تاریخ کی کتابوں میں موجودہے اوربزرگوں سے آنکھوں دیکھا حال بھی سن چکے ہیں کہ ، 23 مارچ 1940 ء کو لاہور میں واقع ”منٹو پارک“ موجودہ ”اقبال پارک“ میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور 23 مارچ ہی کے دن 1956 ء میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا، 23 مارچ کی تاریخی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سال 23 مارچ کو یوم پاکستان منانے کا اعلان سرکاری طور پر کیا گیا۔۔کچھ عرصہ قبل تک جب صرف سرکاری میڈیا کی اجارہ داری تھی اور دو چار بڑے اخبارات بھی حکومتی آواز میں آواز ملاتے تھے تو ہم پاکستان کو دنیا کا سب سے متحد ملک سمجھتے تھے
ِجوں جوں ہم شعور کی سیڑھیاں چڑھتے گے حقائق کی گرہیں کھلتی گئیں۔ ۔ ہماری یگانگت ، بھائی چارے اور اخوت کے پردے چاک ہونے لگے۔۔ہمیں یوں لگا کہ ہم صرف ملی نغموں اورترانوں کی حد تک متحد ہیں۔۔ چاروں صوبوں کی ثقافت ، تہذیب و تمدن ، ڈانسز صرف 23مارچ کی تقاریب محدودہیں ۔۔ یہ پنہاں راز بھی عیاں ہو تا چلا گیا۔۔ہم جب بچے تھے اور سکولوں میں یوم آزادی کی تقریبات کاحصہ بنتے تھے تب پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پوری قوت سے آواز بلند کرتے تھے۔۔ چاند میری زمیں پھول میرا وطن۔۔ اشعار رگ رگ میں بس جاتے اور رونگٹھے کھڑے کردیتے تھے۔
تب یوم آزادی کے حوالے سے ہمیں تاریخی باتیں بتانے اور تاریخ پڑھانے والے اساتذہ ہی ہمیں سب سے بڑے تاریخ دان اور مشعل راہ دکھائی دیتے تھے۔۔ یوم آزادی کی تقریب میں طلبہ کی تقاریر کے مقابلے ، ملی نغمے اور پریڈ متعلقہ اساتذہ کی ہی ہدایت کاری کاحاصل ہوتا
تھا ۔۔ یوم آزادی کو ہم پاکستان میں ایسے گم ہو جاتے تھے کہ اس روز اس جذبہ سے سرشار ہو کر گھروں کو لوٹتے تو پی ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ۔ ۔ ریس کورس راولپنڈی میں مسلح افواج کی پریڈ کے مناظر خون گرما دیتے۔۔
جذبہ کے نام پہ یاد آیا۔۔۔انیس سو اٹھاسی کی ایک صبح میں مانسہرہ کے لاری اڈہ پر مانسہرہ کالج جانے کیلئے کھڑا تھا۔۔ اتنے میں پاک فوج کا ایک کانوائے گزرا تو لاری اڈہ میں کھڑے لوگوں کی ایک بڑ ی تعداد نے سڑک کے اطراف قطاریں بنا لیں۔۔ فوجی گاڑیاں گزرتی رہیں اور لوگ تالیاں بجا کر اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگا کر ایک ایک گاڑی کو رخصت کرتے رہے۔۔ پاک فوج کے جوان گاڑیوں میں اسلحہ تھامے مسکراتے اور ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دیتے ہوئے گزر گئے۔۔
یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں لگی آگ کے شعلے ہم تک نہیں پہنچے تھے۔۔ ہم امریکہ والوں سے مل کر جہادی اکٹھے کررہے تھے اور امریکہ سے مل کر روس کو گرم پانیوں کی طرف پیش رفت سے روک رہے تھے۔۔ ساری دنیا جنرل ضیاء الحق مرحوم پر کلاشنکوف کلچر متعارف کرانے کے الزامات لگاتی ہے لیکن سچ یہ ہے ۔۔ اس وقت روس کو روکنا ہماری اس وقت کی ضرورت تھی۔۔ جہاد کیلئے اکھٹے ہونا اور امریکہ کی مدد سے روس کاراستہ روکنا بھی ضروری تھا۔۔غلطی وہاں ہوئی جب افغان مہاجرین کو پاکستان بھر میں گھسنے کی اجازت دے دی گئی۔۔ اگر وہ اس وقت مہاجر کیمپوں تک محدود ہوجاتے تو آج کلاشنکوف کلچر ہوتا نہ افغانیوں کی واپسی تنازعہ بنتی۔
ذکر پاکستانیوں کے اتحاد اور بھائی چارے سے نکلا اور ان وجوعات تک جاپہنچا جن کی وجہ سے ہم منقسم ہوتے چلے گے۔۔۔ جیسے اب ہم بڑے جوش و جذبے سے آ ئی ڈی پیز کی واپسی کیلئے سرگرداں ہیں ۔۔ حکومت ، فوج اور عوام آئی ڈی پیز کی واپسی، دوبارہ آباد کاری اور ان کے مسائل کے حل پر متفق ہیں ۔۔ کاش ایسے ہی افغانیوں کی مہمان داری کا طریقہ کار طے کرکے رخصتی کا روڈ میپ بنا تے تو ہمیں مذہبی انتہا پسندی کا خم یاز بھگتنا پڑتا نہ ہی جہاد کرنے والے ملک کے اندر جہاد کرتے۔۔پھر غلطیاں ہوتی چلی گئیں۔۔ اور آج جب 23مارچ کو وفاقی دارالحکومت میں آزادی پریڈ ہو رہی ہے تو اس کی روح رواں بھی فوج ہے، میزبان بھی وہی ہیں اور مہمان بھی ۔۔
دہشتگردی کے اژداھا نے قومی ہم آہنگی ، جذبہ اور اعتماد کی فضا کو نگل لیاہے۔ ۔سچ یہ ہے ہم آج صرف اخبارات کی خبروں کی حدتک سیم پیج پر ہیں۔۔سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی ترجمان ہیں ۔ مذہبی جماعتیں اپنا راستہ ڈھونڈتی نظر آتی ہیں۔۔ حکومت کے فوج کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے دعوے نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی حصے کاکام ادھورا رہنے سے عیاں ہیں۔۔خارجہ پالیسی میں ابہام ہے تو داخلہ امور میں بھی یکسوئی نظر نہیں آتی ۔۔شاید ایسے ہی کسی موقع کیلئے کہا گیاتھا
خداتجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے !!
ترے بحرکی موجوں میں اضطراب نہیں
قومیں تب سیم پیج پر ہوتی ہیں جب سب سٹیک ہولڈرز آئین میں متعین حدود و قیود کے تابع ہو کر چلتے ہیں۔۔اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔۔ سیاسی جماعتیں سیاست کے ساتھ ساتھ قوم کو تقسیم کرنے کی بجائے متحد کرتی ہیں۔۔ جہاں ملک وقوم کے مفاد میں بولنا پڑتاہے وہاں مجرمانہ خاموشی اختیار نہیں کرتیں۔۔۔وطن عزیز میں افغانستان پر روسی چڑھائی سے پیدا ہونے والی انتہاپسندی کی لہر کا بھی اثر
ہے۔۔۔ آمریت کے سائے بھی لوگوں کو تقسیم کرتے رہے۔۔جمہوری دور کے سیاستدانوں نے بھی منفی مثالیں قائم کیں۔
میثاق جمہوریت بظاہر بہت پرکشش معاہدہ تھا جس کو معنی یہ پہنائے گے تھے کہ جب کبھی بھی ملک میںآ مریت نے قدم بڑھانے کی کوشش کی تومل کر اس کا راستہ روکا جائے گا۔۔۔ پھر ہوا یوں کہ جب آصف زرداری کی حکومت میں سوئس اکاونٹس کا سکینڈل چلا ۔۔ معاملات عدالت میں چلے گے۔۔ دو وزرائے اعظم کی قربانی دے دی گئی صرف لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا راستہ روکنے کیلئے۔۔ میثاق جمہوریت کے نام پر نواز شریف کی جماعت نے اس کرپشن کے باوجود آصف زرداری کاساتھ دیا۔
اس میثاق جمہوریت کاثمر اب بھی وہی دو جماعتیں سمیت رہی ہیں۔۔ اب کی بار بساط وہی ہے مگر مہرے تبدیل ہو گئے ہیں۔۔ پہلے کرپشن کاالزام آصف زرداری پر تھا اور نواز لیگ ان کی پشت پر تھی۔۔۔ اب نوازشریف فیملی کی ملک سے باہر دولت کے قصے چل رہے ہیں۔۔ قطری خط ۔۔ اس کے نام نہیں اس کے نام ہے۔۔ باپ مالک نہیں بیٹا مالک ہے۔۔۔ بیٹی ڈی پینڈنٹ ہے ۔۔ نہیں بیٹی الگ رہتی ہے۔۔ پیسوں کی کوئی رسیدیں نہیں۔۔ یہ ہیں وہ ثبوت جن سے شریف فیملی نے اثاثے بنائے۔۔ ساری دنیا کو بات سمجھ آ گئی ہے۔۔ بس آصف زرداری کی جماعت ہے کو مثاق جمہوریت کے نام پر تماشا ئی بنی رہی۔
صرف جنگیں ہی نہیں ۔۔ کبھی کبھی کھیل بھی قوموں کو اکٹھا کر دیتے ہیں۔۔ لیکن ہمارے ہاں بد قستمی سے ہم پی ایس ایل کے معاملے میں بھی اکٹھے نہیں ہوسکے۔۔ عمران خان نے اپوزیشن کرنے کا ایسا بیڑا اٹھایا ہے کہ کرکٹ کو بھی نہیں بخشا اور نجم سیٹھی اور نواز شریف کی دشمنی میں پی ایس ایل کے خلاف بھی خاموش نہیں ہوئے۔۔کاش کب ایسا ہوگا کہ ہم ریس کورس کی طرح شہری اور فوجی اکھٹے ہو کر ۔۔ کہیں پورا سٹیڈیم بھر کر یوم آزادی منائیں گے ۔۔ اور ہم سچ مچ ایک صفحے پر بھی ہوں گے۔۔ بکھری ہوئی قوم اور سوچ کو یکجاکرنا سب کی ذمہ داری ہے۔۔ ایسے ہی جیسے اپنا حصہ مانگنے آگے ہو جاتے ہیں۔۔ قوم کو اکٹھا کرنے کیلئے بھی آگے آئیں۔
پاکستان دو لخت ہو گیاہے تو کیاہے۔۔ ہم ایٹمی طاقت اس کے بعد ہی بنے ہیں۔۔ ہم نے دہشتگردی کے ہاتھوں پچاس ہزار سے زائد انسانی جانوں کو گنوایا ہے مگر دہشتگردوں کا سوات اور فاٹا سے صفایا بھی تو کیاہے۔۔ کراچی میں نامعلوم افراد کو معلوم کی فہرست میں بھی تو لے کر آئے ہیں۔۔ بلوچستان میں دشمن نے متعدد دہشتگردی کی وارداتیں کرکے انسانی خون سے ہو لی کھیل کر ۔۔ نفرتیں پھیلا کر بھی دیکھ لیا ۔۔ گوادر بندرگاہ کی صورت میں ہمار ا عزم نمایا ں بھی تو ہے۔
افغان حکمران اگر پیسے کی خاطر بھارتی سرکار کے آلہ کار بن جاتے ہیں تو افغانیوں ہی کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال میں بھی پاکستان کی میزبانی کو فراموش کرنے کو تیار نہیں۔۔ چین کی لازوال دوستی نے امریکہ اور یورپ کی معاندانہ سوچ کے باوجود ہمارے راستے ہموار کئے ہیں۔۔ ۔ ہماری ترکی سے دوستی بھی ہے اور برادرانہ تعلقات بھی۔۔۔ بس ہماری حکومت نے طیب اردوان سے یہ نہیں سیکھا کہ مقروض ملک کو غیروں سے معاشی آزادی کیسے دلائی جاتی ہے۔۔ ملکی تاریخ کے ریکارڈ قرضے لے کر ایشئین ٹائیگر نہیں بنا جاسکتا بلکہ اس سے آئندہ پچاس سال کی نسلیں بھی غلام ہی پیدا ہوتی ہیں۔