خام خیال نہ بنیں، پاکستان کو باقی رہنا ہے۔

سرفراز حسن 

اسلام آباد

ISLAMABAD, PAKISTAN - DECEMBER 15:  Pakistani policemen stand guard at the Supreme Court on December 15, 2007 in Islamabad, Pakistan. President Pervez Musharraf ended Pakistan's six-week-old state of emergency on Saturday and swore in the new chief justice of the Supreme Court. The move comes weeks ahead of parliamentary elections scheduled for January 8, 2008, which critics and opposition parties have charged my be deeply flawed.  (Photo by John Moore/Getty Images)

 اکیسویں آئینی ترمیم کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے آبزرویشن دی کہ ریاست آئین ہے، اگرآئین شکنی ہو تو عدالتیں یہاں بیٹھی ہیں، خام خیال نہ بنیں، پاکستان کو باقی رہنا ہے۔ جسٹس سرمدجلال عثمانی کا کہنا تھا کہ صرف مذہبی رحجان والے ہی کیوں، دیگر افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیئے۔

سپریم کورٹ میں 17 رکنی فل کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا تو اٹارنی جنرل نے عدالتی امور کی غلط رپورٹنگ کرنے والے اخبار ’’دی نیوز‘‘ کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ عدالت نے اخبار کے رپورٹنگ معیار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جرنل سے سوال کیا کہ کیا پہلے سے گرفتار افراد کے خلاف بھی آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے؟

جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا عدالت میں اصل نقطہ شواہد اکھٹا کرنے اور مقدمہ درج کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کہ یہ کون دیکھے گا کہ فوجی عدالت میں پیش کردہ شواہد درست ہیں یا نہیں۔ آئینی ترمیم میں تو کہہ دیا گیا ہے کہ کوئی عدالت ان شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ صرف مذہبی رحجان والے ہی کیوں؟ دیگر افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیئے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ریاست آئین ہے، آئین شکنی ہو تو عدالتیں یہاں بیٹھی ہیں، خام خیال نہ بنیں، پاکستان کو باقی رہنا ہے،

اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کے سامنے 9 ایسی ویڈیوز پیش کی گئیں جن میں لوگوں کو قتل کرتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔ جس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا داعش کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے؟

پشاور آرمی پبلک سکول کے کئی طلبا کے والدین بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے بچوں کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اٹارنی جنرل کی اجازت سے عدالت میں آئے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے