کھانا نہاری اور کروانا چالان

اتوار کی صبح میں نے پیسہ اخبار ،انارکلی سے نہاری کھا ئی ، بیڈن روڈ سے لسّی کا گلاس پیا اور گاڑی مال روڈ کی طرف موڑ دی۔ جمخانہ کلب سے پہلے والا ٹریفک کا اشارہ سرخ تھا سو میں نے گاڑی روک لی اور ساتھ ہی غیر ارادی طور پر موبائل فون ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اپنی اِس عادت سے میں سخت بیزار ہوں۔ اتنے میں شیشے پر دستک ہوئی ۔ میں نے گردن ہلا کر دیکھا تو ٹریفک کا سپاہی دانت نکالے کھڑا تھا ۔میں نے شیشہ نیچے کیا ، اُس نے مسکرا کر سلام کیا اور ساتھ ہی لائسنس مانگ لیا، میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے نہایت ادب سے کہا کہ’سر آپ زیبرا کراسنگ پر کھڑے ہیں‘ ۔ غور کیا تو واقعی میری گاڑی کے اگلے ٹائر زیبرا کراسنگ کو چھُو رہے تھے ۔ میں نے قانون کو اِس قدرسختی سے نافذ کرنے پر اُس مرد ِ جری کی تحسین کی ، جواب میں اُس نے مجھے دو ہزار کا چالان تھما دیا ۔لسّی پینےکے بعد چونکہ مجھ پر غنودگی چھا چکی تھی اِس لیے میں نے جلدی سے اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیااور چالان کی رقم ادا کرکے نکل آیا مبادا وہ میرا اِس الزام میں چالان کردے کہ میں ’نشے کی حالت ‘ میںگاڑی چلا رہا تھا ۔

لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ ہمارے مسائل کا حل کیا ہے تو میں جواب دیتا ہوں کہ جس ملک میں لوگوں کی اکثریت قانون توڑنے اور نظام کو شکست دینے میں یقین رکھتی ہو،اُ س ملک میں کوئی نظام کام نہیں کرسکتا۔اِس ضمن میں ٹریفک کی مثال دینا مجھے بہت پسند ہے ۔شہروں میں ٹریفک کے اشارے لوگوں کی آسانی کیلئے نصب کیے جاتے ہیں ، مہذب ممالک میں لوگ اِن اشاروں پر چلتے ہیں اور اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اُلٹا اسے نقصان ہوتا ہے کیونکہ اکثریت قانون کی پیروی کرنے میں یقین رکھتی ہے ۔ہمارے ہاں اب یہ حال ہوچکا ہے کہ یار لوگ اندھا دھندون وے کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ٹریفک سگنل توڑتے ہیں، بغیر بتّی کے رات کو موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور ٹرالیوںپر انتہائی غیر محفوظ طریقے سے سریے لاد کر شاہراہوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔اوّل تو کوئی انہیں روکتا نہیں اور اگر کہیں میرے جیسا سر پھرا یہ کہہ دے کہ جناب والا آپ رات کو بغیر لائٹ کے غلط طرف سے آرہے ہیں اور وہ بھی حد رفتار سے زیادہ تو جواب میں اُلٹا وہ کہتاہے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں، دیندار ، لا دین، پڑھے لکھے، جاہل، ان پڑھ، امیر ،غریب….

اِس معاملے میں کوئی استثنیٰ نہیں اور ہر شخص کے پاس اپنی اپنی توجیہہ ہے۔کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب لو گ بے دردی سے ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے سڑکوں پر گزریں گے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ وقت آچکا ہے فقط ہمیں احساس نہیں ہورہا۔یقین نہیں آتا تو گزشتہ ایک ماہ کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں ، شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جس میں کسی خوفناک ٹریفک حادثے کی خبر شائع نہ ہوئی ہو۔کہیں کوئی بس کھائی میں گر جاتی ہے اور کہیں کسی کوچ اور ویگن کے تصادم میں درجنوں لوگ جاں بحق ہوجاتے ہیں ۔حادثے کے بعد حکام اور لیڈران مرنے والوں کے اہل ِ خانہ کے نام تعزیت کا پیغام دے کر یوں بری الذمہ ہوجاتے ہیں جیسے اُن کا بس یہی کام ہے اور ٹریفک کی حالت بدلنے کیلئے مریخ سے کوئی مخلوق آئے گی۔

مجھے دنیا کے کافی ممالک دیکھنے کا موقع ملا ہے ، اللہ کو جان دینی ہے، جیسی بد ترین ٹریفک ہماری ہے ، ویسی نائجیریا اور تھائی لینڈ کی بھی نہیں ۔بنکاک اور نیروبی اپنی بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے بدنا م ہیں مگر سچی بات ہے کہ ہم اُن سے بھی گئے گزرے ہیں۔ مجھے اپنی قوم کو مطعون کرنے کا کوئی شوق نہیں مگر اِس معاملے میں قوم کی بیہودگی کا دفاع نہیں کیا جا سکتا ۔ انڈونیشیا جیسے ملک میں ،جس کی آبادی ہم سے بھی زیادہ ہے (مگر بہت جلد ہم اسے مات دے دیں گے، اِن شا اللہ) ، میں نے کوئی عورت یا مرد ایسا نہیں دیکھا جو بغیر ہیلمٹ کے اسکوٹر چلا رہا ہو۔میں نے دنیا میں کسی جگہ دس بارہ سال کے بچوں کو موٹر سائیکل چلاتے نہیں دیکھا ، ہمارے ہا ں یہ بچے لا پروائی سے سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتے ہیں اور اِس لاپروائی کے پیچھے یہ یقین ہوتا ہے کہ انہیں کوئی نہیں روکے گا اور یہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے ۔

جب کوئی بچہ بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل چلاتا ہے اور قانون کی گرفت میں نہیں آتا تو اُس کے دماغ سے قانون کا خوف ختم ہوجاتا ہے ، یہ پہلا معمولی جُرم ہوتا ہے جو اُس سے سرزد ہوتا ہے مگر وہ اُس سے بچ نکلتا ہے ۔یہ بات پھر اُس کے دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے کہ یہاں قانون کی عملداری نہیں لہٰذا چاہے ٹریفک کا اشارہ توڑو یا کسی کو گاڑی کے نیچے روند دو، کوئی نہیں پوچھے گا۔اور بات یہاں نہیں رکتی ۔ٹریفک کی اِن خلاف ورزیوں سے اسے مزید شہہ ملتی ہے اور پھر وہ قانون کی بڑی خلاف ورزیاں بھی اسی غلط فہمی میں کرتا چلا جاتا ہے کہ یہاں قانون پر عملدرآمد کروانے والا کوئی نہیں اور یہ کوئی ایسی غلط فہمی بھی نہیں ہوتی ۔ آج جو ہم اپنے ارد گرد بڑھتی ہوئی لا قانونیت دیکھ رہے ہیں وہ دراصل چھوٹی عمر میں ٹریفک کی معمولی خلاف ورزیوں ہی سےشروع ہوتی ہے ۔

ہر مسئلے کی طرح اِس مسئلے کا بھی حل موجود ہے ، ہمیںکچھ نیاایجاد نہیں کرنا،بس جیسے دنیا کرتی ہے ویسے ہی ہمیں کرنا ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ریڈار پر یہ مسائل ہی نہیں، کسی کو پروا نہیں کہ اِس ملک کی آبادی تیئس چوبیس کروڑ ہوچکی ہے اور 2050ءتک یہ 37 کروڑ ہو جائیگی۔ یہ آبادی ہی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بے ہنگم ہے اور یہ آبادی ہی ہے جو ہمارے پچاس فیصد مسائل کی وجہ ہے ۔صحت ہو یا تعلیم ، ٹریفک حادثات ہوں یاموسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نازل ہونے والا سیلاب ،ہر مسئلے سے نمٹنے کیلئے پیسے چاہئیں ، جو پیسے ہم کماتےہیں وہ اِس سے نصف آبادی کیلئے تو شاید کافی ہوں مگر چوبیس کروڑ کیلئے ایسے ہی ہیں جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔اِن پیسوں اور اِس آبادی کے ساتھ ملک ایسے ہی چل سکتا ہے جیسے ہماری ٹریفک چل رہی ہے ۔اِن حالات میں تو افلاطون کا فلسفی بادشاہ بھی ملک ٹھیک نہیں کرسکتا ، ہم کیا خاک کریں گے!

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے