی عدالت کی طرف سے یورپی یونین کے کچھ قوانین پر اعتراضات کے بعد وارسا اور برسلز کے مابین تناؤ کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق پولش عدالت کا یہ فیصلہ دراصل یورپی یونین کے قوانین کو جزوی طور پر مسترد کرنے کے مترادف ہے اور یہ معاملہ پولینڈ کے ستائیس رکنی یورپی بلاک سے نکل جانے پر منتج ہو سکتا ہے۔ ادھر پولش وزیر اعظم میتھیوش مرووایسکی (Mateusz Morawiecki ) نے یورپی یونین پر الزام عائد کر دیا ہے کہ وہ وارسا کو ’بلیک میل‘ کرنے کی کوشش میں ہے۔ وارسا حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کا حصہ ہی رہے گی۔
[pullquote]چیک جمہوریہ کے صدر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے[/pullquote]
چیک جمہوریہ کے صدر میلوش زیمان کی علالت کی وجہ سے اس یورپی ملک میں نئی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ چیک جمہوریہ میں نو اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات کے روز بعد ہی صدر زیمان اچانک بیمار ہو گئے اور انہیں علاج کی غرض سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس الیکشن میں دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی تین اعتدال پسند پارٹیوں کے سیاسی اتحاد ’ٹوگیدر الائینس‘ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ صدر میلوش زیمان نے نئی حکومت کی تشکیل کی خاطر اس سیاسی اتحاد اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنا تھا۔ یہ سیاسی اتحاد بھی حکومت سازی کے لیے قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکا ہے اور اسے حکومت بنانے کی خاطر دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا۔
[pullquote]کورونا کی وبا کو آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا، ایمنسٹی[/pullquote]
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بہت سی حکومتوں نے کورونا کی وبا کو آزادی اظہار پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایمنسٹی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی جابرانہ حکومتوں نے کورونا وائرس کی وبا کا ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں اس نے چین سمیت بعض حکومتوں کے اقدام کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس ادارے نے سوشل میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس، انداز سے مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ صارفین کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جا سکے اور انہیں مشغول رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں وہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تندہی سے کام نہیں لیتی ہیں۔
[pullquote]علاقائی دباؤ کی وجہ سے میانمار میں قیدیوں کی رہائی شروع[/pullquote]
میانمار کی فوجی حکومت نے گرفتار کیے جانے والے افراد کو رہا کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق نقص امن کے الزام میں گرفتار کیے گئے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب فوجی جنتا کے چیف من آہنگ ہیلنگ کو ایک علاقائی سمٹ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا کیونکہ وہ ملک میں بحران کے خاتمے کی خاطر طے شدہ اقدامات لینے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک میانمار میں اس بحران کی وجہ سے کم از کم بارہ سو افراد مارے جا چکے ہیں۔
[pullquote]کولن پاول کے انتقال پر خراج عقیدت[/pullquote]
سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی وفات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ پیر کے دن چوراسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے اور اس بیماری کی پیچیدگیوں کی وجہ سے فوت ہوئے۔ پاول نے سن دو ہزار ایک میں امریکا کے پہلے سیاہ فام وزیر خارجہ بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ عراق کی متنازعہ جنگ کے آغاز میں ان کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کئی اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی پاول کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
[pullquote]جرمنی میں حکومت سازی کی کوششیں، ایف ڈی پی مذاکرات میں شامل[/pullquote]
جرمنی کی نیو لبرل سیاسی نظریات کی حامل سیاسی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی نے تصدیق کر دی ہے کہ وہ آئندہ حکومت کی تشکیل کی خاطر گرین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع کر رہی ہے۔ یوں اب یہ تینوں پارٹیاں حکومت سازی کے لیے مذاکرات پر متفق ہو گئی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر جرمنی میں نئی حکومت کی تشکیل جلد ہی مکمل ہو جائے گی۔ ستمبر میں ہوئے جرمن الیکشن میں سوشل ڈیموکریٹس پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے تاہم وہ حکومت سازی کی خاطر قطعی اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی۔
[pullquote]شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا نیا تجربہ[/pullquote]
منگل کے دن جنوبی کوریا نے تصدیق کر دی ہے کہ شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیونگ یانگ نے آبدوز سے کم فاصلے تک مار کرنے والا ایک میزائل فائر کیا ہے، جو جاپانی سمندری حدود میں گرا۔ شمالی کوریا کی طرف سے یہ راکٹ ایک ایسے وقت میں داغا گیا، جب جاپانی، امریکی اور جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس حکام سیئول میں ملاقات کر رہے تھے۔ کمیونسٹ کوریا عسکری طاقت کی نمائش کے لیے اس طرح کے تجربات کرتا رہتا ہے، جس پر مغربی ممالک تحفظات رکھتے ہیں۔
[pullquote]زلمے خلیل زاد اپنے عہدے سے مستعفی[/pullquote]
افغانستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب زلمے خلیل زاد نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ تین برس تک اس اہم عہدے پر فائز رہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بتایا ہے کہ ان کے نائب ٹامس ویسٹ عبوری طور پر اس عہدے پر تعینات کیے جائیں گے۔ منجھے ہوئے سفارت کار خلیل زادکی کوششوں کی وجہ سے افغانستان میں امریکی فوجی مشن اختتام کو پہنچا لیکن وہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کو نہ روک سکے تھے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ستر سالہ خلیل زاد کے مستعفی ہونے کی وجوہات جاننے کی خاطر انکوائری شروع کر دی ہے۔
[pullquote]گولن سے روابط کا شبہ، ترکی میں مزید گرفتاریوں کا حکم[/pullquote]
ترک استغاثہ نے حکومت مخالف جلاوطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے ساتھ روابط کے شبے میں مزید ایک سو اٹھاون مشتبہ افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ان افراد میں تینتیس حاضر سروس فوجی بھی شامل ہیں۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار سولہ کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے دراصل امریکا میں مقیم گولن کا ہی ہاتھ تھا۔ تاہم گولن ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایردوآن کی حکومت نے کم از کم اسی ہزار افراد کو گرفتار کیا جبکہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب سول سرونٹس اور فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے معطل یا برطرف کر دیا گیا تھا۔
[pullquote]بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے تحفظ کا مطالبہ[/pullquote]
بنگلہ دیش میں ہندو کمیونٹی پر حملوں کے خلاف ڈھاکا میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر جاری کی گئی تھی، جو مقامی مسلم کمیونٹی کی طرف سے توہین مذہب قرار دی گئی تھی۔ اس کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں ہندو کمیونٹی پر حملے شروع ہو گئے تھے۔ تازہ حملہ اتوار کی رات کو شمالی بنگلہ دیش میں کیا گیا، جس میں مشتعل ہجوم نے ہندوؤں کے چھبیس گھر نذر آتش کر دیے۔ اگرچہ حکومت نے کہا ہے کہ ایسے حملوں کے مرتکب افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی لیکن کچھ مسلم حلقوں میں غم وغصہ کم نہیں ہوا۔
[pullquote]سفارت کاروں کی بیدخلی پر روس نے نیٹو کے ساتھ اشتراک معطل کر دیا[/pullquote]
روس نے مغرنی دفاعی اتحاد نیٹو کے ساتھ اشتراک معطل کرتے ہوئے ماسکو میں اس کا رابطہ دفتر بند کر دیا ہے۔ ماسکو حکومت کے مطابق نیٹو کی طرف سے برسلز میں واقع صدر دفاتر میں تعینات آٹھ روسی سفارت کاروں کو بیدخل کرنے کے جواب میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ الزام تھا کہ یہ سفارت کار خفیہ طور پر روسی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کر رہے تھے تاہم کریملن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس نئے تنازعہ پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیٹو اتحاد روس کے ساتھ اشتراک یا مکالمہ چاہتا ہی نہیں ہے۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو