والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ

آج کے جدید دور میں جہاں زندگی نے بہت ترقی کی ہے، وہیں کچھ ایسے مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں جو پہلے اتنے نمایاں نہیں تھے۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور ذہنی بھی ہوتا جا رہا ہے۔

پہلے زمانے میں گھر صرف رہائش کی جگہ نہیں بلکہ محبت، رہنمائی اور تربیت کا مرکز ہوتا تھا۔ بچے اپنے والدین کے قریب ہوتے تھے، اپنے مسائل ان سے شیئر کرتے تھے اور ہر اہم فیصلہ ان کی مشاورت سے کیا جاتا تھا۔ لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے۔

موبائل فون، سوشل میڈیا اور مصروف طرزِ زندگی نے گھروں کے اندر بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ بچے اپنے ہی کمرے میں ہوتے ہیں مگر زیادہ وقت اسکرین کے ساتھ گزارتے ہیں، جبکہ والدین اپنی ذمہ داریوں اور مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دلوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

اس فاصلے کی ایک بڑی وجہ سمجھ کی کمی بھی ہے۔ والدین اکثر اپنے وقت کے مطابق سوچتے ہیں جبکہ بچے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ آج کل بچے اپنے مسائل والدین کے بجائے دوستوں یا سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ اس سے والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں اور ان کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کا احترام کریں اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم نے اس بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم نہ کیا تو آنے والی نسلوں میں خاندانی نظام مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ محبت، برداشت اور مکالمہ ہی اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے