بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی تقریب، شیما کرمانی کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیےرقص

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے زیر اہتمام برطانیہ کے ادارے یو کے ایڈ کے تعاون سے پاکستان نیشنل کونسل فار آرٹس اسلام آباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیااس تقریب کا مقصد بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم کے مسائل کو سامنے لاناتھا اس پروگرام میں بلوچستان کے لیے ٹیچ پروجیکٹ اور اس کے حصہ دار اداروں کی کوششوں کو زیر بحث لایا گیا . بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے شیما کرمانی کے حصوصی سٹیج پرفارمنس کا بھی انعقاد کیا گیا۔

پروگرام میں شامل ماہرین شبانہ بلوچ کنڑی ڈاریکڑ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی بر یٹش ہائی کمیشن کے تعلیم اور صحت کے شعبے کے سربراہ گراہم گاس،یو ایس ایڈ کی ڈا ر یکٹر مس این فلیکرماہر تعلیم قر تعلین بحتیاری جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی کے چیف ایڈوائزر عابد گل بلوچستان ایجوکیشن کے میجننگ ڈاریکڑر شیر زمان بحث میں حصہ لیا۔

اس موقع پر شبانہ بلوچ کنڑی ڈاریکڑ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے کہا بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے راستے میں کھڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں، پالیسی ساز اداروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کی باہم رابطہ اور تعاون کی ضرورت ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کے اس معاملے کی حسا سیت کو سمجھا جانا چاہیے تعلیم کے حصول کی راہ میں بننے والے رکاوٹوں میں خواتین اساتزہ کی کمی،آبادیوں سے سکولوں کا بہت زیا دہ فاصلہ، سکولوں میں بنیادی ضروریات کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کے سکولوں میں چار دیواری اور واش کی سہولیات کی بھی کمی ہے۔حالیہ آنے والے بارشوں اور سیلاب میں بنیادی انفراسٹرکچر اور سکول عمارات کو شدید متاثر کیاہے۔

برطانیہ ہائی کمیشن کے تعلیم اور صحت کے شعبے کے سربراہ گرایم گاس نے بتایا کہ یو کے ایڈ کے ادارے نے ٹیچ پروجیکٹ میں 29,00سکول نہ جانے والی بچیوں کیلئے تعاون کیا ہے۔برطانیہ مستقبل میں بھی بچیون کی تعلیم کیلئے حکومت اور شریک کار اداروں سے تعاون جاری رکھے گا یہ ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے کہ خواتین کے حقوق کیلئے آگے بڑھیں اور ان کو تعلیم اور روزگارکے مواقع فراہم کریں۔

اس مو قع پر تحریک نسواں کی شیما کرامانی نے تھیٹر پرفارمینس میں بلوچستان میں بچیوں کی روز مرہ زندگی میں حائل مسائل اور تعلیمی مشکلات کا احاطہ کیا۔اس پروگرام کے پینل میں شامل ماہرین نے زور دیا کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ اورتعلیم کیلئے محفوظ ماحول وقت کی ضرورت ہے۔

تحریک نسواں کی شیما کرامانی نے تھیٹر پرفارمینس میں بلوچستان میں بچیوں کی روز مرہ زندگی میں حائل مسائل اور تعلیمی مشکلات کا احاطہ کیا

انہوں کہا کہ ہمارا مقصد بہترین تعلیمی معیار،اسکے لیئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تا کہ بلوچستان میں سکول نہ آنے والی بچیوں کو بہتریں تعلیمی مواقع فراہم ہو سکیں۔
اس موقع پر یو ایڈ کی ڈائیریکٹر این فلیکر نے بتایا کی وہ پاکستان میں 22.6میلین بچے تعلیمی مسائل کا شکار ہیں۔ان میں دو تہائی تعداد بچیوں کی ہے جو کہ سکول نہیں پہنچ پاتیں۔انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ بچیوں کی تعلیم کو تر جیح دیتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کی ہم بچیوں کی تعلیمی معیار میں اضافہ،ان کی معاشی مسائل کی کمی، اور تخفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

بلوچستان ایجوکیشن فنڈکے سربراہ عابد گل نے پینل ڈسکشن ہیں حصہ لیتے ہوے کہا کہ تعلیمی رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے خوا تیں اساتزہ کو دیگر اضلاع سے بلا کر اساتذہ کی کمی پوری کی جا سکتی ہے،اسکے علاوہ دوردراز سے آے والی بچیوں کے سکول کے اوقات میں بھی نرمی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی کو پوراا کرنے کیلئے پالیسی میں تبدیلی کی جاسکتی ہیں۔

قرۃ ا لعین بختیاری نے اس موقع پر چھوٹی بچیوں کی خوراک کی کمی طرف نشان دھی کی۔انہوں نے کہا کہ بچیاں اس عمر میں مختلف نفسیاتی مراحل سے گزرتی ہیں۔ان کی راہنمائی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ماہر تعلیم آئن ایڈ فلیڈ نے اس موقع پر زور دیا کہ صرف تعلیم دینے سے کئی مسائل مثلاٰ کم عمری کی شادی،کم عمری میں زچگی کے مسائل،اور جنس کی بنیاد پر اختلافات میں کمی ا ٓ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ ساری دنیا کے سربران مملکت اقوام متحدہ میں اکھٹے ہو کر تعلیمی کانفرنس میں شرکت کریں گے ہمیں امید ہے کہ پاکستان اس میں شر کت کرے گا اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے پر ا عتماد فیصلے کرے گا۔

اس پروگرام کے شرکاء میں بین ا لاقو امی اداروں کے بھرپور نمائندگی تھی۔یو ایس ایڈ ، ورلڈ بینک، جاپان انٹر نیشنل کو پریشن ایجنسی، وفاقی وزارت تعلیم، ہیلتھ اینڈ ڈیو پمنٹ سوسائٹی، سوسائٹی فار ایڈوانس منٹ ا ٓ ف ا یجوکیشن، قطر چیر یٹی، ای ڈی ایس پی،بلوچستان ایجوکیشن فنڈ، مختلف اداروں کے اساتذہ،طلباء اور سول سوسائٹی کے ممبران شریک ہوئے۔

اس مشترکہ تعلیمی کوشش کے تمام شرکاء نے عہد کیا کہ سب مل کر بچیوں کے تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو ختم کریں گے۔اس بات پر زور دیا گیا کہ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ کے چوتھے حدف سمیت 17احداف کو حاصل کیا جائے گا۔اور اس عالمی عہد پورا کیا جائے گا جس میں کوئی بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے