مسیحی نکاح نامہ کی رجسٹریشن قانونی حق مل گیا مگر آگاہی نہ ہونے کے برابر

یہ ٹھیک ہے بھائی آپ (مسلم ) بھائیوں کی شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی آسانی سے کمپیوٹر رائز نکاح نامہ بن جاتا ہے۔ میری شادی کو ایک سال ہو گیا ہے مگر ابھی تک کمپیوٹر رائز نکاح نامہ نہیں بن سکا۔یہ الفاظ ہیں، وقاص مسیح کے جو ایک پرائیویٹ ادارے میں کام کرتا ہے۔ گفتگو کے دوران اس نے مزید بتایا کہ ” شادی کے بعدمیری بیوی کا شناختی کارڈ تو آسانی سے بن گیا مگرہمارا سرکاری نکاح نامہ ابھی تک نہیں ملا۔وقاص مسیح کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس چرچ کی طرف سے لیئےگئے سادہ کاغذ والا نکاح نامہ بطور سرٹیفیکٹ موجود ہے ۔ کمپیوٹر رائز نکاح نامہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری برادری کی خواتین کو نوکری کے دوران بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔یہ مسئلہ سننے اور پڑھنے میں تو بہت چھوٹا سا لگتا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے ۔ملک میں قانون پاس ہونے کے با وجودہ صرف آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کو اپنے روزگار کی تلاش میں بھی مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔

2019ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام صوبوں کو حکم دیا کہ صوبائی حکومتیں تمام مذہبی اقلیتوں کی پیدائش ، موت، شادی اور طلاق کا ریکارڈ یونین کونسل کی سطح پر جمع کرنے کوانکے سرٹیفیکٹ کے اجراکو یقینی بنائے ۔نادرا کے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کو اس مناسبت سے ہم آہنگ نہ کر نے کی وجہ سے عملاً سست روی کا شکار ہے ۔اس معاملے میں جب سابق وزیر برائےمذہبی اقلیتی اموراعجاز عالم سے بات کی تو انہوں کہا کہ "یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے جو ں کا توں تھا. اس کی اصل وجہ چرچ آف پاکستان اور کیتھالک چرچ کو جب ایک سسٹم کو لے کر چلنے کا کہا گیا تو یہ دونوں سپریم کورٹ آف پاکستان چلے گئے ۔کیتھالک چرچ کا موقف تھا کہ چونکہ ہم برطانیہ کےماتحت ہیں تو اس لئے ہمارے مذہبی طریقہ کار بھی مختلف ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نےملک کی تمام مذہبی اقلیتوں کو” مذہبی اقلیتی ہم آہنگی آرڈینیس” کے ما تحت کر دیا ہے۔اس کے آرڈینیس کے مطابق قانونی طور پر چرچ کے پادری نکاح نامہ کی تین کاپیاں ریکاڈ کے طور پر فیملی کو دینے کا پابندہے۔اس میں سے ایک کاپی چرچ میں ،دوسری کاپی یونین کونسل میرج سرٹیفکیٹ جبکہ تیسری کاپی نادرا کے پاس شناختی کارڈ کی تبدیلی کے وقت جمع کروائی جاتی ہے۔ اعجاز عالم نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے پہلے کیتھالک چرچ اور چرچ آف پاکستان نکاح کی دو کاپیاں دیتے تھے اس میں سے ایک کاپی فیملی کو اور دوسری کاپی چرچ کے ریکارڈ میں جمع ہوتی تھی۔

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا اس بارے میں کہنا ہے ،نادراقانونی طور پر دو اہم معاملات دیکھتا ہےجس میں تمام مذہبی اقلیتوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ ہے اور جب بھی کوئی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نادرا آفس شناختی کارڈ کے حصول کے لئے آتے ہیں تو انکے تمام تر معاملات بھی پاکستان کے عام شہری کی طرح حل کئے جاتے ہیں۔اس بات کی تصدیق سلیمان مسیح نے کی کہ جب وہ اپنی بیوی کا شناختی کارڈ بنوانے کے لئے نادرا کے آفس گیا تو بناء کیس رکاوٹ کے ایک سادے سے عمل کے تحت انکی اہلیہ کا شناختی کارڈ بن گیا تھا۔اس نے نادرا آفس میں تمام مطلوبہ کاغذات جمع کراوئے جس کے بعد 22دن میں انکی اہلیہ کا شناختی کارڈ بن گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس سلسلے میں تمام ا ختیارات جن میں ڈیجیٹل میرج سرٹیفکیٹ یونین کونسلز کو منتقل ہو گے۔لاہور کی یونین کونسل کے سیکرٹری اصغر علی نے بتایا کہ 2019ء سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مذہبی اقلیتی برادری کا نکاح نامہ کمپیوٹراز رجسٹررڈ کیا جا رہا ہے اس سے پہلے کبھی یونین کونسلز میں نکاح نامے کے اندارج کے لئے کوئی مسیحی جوڑا نہیں آیا۔2019ء سے 2022تک لاہورکی ایک یونین کونسلز میں اب تک 15نکاح نامے رجسٹرڈ ہوئےہیں جوکہ مثبت اعدادوشمار کا تاثر بالکل نہیں دے رہے ہیں جبکہ اس یونین کونسل میں مسیحی برادری کی آبادی قریباًا یک ہزار ہے۔انہوں نے ٖمزید بتایا کہ ہ کمپیوٹراز رجسٹررڈ کے لئے انہیں چرچ کے نکاح نامہ کی کاپی ،دلہن اور دلہے کے شناختی کارڈ کی کاپی دونوں کے سربراہاں کے شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی جمع کروانا بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔ سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ چرچ کی گواہی جس کا مطلب ہے کہ وہ چرچ جہاں مسیحی جوڑے کا نکاح پڑھایا گیا ہو ۔اس چرچ کے لیٹر پیڈ پر نکاح پڑھانے والے پادری کی طرف سے گواہی کے طور پر سرٹیفکیٹ یونین کونسل میں جمع کروایا جاتا ہے۔ ان تمام دستاویزات کے بعد نکاح نامہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کا حصہ بن جاتا ہے۔

[pullquote]مسحیوں کے شادی اور طلاق کے قوانین ہیں کیا؟[/pullquote]

پاکستان میں 1970ء میں کلیساۓ انگلستان کلیساۓ سکاٹ لینڈ ، متحدہ میتھوڈسٹ اور لوتھرن چرچ کو یکجا کر کے چرچ آف پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کر سچن میرج ایکٹ کے تحت شادی کی مذہبی رسوم کی ادائیگی کوئی بھی ایسا شخص کرنے کا مجاز ہے جو اسکو پل آرڈی نیشن نٹرز آف رجسٹریشن، اور میرج رجسٹرار کے درجے پر فائز ہو۔نامزد چر چوں ( جنہیں کر بچن میرج ایکٹ میں تسلیم کیا گیا اور مجاز افراد کی جانب سے جاری کر دی سرٹیفکیٹس ہی عدالتوں اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں شادی کے ثبوت تسلیم کیے جاتے ہیں ۔کر سچین میرج ایکٹ مسیحی شادی کی مذہبی رسوم میرج رجسٹرار کے سامنے ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ رجسٹرار کو صوبائی حکومت نے ہر ضلع کے لیے نامزد کیا ہوتا ہے ۔ میرج رجسٹرار کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن اہمیت کا حامل ہوتا ہے، بالخصوص اس صورت میں اگر شادی سر پرست کی مرضی سے نہ ہورہی ہو ۔ رجسٹرار کی موجودگی میں مسیحی کی غیر مسیحی کے ساتھ شادی کر سکتا ہے بعدازاں اپنے اپنے مذہب کی روایات کے مطابق شادی کی رسومات کی جاتی ہیں ۔

میرج آفس آف رجسٹرار جنرل کے لیے یہ بھی لازم ہوتا ہے کہ وہ چرچ آف پاکستان میں ماہانہ ریکارڈ جمع کرائے۔ آفس آف رجسٹرار جنرل کے لیے لازم ہے کہ وہ کر سچن میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی تمام شادیوں کا ریکارڈ بھی رکھے ۔ جب ان کے سٹاف سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ نامزد کردہ چرچوں میں سے کوئی بھی اپنار یکارڈ آفس آف رجسٹرار جنرل جمع نہیں کروا تا اور صرف لائسنس یافتہ مذہبی پیشواؤں کی جانب سےجاری کردہ مذہبی رسوم کا ریکارڈ سنبھالا جاتا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو انکے بنیادی حقوق دیلوانا پارلیمنٹ میں بیٹھے منتخب اراکین اسمبلی کے فرائض میں شامل ہے۔مذہبی اقلیتوں کو اپنے حقوق کےلئے عدالت کا دروازے پر دستک دینی پڑتی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کے نکاح رجسٹریشن کا قانون تو پاس کر دیا مگر افسوس مذہبی اقلیتوں مکمل طور پر اس بل کے پاس ہونے کا علم ہی نہیں ہے ۔ مسیحی برادری کو کمپیوٹراز میرج سرٹیفیکٹ کے حصول کےلئے چرچ مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

تجزیے و تبصرے