عید، گاؤں اور لوٹتی ہوئی اپنائیت

عیدالفطر محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ خوشیوں، محبتوں اور رشتوں کو جوڑنے کا ایک خوبصورت موقع بھی ہے۔ اس بار عیدالفطر کے موقع پر گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تو دل کو ایک عجیب سی خوشی اور سکون نصیب ہوا۔ یہ عید گزشتہ کئی برسوں کی عیدوں سے مختلف اور کہیں زیادہ خوشگوار محسوس ہوئی۔

اس خوشگوار تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس مرتبہ بڑی تعداد میں لوگ شہروں سے اپنے آبائی علاقوں، اپنے گاؤں لوٹے۔ وہ لوگ جو روزگار، مصروفیات اور شہری زندگی کی تیز رفتاری میں اپنے رشتوں اور زمین سے دور ہو گئے تھے، عید کے بہانے ایک بار پھر اپنی جڑوں سے جڑتے نظر آئے۔

گاؤں کی گلیاں جو عام دنوں میں ویران دکھائی دیتی ہیں، اس عید پر رونقوں سے بھرپور تھیں۔ ہر طرف چہل پہل، بچوں کی ہنسی، بزرگوں کی محفلیں اور نوجوانوں کی گپ شپ نے ایک زندہ اور خوشحال معاشرے کی جھلک پیش کی۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں گئے، دعوتیں ہوئیں، پرانی یادیں تازہ کی گئیں اور دلوں میں جمی گرد صاف ہونے لگی۔

خاص طور پر ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ لوگوں کے درمیان موجود ناراضگیاں اور دوریاں کم ہوتی دکھائی دیں۔ کئی ایسے رشتے جو معمولی باتوں پر ٹوٹنے کے قریب تھے، عید کی برکت سے دوبارہ جڑتے نظر آئے۔ ایک دوسرے سے گلے ملنے، معافی مانگنے اور دل صاف کرنے کا یہ عمل نہ صرف انفرادی سطح پر سکون کا باعث بنا بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا نظر آیا۔

یہ لمحات محض وقتی خوشی تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ معاشرے میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور دکھ سکھ بانٹتے ہیں تو نفرت، حسد اور بداعتمادی کی جگہ محبت، احترام اور بھائی چارہ لے لیتا ہے۔

آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا نے بظاہر ہمیں قریب کر دیا ہے، وہیں حقیقت میں ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں عید جیسے مواقع ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل خوشی اسکرین کے پیچھے نہیں بلکہ اپنوں کے ساتھ بیٹھنے، بات کرنے اور وقت گزارنے میں ہے۔

یہ عید ہمیں ایک سبق دے کر گئی ہے کہ اگر ہم سال میں چند دن ہی سہی، اپنے گاؤں، اپنے بزرگوں اور اپنے رشتوں کو وقت دیں تو ہمارا معاشرہ کہیں زیادہ مضبوط، پرامن اور خوشحال بن سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عید کی اس روح کو صرف ایک دن یا چند دنوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم مستقل بنیادوں پر ایک دوسرے سے جڑے رہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔

عید کی یہ خوشگوار یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ہمارے گاؤں آج بھی محبت، اخلاص اور روایات کا مرکز ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان سے جڑے رہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے