چند دن بعد انشاللہ عید ہوگی اور اس سے پہلے چاند رات۔نوجوانوں کے لیے تو چاند رات ہی عید ہوتی ہے۔اس رات شیطان بھی مہینے بھر کی قید با مشقت کے بعد رہا ہوجاتا ہے اور نوجوانوں کو گائیڈ کرنے لگتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم رمضان کے مبارک مہینے میں شیطان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔
ہمیشہ کی طرح عید کے چاند کو دیکھنے کے لیے ہمارے مولوی صاحبان دوربین سنبھال لیتے ہیں مگر چاند کی ڈیلیوری ہی نہیں ہوپاتی۔ عید کا چاند ہمارے ہاں اتنی دیر میں نظر آتا ہے کہ عید کا مزہ ہی کرکرا ہوجاتا ہے۔پھر ایسے میں ہم بعض کاہلوں کو یہ فائدہ بھی ہوجاتا ہے کہ ایک دن تیاری کا اور مل جاتا ہے۔ہم ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس مرتبہ جلدی کپڑے سلوا لیں گے مگر
بقول منیر نیازی
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
بہت سے لوگ چاند رات پر چاند کو آسمان پر دیکھتے کے لیے چھت پر جاتے ہیں جبکہ بہت سوں کو اپنا چاندچھت پر ہی نظر آجاتا ہے۔
ناصر کاظمی کا شعر دیکھیے
جب سے دیکھا ہے تیرے ہات کا چاند
میں نے دیکھا نہیں رات کا چاند
پہلے لوگ منگیتر کے ساتھ بھی بازار میں گھوما کرتے تھے۔اب زمانہ بدل رہا ہے اور اب لوگ اپنے ویلنٹائن کے ساتھ بھی شاپنگ کرتے ہیں۔بازار میں بے انتہا رش ہوتا ہے۔ایک دوسرے کو دھکے دے کر نکلنا پڑتا ہے۔یعنی پل صراط سے گزرنا پڑتا ہےاور ہمارے کنوارے بار بار پل صراط سے گزرنے کو تیار رہتے ہیں اور اس دوران پولیس کے ڈنڈے اور خواتین کے سینڈل بھی کھاتے ہیں۔
جنگ کا ماحول ہے۔عالمی جنگ بھی دہلیز پر کھڑی ہے مگر ہم پاکستانیوں کی شاپنگ ختم نہیں ہوتی۔اب اس کو زندہ دلی کہیں یا بے وقوفی اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے
ناسخ کہتے ہیں کہ
زندگی زند ہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
رمضان کی رونقیں اور گھومنے پھرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ہم تو خود عید پر سونے کی تیاری کرتے ہیں۔نماز پڑھ کر عید ملنا اور پھر سو جانا ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔
سراہنے میر کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے رو تے سو گیا ہے
کچھ جوڑوں کی شادی کے بعد پہلی عید ہوتی ہے۔ جو بڑی رومینٹک ہوتی ہے۔ایک دوسرے کو گفٹ دینا۔ پیار بھری نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنا اور اشاروں اشاروں میں بات کرنا۔ اس دوران عام آدمی بھی شاعر بن جاتا ہے۔ عید کے حوالے سے کچھ شعر دیکھ لیجیے۔
فیض صاحب کا شعر ہے
یوں سجا چاند کے جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ
چاند پر ہمارا بھی ایک شعر دیکھیے
چاند دیکھا نہ ستارے دیکھے
ہم نے بس خواب تمھارے دیکھے
ادریس آزاد کا شعر ہے
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا
چاند کی عید ہوگئی ہوگی
پروین شاکر فرماتی ہیں کہ
رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند
عید کے موقع پر ﷲ کے بعد سب سے زیادہ ڈر درزی سے لگتا ہے۔ایک واقعہ یاد آرہا ہے وہ آپ سے شیئر کرتا ہوں۔ہمارے ایک دوست کے ساتھ بڑی کتے والی ہوئی۔ یہ پچھلے سال کا واقعہ ہے۔اس نے سوچا کہ عید کا جوڑا سلوایا جائے۔حالانکہ وہ اس سے پہلے ریڈی میڈ جوڑا خریدتا تھا مگر مصیبت گھر دیکھ کر تھوڑی آتی ہے۔اس نے عید سے دو ہفتے پہلے اپنا جوڑا سلنے کو دیا۔ درزی نے وہ جوڑا رکھ لیا چاند رات پر جب ہمارا دوست اپنا عید کا جوڑا لینے پہنچا تو معلوم ہوا کہ درزی دکان پر نہیں ہے۔ اب تو ہمارا دوست حیران پریشان ہوگیا بلکہ عین ممکن تھا کہ وہ اس جہان فانی سے کوچ کرجاتا ہم نے ہی اس کو سنبھالا اور مشورہ دیا کہ عید میں چند گھنٹے باقی ہیں اس درزی کے گھر پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہم اس کے گھر پر گئے تو وہ اتفاقا” بلکہ حادثاتا” ہمیں مل گیا۔
ہم اردو کے استاد ہیں ہمیں سچوئیشن دیکھ کر اشعار یاد آجاتے ہیں۔درزی کے مل جانے ہر ہمارے منہ سے شعر نکلا
اگر تو اتفاقا” مل بھی جائے
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
درزی نے ہمیں اس طرح دیکھا جیسے وہ ہمیں پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو اور ہم لوگ افغانستان کے شہر کابل سے آئے ہوں۔آخر کار درزی کی یاداشت واپس آہی گئی اور ہم سوئے دکان چلے دیے۔درزی کے دائیں طرف میں اور بائیں طرف ہمارا مظلوم دوست تھا اور بیچ میں وہ درزی تھا جو یرغمال ہو چکا تھا۔دکان پر پہنچ کر درزی نے کئی سوٹ دکھائے۔
یہ سوٹ تو نہیں ہے بھائی٬وہ سوٹ تو نہیں ہے بھائی۔
آخر کار سوٹ مل گیا۔میں خوشی سے چلایا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتی ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
دوسرے دن جب عید پر ہمارے دوست نے جوڑا پہنا تو معلوم ہوا کے دوست کی آستینیں قانون کے ہاتھوں سے بھی لمبی تھیں اور قمیص سینے سے اس قدر ٹائٹ تھی کہ ہمارے دوست نے سانس روک کر عید کی نماز پڑھی اور راستے میں ہی قمیص کا گریبان تار تار کردیا۔
میرے ذہن میں فیض کا شعر گردش کرنے لگا اور میں نے آہستہ سے شعر پڑھا۔
حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کہ گریباں کا تار تار چلے
ہمارا دوست پہلے ہی بھنا ہوا تھا۔اس نے مجھے غصے سے دیکھا اور چلا کر بولا شٹ اپ۔ اسی دوران ایک ماڈرن لڑکا کار سے اترا اور اس نے سو کا نوٹ ہمارے دوست کو بھیک میں دیا اور ہماری ہنسی چھوٹ گی.