سوات یونیورسٹی:’طلبا و طالبات کے میل جول پر پابندی’

پشاور: صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں واقع یونیورسٹی آف سوات میں ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے طلبا و طالبات کو یونیورسٹی کے احاطے بلکہ کیمپس کے باہر بھی اکٹھے گھومنے پھرنے سے روک دیا گیا۔

یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب 14 اپریل 2016 کو یونیورسٹی کے چیف پراکٹر حضرت بلال کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اگر طلبا و طالبات مخالف جنس کے ساتھ گھومتے پھرتے دکھائی دیئے تو انھیں سزا دی جائے گی.

نوٹیفیکیشن کے مطابق ‘یونیورسٹی کے تمام طلبہ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کو کیمپس کے اندر یا باہر ایک ساتھ بیٹھنے یا گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے.’

مزید کہا گیا ہے کہ ‘اگر طالب علم (لڑکا اور لڑکی) ایک ساتھ بیٹھے یا چلتے پھرتے دکھائی دیئے تو انھیں 50 روپے سے 500 روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی.’

نوٹیفکیشن کے مطابق تادیبی طریقہ کار کے تحت طلبہ اور اساتذہ کا ایک ‘ہنگامی اجلاس’ بھی بلایا جائے گا.

[pullquote]چیف پراکٹر معطل[/pullquote]

بعدازاں نوٹیفکیشن جاری کرنے پر یونیورسٹی آف سوات نے مذکورہ چیف پراکٹر کو معطل کردیا۔

یونیورسٹی ترجمان آفتاب کے مطابق مذکورہ نوٹیفکیشن وائس چانسلر کے علم میں لائے بغیر جاری کیا گیا، جس کے باعث چیف پراکٹر حضرت بلال کو معطل کردیا گیا.

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ صنفی امتیاز کے حوالے سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن اب واپس لے لیا گیا ہے.

دوسری جانب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جو 4 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی.

سوات کو ملٹری آپریشن ‘راہِ راست’ کے ذریعے عسکریت پسندوں سے خالی کروانے کے بعد حکومت نے 29 مئی 2010 کو یونیورسٹی آف سوات کے قیام کا اعلان کیا تھا، جو 7 جولائی 2010 کو باقاعدہ طور پر وجود میں آئی.

یونیورسٹی کے لیے 2 عمارتیں صوبائی ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے فراہم کیں جبکہ 2 مزید عمارتیں یونیورسٹی انتظامیہ نے کرائے پر حاصل کیں.

یونیورسٹی کے 18 شعبہ جات میں 2 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے