تباہی کے دہانے سے امن کی دہلیز تک: پاکستان کا ‘پیس میکر’ پروفائل

​ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی ہولناک جنگ کے بعد بالآخر دنیا نے سکون کا سانس لیا ہے اور ایک ایسی عالمی تباہی ٹل گئی ہے جو پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ تاریخ کے اوراق میں یہ مہینہ ہمیشہ ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ تھی اور ایران کے مدمقابل دو ایٹمی طاقتیں یعنی امریکہ اور اسرائیل صف آراء تھیں۔

یہ کوئی معمولی تصادم نہیں تھا بلکہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں عالمی طاقتوں کا توازن داؤ پر لگا ہوا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین بارود کے دھوئیں سے اٹی ہوئی تھی اور عالمی معیشت سکتہ کی کیفیت میں تھی، مگر عین اس وقت جب انگلیاں حتمی تباہی کے بٹن پر تھیں، ایک ایسی مداخلت ہوئی جس نے نہ صرف بندوقوں کے دہانے موڑ دیے بلکہ عالمی سیاست کے مروجہ اصولوں کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ اس سارے بحران میں، جہاں بارود کی بو اور ایٹمی خطرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، وہاں سب سے اہم پہلو وہ ‘فیس سیونگ’ یعنی عزت بچانے کا راستہ تھا جو ایران اور اس کے مخالف ایٹمی اتحاد دونوں کو درکار تھا، اور یہ باوقار راستہ پاکستان نے فراہم کیا۔ آج دنیا بھر میں پاکستان کا امیج اچانک ایک ‘ٹربل میکر’ سے بدل کر ‘پیس میکر’ کے طور پر ابھرا ہے، جو کہ ہماری سفارتی تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ہے جسے آنے والی کئی دہائیوں تک ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

​انسانی نفسیات اور بین الاقوامی سیاست میں اکثر جنگیں صرف وسائل یا زمین کے لیے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے ‘انا’ کا ایک بہت بڑا پہاڑ کھڑا ہوتا ہے۔ لڑائی میں ہمیشہ ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب دونوں فریق جسمانی اور مالی طور پر تھک چکے ہوتے ہیں، ان کے پاس موجود اسلحے کے ذخائر جواب دے رہے ہوتے ہیں اور جانی نقصان کی شرح ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتا ہے، مگر ان کی ‘انا’ نہیں تھکتی۔ وہ دونوں لہولہان ہو کر رکنا بھی چاہتے ہیں اور خاموشی سے جنگ ختم کرنے کے دلی طور پر خواہش مند بھی ہوتے ہیں، لیکن محض اس سماجی اور سیاسی ڈر سے قدم پیچھے نہیں ہٹا پاتے کہ "لوگ کیا کہیں گے”۔

انہیں مسلسل یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ اگر وہ پہلے پیچھے ہٹے تو دنیا انہیں بزدل سمجھے گی، ان کے اتحادی انہیں مغلوب خیال کریں گے یا یہ تاثر جائے گا کہ انہوں نے دشمن کی شرائط پر سرنڈر کر دیا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی گرہ تھی جو اس ایک ماہ کی طویل جنگ میں ایران اور اس کے مخالف ایٹمی اتحاد کے درمیان حائل تھی۔ ایران اپنی ڈھائی ہزار سالہ قدیم تہذیب، اپنی غیرت اور اپنے مزاحمتی نظریے کے اس زعم پر کھڑا تھا جو اسے کسی بھی صورت یکطرفہ جنگ بندی قبول کرنے سے روک رہا تھا، تو دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل جیسی ایٹمی قوتیں تھیں، جن کا عالمی اسٹیٹس اور اعتبار خطرے میں تھا۔

ایران اپنے عوام کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ اس نے بڑی ایٹمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے ساتھی دنیا کے سامنے خود کو اتنا کمزور نہیں دکھانا چاہتے تھے کہ کوئی یہ کہے کہ وہ ایک علاقائی طاقت کے سامنے بے بس ہو گئے۔ میرے تجزیے کے مطابق، یہ ہولناک جنگ بہت پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی اگر یہ ‘انا کی دیوار’ بیچ میں نہ ہوتی۔ دونوں اطراف کسی ایسے معجزے یا کسی ایسی فیس سیونگ کی تلاش میں تھے جس کی آڑ لے کر وہ میدان سے ہٹ سکیں اور کوئی انہیں ہارا ہوا نہ سمجھے۔

​پاکستان نے اس عالمی بحران میں وہی مخلصانہ اور مدبرانہ رول ادا کیا ہے جس کی تاریخ میں مثال کم ملتی ہے۔ ایران اور اس کے مخالفین دونوں اس خونی دلدل سے نکلنا چاہتے تھے اور پاکستان نے عین وقت پر آگے بڑھ کر ان دونوں کو اپنے کندھے پیش کر دیے تاکہ وہ اپنی تھکن کو سفارتی مجبوری کا رنگ دے سکیں۔ پاکستان نے انہیں وہ اخلاقی اور تزویراتی جواز فراہم کیا جس کی آڑ میں وہ میدانِ جنگ سے باہر نکل سکیں۔ پاکستان نے انہیں یہ موقع دیا کہ وہ اپنے اپنے دارالحکومتوں میں جا کر یہ بیانیہ دے سکیں کہ "ہم تو دشمن کو مٹانے کے قریب تھے، لیکن کیا کریں کہ پاکستان ہمارے منت ترلے پر اتر آیا، ہمیں پرانے تعلقات، مشترکہ مذہب، اور دیرینہ دوستی کا واسطہ دیا تو ہمیں ایک برادر ایٹمی قوت کی لاج رکھتے ہوئے ان کی بات ماننا پڑی”۔ اس طرح فریقین کی انا بھی بچ گئی اور دنیا ایک ایسے ایٹمی ہولوکاسٹ سے محفوظ رہی جو پوری زمین کو راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا تھا۔

​اس عظیم سفارتی کامیابی میں اگرچہ مصر، ترکی اور چین کا بھی اپنا رول ہے، لیکن جس طرح پاکستان نے فرنٹ لائن پر آ کر ایک پل کا کردار ادا کیا، وہ بے مثال ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر وہ وقار عطا کیا ہے جو ہم برسوں پہلے کھو چکے تھے۔ مجھے اس امن کی بحالی سے ہٹ کر ایک اور جو سب سے بڑی قلبی خوشی ہے، وہ یہ ہے کہ آج تک پاکستان کو دنیا بھر میں ایک ‘ٹربل میکر’ (فساد پرور) کے طور پر جانا جاتا تھا، مگر پہلی دفعہ تاریخ کے دھارے نے رخ بدلا ہے اور پاکستان ایک ‘پیس میکر’ کے طور پر ابھرا ہے۔ ہم نے ان برسوں میں بہت کچھ بھگتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا، تو شک کی سوئی پاکستان کی طرف گھوم جاتی۔ ایئرپورٹ پر ہمارا سبز پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن حکام کی آنکھوں میں مشکوک تاثر ابھر آتا تھا۔ ہمیں تلاشیوں کے لیے سائیڈ پر لے جایا جاتا جیسے ہم ناقابلِ اعتبار ہوں۔

​لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران بدلی ہوئی پالیسیوں اور اس حالیہ جنگ کے خاتمے میں ہمارے کلیدی کردار کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اب جب ایک پاکستانی بیرونِ ملک ٹریول کرتا ہے، تو اسے ان سابقہ مشکوک آنکھوں میں ایک واضح احترام اور ستائش کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اب امیگریشن افسر ہمارے پاسپورٹ کو شک کی بنیاد پر بار بار نہیں دیکھتا، بلکہ اب دنیا ہمیں ایک ایسی ذمہ دار قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے جس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے۔ پہلی دفعہ ہمیں وہ حقیقی اہمیت ملی ہے جس کے ہم حقدار تھے، کیونکہ اب دنیا ہمیں ‘اہم’ سمجھ رہی ہے۔ پاکستان اور تمام پاکستانیوں کو ‘ٹربل میکر’ سے ‘پیس میکر’ تک کا یہ تاریخی اور باوقار سفر بہت بہت مبارک ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس عالمی اعتبار کو اپنی معاشی خوشحالی کے لیے استعمال کریں اور پوری دنیا کو دکھا دیں کہ پاکستان امن کا سب سے مضبوط مسافر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے