”پارسا ” مفتی اور گنہگار قندیل

آخر کار قندیل بلوچ نام کی لڑکی منوںمٹی تلے جا سوئی ، ابتدائی اطلاع کے مطابق ایک بھائی نے غیرت کے نام پر اس کا قتل کر دیا ،حیرت تو یہ ہے کہ اس بھائی کی غیرت اتنی دیر سے کیوں جاگی ؟ اب جاگی یا پیسے دے کر جگائی گئی، یہ کہنا قبل از وقت ہے ….لیکن چلو جیسے بھی غیرت جاگی ۔۔۔اور قندیل کا چیپٹر کلوز ہوا ۔بہت سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔خاص طور پر مولانا عبدالقوی اور ان جیسے دوسرے حضرات نے ۔۔ کیوںکہ مولوی عبدالقوی کے واقعہ کے بعد بہت سے پارسا لوگ گھبرا گئے تھے کہ کہیں ان کا پول بھی نہ کھل جا ئے کیونکہ قندیل بلوچ صرف ایک عام سی لڑکی نہ تھی بلکہ بہت جرات مند تھی اور معاشرے میں پارسائی کے نام پر دونمبری کا کھیل کھیلنے والوں کے چہرے بے نقاب کرنے کا ہنر اچھی طرح جانتی تھی ۔

حال ہی میں قندیل بلوچ کے اصلی شناختی کارڈکے منظر عام پر آنے سے پتا چلا کہ اس کا نام قندیل بلوچ نہیں بلکہ فوزیہ عظیم ہے ۔ اس کی جائے پیدائش ڈیرہ غازی خان ہے اور وہ یکم مارچ 1990 کو پیدا ہوئیں۔قندیل بلوچ اس معاشرے کی ایک عام اور معمولی سی لڑکی تھی ،جسے ماڈلنگ کے ذریعے شائد شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کا خبط سوار تھا ،اور ہمارے میڈیا کے کچھ لوگ ایسے ہیں جو شارٹ کٹ کے راستے جانتے ہیں ایسے ہی شارٹ کٹ والے لوگوں کی رائے پر چلتے ہو ئے قندیل بلوچ پیسے اور شہرت کے جھانسے میں آ گئی اور یوں قندیل بلوچ نے عجیب و غریب حرکتیں کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ،خاص طور پر سوشل میڈیا کے طفیل قندیل بلوچ شہرت کی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ شاہد آفریدی کے میچ جیتنے پر انہوں نے ایک بولڈ اعلان کیا اور اس کے بعد سے اب تک ہر تیسرے بندے کا موضوع گفتگو وہی تھی ۔ قندیل بلوچ کون ہیں، ان کی عمر کیا ہے، ان کے والد کون تھے، وہ کہاں پیدا ہوئیں، انہوں نے تعلیم کہاں سے حاصل کی، کس مضمون میں حاصل کی، ان سب سوالوں کے جواب آپ ڈھونڈئیے، آس پاس مختلف جگہوں پر جتنے منہ اتنی باتیں کے حساب سے جوابات مل جائیں گے، بلکہ جیسا منہ، ویسی بات کا ماحول زیادہ گرم ملے گا۔

ماڈل قندیل بلوچ سوشل میڈیا پر چاہے جیسی حرکتیں کرتی رہتی شائد اس پر لوگوں کو اعتراض نہ ہو تا ،مگر مولوی عبدالقوی کے ساتھ منظر عام پر آنے والی وڈیو نے تو جیسے ایک طوفان کھڑا کر دیا ،ہر کوئی قندیل بلوچ کا کچا چٹھا کھولنے پر تیار نظر آیا ،الیکٹرانک میڈیا بھی پیچھے نہ رہا ،کسی نے اسے شہرت کا آسان طریقہ بتایا تو کسی نے مولانا عبدالقوی کے خلاف اسے بہت بڑی سازش قرار دیا …..اور مولوی عبدالقوی کی سادگی دیکھئے کہ کیسے معصوم بن کر وضاحت کی کہ وہ تو قندیل بلوچ کی خواہش پر اس سے ملے ۔۔۔اور اسے نصیحت کر کے غلط راہ سے روکنے کے خواہش مند تھے ،،،مگر واہ ری قسمت کہ ان کا فون آ گیا وہ اس میں مصروف تھے جس کی وجہ سے قندیل بلوچ کی بے تکلفی اور اس بے تکلفی کی وڈیوز بننے کی سازش کو نہ سمجھ سکے ۔ ۔ اور شائد یہی وڈیو منظر عام پر آنا قندیل بلوچ کی موت کا پروانہ بھی ثابت ہو ئی کیونکہ پارسا مولوی عبدالقوی کی بات اسی وقت درست تسلیم کی جا سکتی ہے جب اس کا کوئی جواب دینے والا نہ ہو ۔ ۔ ۔میرا سوال ہے اپنے میڈیا کے لوگوں سے ۔ ۔ ۔ ۔اس معاشرے سے اور اس معاشرے کے ہر غیرت مند مرد سے کہ کیا اس وڈیو کے بعد صرف وہ لڑکی غلط ثابت ہو تی ہے ….کیا ہمارا رویہ یہی ہو نا چاہیے کہ ایک ماڈل کسی مولوی کے بیڈروم میں اس طرح کی حرکتیں کرے تو سارا معاشرہ اس پر تو تھو تھو کرے مگر ایک مولوی کی پارسائی پر کوئی سوال نہ اٹھے؟ ۔۔۔۔ہر کوئی اس ماڈل کی گزشتہ زندگی کی تلاش شروع کر کے اسے ایک برے کریکٹر کی لڑکی تو ثابت کرنے کی کوشش میں جت جا ئے ،مگر اس مولانا کے ماضی اور حال کا جائزہ نہ لے اور اس سے یہ سوال نہ کیا جا ئے کہ بھئی تمہاری پارسائی اس وقت کہاں سوئی تھی ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ مگر نہیں ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں ہمارے ہاں تو غیرت کے نام پر صرف ایک لڑکی ہی قتل ہو تی ہے ایک مرد نہیں ۔۔۔۔

اگر یہی قندیل بلوچ مولوی عبدالقوی کی پارسائی کا بھرم رکھتے ہوئے اس طرح کی وڈیوز سوشل میڈیا پر نہ لاتی تو یقینا مولانا صاحب اس کو مزید اپنے درس سے فیضیاب کرنے کوششوں میں لگ جا تے اور مزید کئی پارسا اس بہتی کنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار ہو جا تے ،مگرنہیں ۔۔۔۔ہمارے ہاں اتنی بولڈ لڑکیوں کی گنجائش نہیں ہے ۔ہم یہ کبھی نہیں چاہتے کہ کوئی لڑکی اتنی بولڈ ہو جا ئے کہ ان مردوں کے اصل مکروہ چہرے اس بے حس معاشرے کے سامنے لے آئے جو ایک ماڈل گرل پر اس طرح کی وڈیو سامنے آنے پر تو پتھر برساتے ہیں مگر اس مولوی کی کی پارسائی پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں ،کیونکہ آخر کا ر وہ بھی تو اس معاشرے کا ایک غیرت مند مرد ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔سکینڈل کوئین قندیل بلوچ کے مٹی میں دب جانے کیساتھ ہی شائد اس کا ماضی بھی مٹی تلے دب جا ئے کہ اس نے کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والے عاشق حسین نامی شخص سے شادی کی تھی اور اس کا ایک بچہ بھی ہے ۔

اگرچہ قندیل بلوچ نے کچھ دن قبل شادی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ 18 سال کی تھی تو ماں باپ نے 2008 میں عاشق حسین نامی شخص سے زبردستی شادی کرا دی تھی جس سے ایک بچہ بھی ہے لیکن شادی کے بعد میں نے کہا کہ مجھے پڑھنا ہے اور اس پسماندہ علاقے میں نہیں رہنا جس کے بعد تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے عاشق سے خلع لے لیا۔ قندیل بلوچ کا کہنا تھا کہ عاشق حسین اس پر تشدد کرتا تھا جس کے تشدد کی وجہ سے اس نے دارالامان میں پناہ لی۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ایک عورت کا حق نہیں کہ وہ اپنی زندگی جئے اور پڑھائی جاری رکھے،عاشق حسین مجھے بھائیوں سے بھی نہیں ملنے دیتا تھا اور ہمسائیوں کے ہاں بھی جانے پر پابندی تھی۔قندیل بلوچ نے خود اس بات کا اعتراف کرتے ہو ئے کہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میرے خلاف پاکستان میں کیوں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور اب میں مشہور ہورہی ہوں تو یہ شخص دعوے کررہا ہے۔اور الزامات بھی لگا رہا ہے قندیل بلوچ کے شوہر عاشق حسین کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ جھوٹ بول رہی ہے، ہماری پسند کی شادی ہوئی تھی جب کہ قندیل بلوچ کے خون سے لکھے گئے رومانوی خطوط بھی موجود ہیں۔ عاشق حسین نے کہا کہ قندیل بلوچ نے بنگلہ، گاڑی اور دیگر مطالبات شروع کردیئے تھے اور ملازمت کے لئے ضد کرنے لگی تو دونوں کے درمیان معاملات خراب ہوگئے تھے۔۔۔۔۔

یہ اور اس طرح کی اور شائد کچھ کہانیاں چند دن منظر عام پر آئیں گی اور وقت کی دھول میں گم ہوجائیں گی لیکن اس کے پس منظر میںہمارے معاشرے کا وہ چہر ہ پھر بھی سامنے نہیں آئے گا جس پر کئی پارسا مولویوں کی ملمع کاری چڑی ہوئی ہے ، اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سارے کھیل میں ایک پارسا مولوی کو ملک کی رویت ہلال کمیٹی میں ایک اہم عہدے سے بھی تو ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے قندیل کی موت کے پس پردہ کئی اور پارسائوں کا بھی ہاتھ ہو جو اپنے چہرے سے نقاب اترنے کے خوف میں مبتلاہوں لیکن اس سارے معاملے کا اصل پہلو قندیل کی موت کے اصل اسباب سامنے آنے پر کھل سکتاہے لیکن کیا ہمارے قانون و انصاف کے اداروں کا کردار اتنا مضبوط ہے کہ یہ سارے حقائق سامنے لاسکے یہ صرف ایک سراب ہے اگر قندیل کی زندگی اس ملک میں جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے دعویداروں کے نزدیک اتنی ہی اہم ہوتی تو وہ اس وقت حرکت میں ضرور آتی جب قندیل بلوچ نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے اس ملک کے حکمرانوں سے اپنی سکیورٹی کی بات کی تھی لیکن سرکار کو تو حکمرانوں اور ان کے اہل و عیال کی حفاظت سے ہی فرصت نہیں ان کی دانست میں قندیل جائے بھاڑ میں کیونکہ وہ کوئی آیان علی کی طرح کی ماڈل گرل تو نہیں تھی جس کو ایک غیرقانونی کام کرتے ہوئے رنگے ہاتھ گرفتار ہونے کے باوجود پوری انتظامیہ ہل کر رہ گئی اور اس کو بچانے کے لئے نہ صرف متحرک ہوئی بلکہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگئی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے