’’پاکستان زندہ باد‘‘۔ ان تین الفاظ نے چار اپریل کو دنیا بھر کے میڈیا میں تہلکہ مچا دیا کیونکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان کا اختتام انہی تین الفاظ پر کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں ایرانی عوام تہران کی سڑکوں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں امریکی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو درست انداز میں پیش نہیں کر رہا۔ ہم قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے شکر گزار ہیں، لیکن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضمانت ضروری ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وزیر خارجہ نے جاری کیا جس کی کتاب کا نام ہی ’مذاکرات کی طاقت‘ ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ عباس عراقچی نے مذاکرات کے ذریعے امریکا سے معاملات طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ 2025ء اور پھر فروری 2026ء میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل رہے۔
2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا، اور 2026ء میں بھی مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے باوجود ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اب وہ ضمانت چاہتا ہے کہ تیسری بار ایسا نہیں ہوگا۔
عباس عراقچی کا مسئلہ پاکستان نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ایکس پر امریکی میڈیا کی خبروں کی تردید کی تو پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
عباس عراقچی کے بیان میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے الفاظ کا ایک طویل پس منظر ہے۔ وہ ان واقعات کے عینی شاہد ہیں جن میں پاکستان نے جنگ سے پہلے بھی اور جنگ کے بعد بھی امن کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے چند دن پہلے پاکستان نے پیغام بھیجا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار تہران آ کر ایران کی قیادت سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کو روکا جا سکے۔ تاہم، اس پیغام کا حتمی جواب آنے سے پہلے ہی جنگ شروع ہو گئی۔
جب جنگ شروع ہوئی تو اسحاق ڈار عمرے کے لیے سعودی عرب میں تھے۔ انہوں نے فوری طور پر ایران پر حملے کی مذمت کی۔ بعد میں جب ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو انہوں نے ان حملوں کی بھی مذمت کی اور توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
اسی دوران اسحاق ڈار نے ٹیلیفون پر عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور انہیں یاد دلایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، اس لیے ایران پاکستان کو مشکل میں نہ ڈالے۔ اس پر عراقچی نے یقین دہانی کرائی کہ اگر سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال نہ ہوئیں تو ایران بھی سعودی عرب کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
بعد ازاں 18 مارچ کو ریاض میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں جنگ بندی پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدن اور اسحاق ڈار کی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسی دوران عباس عراقچی سے بھی رابطہ ہوا اور تینوں کے درمیان اہم گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں کچھ ممالک ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانا چاہتے تھے، لیکن اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ صرف ایران نہیں بلکہ اسرائیل کی مذمت بھی ضروری ہے کیونکہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔ ترک وزیر خارجہ اور لبنان کے وزیر خارجہ یوسف راجی نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔
بحث کے دوران ایک خلیجی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، حتیٰ کہ ایٹمی حملے کی بات بھی کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ترکی نے مؤقف اختیار کیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
کافی بحث کے بعد مشترکہ بیان میں اسرائیل کی مذمت بھی شامل کی گئی۔ اس پیش رفت میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا اور دیگر ممالک کو قائل کیا۔
بعد ازاں اسلام آباد میں مزید اجلاس ہوئے، اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے پانچ نکاتی امن فارمولا پیش کیا۔ اس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد جیسے نکات شامل تھے۔
پاکستان اور چین کے اس امن فارمولے کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، جبکہ امریکی انتظامیہ اس پر دباؤ میں نظر آئی۔ یہی وہ سفارتی کوششیں ہیں جن کی وجہ سے عباس عراقچی نے اپنے بیان میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ شامل کیا۔