اہانت رسول اور جسٹس صدیقی

سوشل میڈیا پر ہونے والی توہین رسالت کی بازگشت عدالت عالیہ تک پہنچی ہے اور عدالت عالیہ کے معزز جج نے آبدیدہ ہوکر ایسے متعصب بلاگرز کے خلاف کارروائی کرنےاور سوشل میڈیا پر موجود تمام توہین آمیز پیجز کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔بعض دوستوں کے مطابق یہ سب کرنے والے سیکولر ہیں اور وہ یہ سب کرکے ہم مسلمانوں سے ہماری آخری متاع بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے مگر میرا خیال اس سے مختلف ہے۔ میرے نزدیک اس کا مقصد سیکولرازم کو فروغ دینا نہیں ہے کیونکہ سیکولرازم خود توہین کرنے اور مقدس شخصیات کا مذاق اڑانے جیسے قبیح افعال کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔ یہ سب کام مسلم کہلوانے والے ایک طبقہ کے لوگ کررہے جنہوں نے سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اس کا مقصد صرف مسلم دنیا میں انتشار اور فساد پھیلانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی نے جو کچھ کہا ہے اور جس جذبے کے ساتھ انہوں نے اس کیس کی سماعت شروع کی ہے، وہ یقینا لائق تحسین ہے مگر ان کے بعض ریمارکس ایسے ہیں جو ان شرپسندوں کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوسکتے ہیں۔ مثلا انہوں نے توہین رسالت کے مرتکب بلاگرز کے خون کو "مباح الدم” قرار دیا ہے جس کا آسان مطلب "واجب القتل” کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اس بات سے اگر کوئی مشتعل ہوکر یہ قدم اٹھا لیتا ہے تو اس کے نتائج کتنے بھیانک نکل سکتے ہیں؟ شاید ہم اس کا تصور بھی نہ کرسکیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس عنوان پر ہونے والے قتل وقتال سے ملک اور قوم کو بچایا جائے اور ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی سخت سے سخت کی جائے۔ ممتاز قادری نے جو قدم اٹھایا تھا وہ بھی ایک مفتی صاحب کے ریمارکس کا نتیجہ تھا اور جسٹس شوکت صدیقی اس پینل کا حصہ تھے ،جس نے ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے ممتاز قادری کی سزا باقی رکھی تھی۔ آج وہی ریمارکس جسٹس صدیقی دے رہے ہیں ۔ جسٹس صدیقی کے یہ ریمارکس پاکستان میں ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ قتل عام کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر توہین رسالت کرنے والوں کے خلاف قانونی شکنجہ کس دیا جائے تو یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس بن سکتا ہے ۔

سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ میں جس طرح ایسے توہین آمیز واقعات ہورہے ہیں،ان کے سامنے قانونی بند بھاندھنے کی ضرورت ہے کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور ہرفرقہ پرست دہشت گرد کو یہی چیزیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ اشتعال دلاکر اور جذباتی بیانات دیکر مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس کیس کو بنیاد بنا کر پاکستان میں توہین رسالت، توہین صحابہ اور توہین اہل بیت جیسے واقعات کو روکنے کے لیے حکمت عملی اپنائی جائے اور ان مسائل کاسنجیدہ حل تلاش کیا جائے۔

پاکستانی دماغ اگر سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکام ہے تو سوشل میڈیا سمیت ہر اس چیز کوبند کردینا چاہیے جس سے حضور نبی کریم ﷺ کی گستاخی ممکن ہوسکتی ہے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے یہ کیس بنیاد بن جائے اور پاکستان میں توہین رسالت اور توہین صحابہ و اہل بیت کے واقعات کو روکنے کے لیے عدالت عالیہ ایسی سخت قانون سازی کروادے جس سے یہ خلفشار،انتشار اور فساد مستقل ختم ہوجائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے