عدم اعتماد/عدم برداشت

ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ ہم اجتماعی طور پہ اخلاقی زوال کا شکار ہو چکے ہیں ہجوم اور وہ بھی بھیڑ بکریوں کا ہجوم۔۔ قوم تو ہم کبھی بن نہیں پائے اور شاید ابھی مزید 70 سال لگیں گے تب جا کے معنی سمجھ آئیں گے کہ قوم ہوتی کیا ہے اور اسکے تئیں فرائض کیا ہوتے ہیں ۔

مارچ کے شروع ہوتے ہی سیاسی دینگا مشتی نے زور پکڑ لیا تھا اور زور بھی ایسا کہ بات عمران خان کی کرسی چھیننے تک پہنچ گئی ، جی ہاں عمران خان کی کرسی جسے اس نے بقول عمران کے 22 تئیس سال کی جدوجہد کے بعد حاصل کیا ہے ۔

خیر اس ساری ہڑبونگ میں بات بہت بڑھنے لگی ہے اس قدر بڑھ رہی ہے کہ اب تو نیشنل ٹی وی چینلز پہ ننگی گالیاں بکنے کا رواج عام ہو رہا ہے وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی جو ناراض ہو گئے تھے کچھ وجوہات پہ یا جیسے لائے گئے تھے ویسے ہی انداز میں مخالف کیمپوں میں پائے گئے تو مشیران شاہ اور معاونین پہ جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔

دنیا ٹی وی ملک کے بڑے اداروں میں شمار ہوتا ہے کامران شاہد ایک طرح سے سنئیر صحافی ہے مگر گذشتہ رات اسکے پروگرام میں جو ہوا ،اس پہ بطور صحافت کے طالب علم میں شرمندہ بھی ہوں اور کامران شاہد دل سے بھی اتر گیا اسکی وجہ یہ تھی کہ معاون خصوصی شہباز گل پی ٹی آئی کے منحرف کارکن رمیش کمار جو ہندو برادری سے ہے کو خان کی وفاداری میں بازاری الفاظ کہہ گیا اور بار بار کہتا رہا حواس باختہ معلوم ہو رہا تھا کہ شاید اب میری موجیں ختم میں کسی پہ غلاظت نہیں اچھال پاؤں گا۔

بجائے مداخلت کر کے شہباز گل کو چپ کرایا جاتا کامران شاہد میسنی بلی کی برح کھسیانی ہنسی ہنستا رہا اور یہ سب نیشنل ٹی وی پہ ہوا بلکہ اسکے بعد سوشل میڈیا پہ عوام نے اپنے اپنے انداز میں تبصرے بھی کیے جو ایک طرح سے جگ ہنسائی کا موجب ہے ۔

اس سب کے تین بڑے قصور وار ہیں اول دنیا ٹی وی کامران شاہد جس کے پروگرام میں یہ بد زبانی آن ائیر ہوئی، دوم عمران خان کا سیاسی تربیت یافتہ شہباز گل اور تیسرا ہمارا ہومیو پیتھک ادارہ پیمرا ۔

پیمرا کا مقصد میڈیا چینلز کو قوانین کے مطابق پابند کرنا ہے کہ نظریاتی اساس کی حفاظت اخلاق و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے لیکن مملکت خداداد میں ہمیشہ الٹی گنگا بہتی ہے پیمرا میں موجود احباب کو شاید ٹریننگ کی ضرورت ہے یا انہیں اپنا کام سمجھ نہیں آ پا رہا کہ ہم نے کرنا کیا ہے جس کے باعث نیشنل میڈیا پہ ایسی بد اخلاقی اور منافقانہ طرز کا کانٹینٹ آن ائیر ہو جاتا ہے ۔

اب کامران شاہد نے اس پروگرام کے متعلق وضاحت دیتے ہوئے سارا ملبہ ٹیکنیکل پروڈیوسر اور عملے پہ ڈال دیا ہے کہ جی میرے علم میں نہیں تھا کہ اس گالم گلوچ کی آواز بند نہیں ہے ۔کامران شاہد بجائے اسکے کہ دو لفظی معافی مانگ کر آئندہ کے لیے احتیاط کا عزم کرتا اس نے دوسرے تیسرے لوگوں پہ انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں کہ دیکھیں جی وہ بھی ایسا کرتا ہے اسے تو کبھی کچھ نہیں کہا گیا ۔

تیسرا قصور وار ہمیشہ سے بد زبانی کے لیے مشہور رہا ہے اسکی وجہ رہی ہے کہ عمران خان خود بھی کنٹینر سے اوئے توئے کی سیاسی گولا باری کرتا رہا ہے چیر دوں گا پھاڑ دوں گا وغیرہ وغیرہ عمران خان شاید کسی نرگسیت کا شکار ہے کہ اسے لگتا ہے میں ہی سب سے بہتر ہوں باقی سب کیڑے مکوڑے اور قصور وار ہیں جبھی تو بد زبان اور بد اخلاق معاونین و مشیران اسکا انتخاب رہے ہیں۔ شہباز گل آج سے نہیں گذشتہ 3 سال سے یہی کچھ کر رہا ہے اسکے کئیے پہ اتنی حیرانی بھی نہیں ہوئی کیونکہ اسکی ذہنیت ہی ایسی ہے ۔

اس بیمار ذہنیت کا نقصان آئندہ آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا جب ہر گلی محلے کی نکڑ پہ نوجوان ٹی وی سے سیکھ کر دست و گریباں ہوں گے اور اپنا بابا اوپر دکھانے کے لیے گالیوں مغلظات اور گھٹیا الفاظ کا انتخاب کریں گے ، صحافت کے طالب علم یا وہ بچے جو ابھی گیارہ بارہ سال کے سن میں ہیں بڑے ہوں گے اور اسی طرح کے کانٹینٹ سے متاثر ہوں گے کیونکہ اگلے چند سالوں میں ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی ان مغلظات کو آپ اب بچوں سے چھپا کر نہیں رکھ سکتے ۔

پرانے وقتوں سے مراد زمانہ قدیم نہیں یہی کوئی 10 سال پیچھے کی بات ہے گالی کسی بچے کی زبان پہ آجاتی تھی تو گھر میں ایک کہرام مچ جاتا تھا ماں کو شرمندگی ہوتی تھی کہ محلے والے کہیں گے یہ تربیت کی ہے بچے کی اور شام میں باپ آ کے مختلف زاویوں سے کلاس لے کے بچے کو سمجھاتا تھا کہ بیٹا گالی دینا گناہ ہے لیکن آجکل اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا سوشل میڈیا پہ شہباز گل کی ایما پر خاتون صحافیوں کے خلاف غلیظ ٹرینڈز اور گالیاں بکنا یہ سب اب عام کر دیا گیا ہے جس کا سہرا تمام سیاسی جماعتوں اور خاص طور پہ پی ٹی آئی کو ہی جاتا ہے ۔

اردو ادب میں ہم لوگ بہت امیر ہیں، ہمارے ادیبوں شاعروں نے بہت محنت سے ہماری زبان کو پہچان دلائی تھی جو الفاظ شہباز گل نے اُگلے ہیں اردو ادب کے ادیب بھی ان الفاظ کو اخلاقیات کا پاس رکھتے ہوئے حذف کرنا مناسب سمجھتے تھے اور اشاروں کنایوں میں مدعا بیان کیا جاتا تھا اگر بہت ضروری ہوتا ۔

اب رہی بات پیمرا کی تو بیچارہ ہومیو پیتھک ادارہ کیا کر سکتا ہے، اسے تو بس حکومت کو خوش کرنے کے لیے ، نوکریاں بچانے کے لئے مخالف چینلز پہ جرمانوں کے علاوہ اور کچھ آتا ہی نہیں یہ ادارہ اگر مضبوط ہوتا تو یقین مانئیے پاکستان میں آج بھی صحافت کا معیار بلند رہتا ۔

میں طالب علم ہوں صحافت کا اور افسوس ہے مجھے کہ مجھے ایک گھٹیا شخص کی بد زبانی پہ قلم اٹھانا پڑ رہا ہے نادم ہوں کہ کامران شاہد جیسا سنئیر کیسے ڈھٹائی سے اپنا پلہ چھڑا رہا ہے اور پیمرا وہ تو بیچارہ مست ہے ۔

اخلاقیات کا اب اللہ ہی حافظ ہے، ہم نے مل جل کے اسے تباہ کر ڈالا ہے، اس بازاری کانٹینٹ کے بعد جو رد عمل آرہا ہے وہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ خان کے سپاہی اور دوسرے تیسرے لوگ شہباز گل کے اس عمل کو بھی ڈیفینڈ کر رہے ہیں کہ اس نے بالکل ٹھیک کیا ۔
الامان الحفیظ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے